ووٹ فروشی کی گواہی
22 اپریل 2018 2018-04-22

گواہی تو اپنے گھر سے آئی ہے۔پانچ سالہ اتحادی سے۔ وہ جن کے ساتھ مل کر وزارتیں چلائیں۔ صوبہ کا انتظام سنبھالا۔ اب یہ تو ہو گا کہ دو چار تردیدی بیان آئینگے۔ہر پارٹی کی ترجمانی کا اعزازا ور تجربہ حاصل کر کے، اس شعبہ میں اوج کمال کو پہنچے، ترجمان نے تو چارج شیٹ جاری بھی کر دی۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ گواہی دینے والا لیڈر صالحین کی جماعت کا سربراہ ہی نہیں خود بھی سر ٹیفائیڈ صادق اور امین ہے۔ قلمکار کو جج اور بینچ یاد نہیں شاید پانامہ کیس کی سماعت تھی۔ایک فاضل جج نے ریمارکس دیے تھے کہ سارے پاکستان میں سیاسی لیڈر وں میں سراج الحق ہی صادق اور امین کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔یہ وہی سراج الحق ہیں جو اچانک بولے ہیں۔ اور پردوں کے پیچھے پوشیدہ حقائق بے نقاب کردیے۔اب یا تو گواہی رد کی جائے یا پھر جو کہا وہ تسلیم۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں چیئر مین ڈپٹی چیئر مین کیلئے حمایت کا حکم اوپر سے آیا۔یاد رہے کہ چیئر مین سینیٹ تو ویسے ہی آزاد ہیں۔البتہ ڈپٹی چیئر مین کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بھائی بھائی بن جانے کا حکم کہاں جاری ہوا۔اس کا جواب جناب قائد تبدیلی دینگے یا پھر ان کے ہونہار وزیر اعلیٰ جناب پروز خٹک۔جناب سراج الحق تو نام بتانے سے رہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات صرف ایک ہفتے کے اند ر اندر ہی تنازعات کا شکار ہو گئے۔ویسے تو معاملہ ٹھپ ہو چکا تھا۔عوام الناس بھول بھال کر معمو لات زندگی میں مگن ہو چکے تھے۔ہر روز نئی خبروں کی بھر مار میں کون سیاسی ایونٹس کو یاد رکھے۔رات گئی،بات گئی۔ دیوانے ووٹرز تو بھول بھی گئے تھے کہ صاف شفاف جماعت نے اچانک صحیح فیصلہ کیا اور اپنے گیارہ قیمتی ووٹ آصف زرداری کے حوالے کر دیے۔یہ تو کپتان تھا جس نے اچانک سینیٹ کے الیکشن کی بھولی بسری کہانی یاد کرا دی۔ مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کے چاہنے والے بہت ہیں۔ہزاروں نہیں لاکھوں۔جو ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔جو کہہ دیا وہ حرف آخر۔بحث مباحثہ کی گنجائش ہے نہ سوال جواب کا موقع۔اچانک ایک شام اپنے طائفے کے ہمراہ پریس کانفرنس کھڑ کا دی۔لسٹ ہوا میں لہرائی۔جس میں نام میڈیا کو دیے۔الزام تھا کہ ان بیس ارکان صوبائی اسمبلی نے ووٹ فروشی کی ۔اپنا ووٹ کسی دوسرے امیدوار کو فروخت کر دیا۔ایک باریک سا نکتہ اس روزسے ذہن میں کھٹکتا ہے۔ ابھی تک جواب نہیں ملا۔یہ ووٹ فروشی کب ہوئی۔سینیٹ کے الیکشن کے روز یا چیئر مین و ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کے دن۔ بات ذرا پیچیدگی کی طرف چلی جائے گی۔پی ٹی آئی نے سینیٹ الیکشن میں پانچ امید وار کھڑے کیے۔ وہ پانچوں جیتے۔ البتہ ایک آزاد امیدوار مولانا سمیع الحق تھے۔وہ الیکشن ہار گئے۔شاید ارکان صوبائی اسمبلی نے اس نادر شاہی کا حکم پر بغاوت کر دی ہو۔کیونکہ پی ٹی آئی کی جو پانچ نشستیں بنتی تھیں وہ تو جیت لی گئیں۔ویسے بھی چیئر مین و ڈپٹی چیئر مین کے الیکشن میں تو جو ہوا علی الاعلان ہوا۔کپتان کی مرضی و منشا سے کامیابی پر مبارکبادیں وصول کیں۔ مٹھا یاں کھا لی گئیں۔اس روز سے آج تک بلوچستان کے عوام کو اتنی تیزی سے حقوق مل رہے ہیں کہ ان کے پاس سنبھال کر رکھنے کی جگہ بھی نہیں رہی۔ کپتان سادہ ذہن سنگل ٹریک مخلص لیڈر ہیں۔پریس کانفرنس کرتے وقت ان کو اندازہ نہ تھا سوال جواب بھی ہوں گے۔ ریکارڈ بھی کھنگالا جائے گا۔لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔پریس کانفرنس کے دوران تو اختیار تھا سوال کرنے والے کوٹیکنیکل ناک آؤٹ کر دیا گیا۔پریس کانفرنس ختم ہوئی۔برقی سکرینوں پر خصوصی نشریات تیار۔انگلش زبان کے عالمی سطح کے مبصر تیار بیٹھے تھے۔اس تاریخ ساز فیصلے کے محاسن گنوانے۔سوشل میڈیا پر ٹرینڈ سازی کیلئے بھی رضا کار فورس تیار تھی۔ بے خبر عوام کو دانشور نے بتایا کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بیس ممبران اسمبلی کو نکال دیا گیا ہو۔اب مسئلہ دانشورکا یہ ہے کہ ایک دفعہ مسلم لیگ (ن) کا ایم پی اے،ایک دفعہ ایم این اے رہنے کے باوجود ان کو سچی محبت نہیں ملی۔حلقے میں وہ رہتے نہیں۔رہیں تو کسی سکینڈل میں الجھ جاتے ہیں۔اب دانشور موصوف خود یا اپنے ولی عہد کیلئے ٹکٹ کے امید وار ہیں۔اور آج کل پی ٹی آئی کا ٹکٹ فیورٹ ہے۔ لہٰذا جوش خطابت میں ناظرین کو بہت سی باتیں بتا نا بھول گئے۔کچھ تحقیق کر لی ہو تی تو پتہ ہوتا کہ دھتکارے ہوئے کتنے ارکان صوبائی اسمبلی آزاد ہیں۔کتنے پہلے ہی پارٹی چھوڑ گئے۔کتنے جناب وزیر اعلیٰ کی مخالفین میں شامل ہیں۔اتنا ہی چیک کر الیتے کہ شوکاز نوٹس دینے اور پارٹی سے نکال دینے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔بہر حال پہلا روز کپتان اور تحریک انصاف کا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ جواب ابواب آنا شروع ہوا۔کہانیاں منظر عام پر آنے لگیں۔ایک تھیوری آئی کہ جناب وزیر اعلیٰ ایوان میں اکثریت کھو بیٹھے تھے۔شاید بجٹ پاس کرانا مشکل ہو جاتا۔لہٰذا دو انقلابی فیصلے کیے گئے۔بجٹ پیش ہی نہ کیا جائے اور وفاقی حکومت کو بھی چیلنج کیا جائے کہ وہ بھی ایسا نہ کرے۔ذمہ داری سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔واہ واہ بھی ہو گی۔دوسرا ارکان صوبائی اسمبلی کو نکال باہر کیا جائے۔دونوں انقلابی فیصلوں پر عمل در آمد ہوا۔وفاقی حکومت تو بجٹ پیش نہ کرنے والے جھانسہ میں نہ آئی۔البتہ ووٹ فروشی کے ڈرامے کی پہلی قسط نے خوب ریٹنگ لی۔اگلی قسطیں آنے تک۔ بہر حال کھڑکی توڑ رش ٹوٹ رہا ہے۔کیونکہ عوام الناس کی یاد داشت اتنی بھی کمزور نہیں۔ سب کونہیں تو کچھ سر پھروں کو یاد رہے کہ تین سال پہلے بھی سینیٹ کے انتخابات ہوئے تھے۔جناب خٹک صاحب کا بیان ریکارڈ یہ ہے کہ ان کی پارٹی کے ارکان نے ووٹ بیچے۔لیکن ایکشن نہ ہوا۔کیونکہ حکومت چلانی تھی۔جو کہ جماعت اسلامی،آزاد، صوابی گروپ اور آفتاب شیر پاؤ کے ووٹوں کے سہارے لٹکی ہوئی تھی۔ اپنی ہی جماعت کے ارکان کے خلاف کارروائی کر دی جاتی تو گلشن کا نظام کیسے چلتا۔ساڑھے چار سالوں میں ایک ایک کر کے اتحادی الگ ہوتے رہے۔ ارکان اسمبلی پرویز خٹک کے متعلق شکایتیں لیکر آتے کپتان سنی ان سنی کر دیتا۔جن چند نظریاتی کارکنوں کو اسمبلی تک رسائی ملی وہ ایلیٹ کلاس ممبران کے سامنے بے بس تھے۔لہٰذا پارلیمانی مدت پوری ہونے تک کئی ایک ساتھ چھوڑ گئے۔ کئی ایک کو ہٹا ددیا گیا۔ایک باری کافی ہے۔اگلی باری کسی اور کی ہے۔ ووٹ بیچنے کا الزام تھا اور شو کاز نوٹس جاری۔ گزشتہ الیکشن میں ووٹ بیچا تو معافی۔سینیٹ میں پوری جماعت کا ووٹ بھی آصف زرداری کی جھولی میں چلا گیا تو اس کی خیر ہے۔2013 کے عام انتخابات میں ٹکٹیں بکیں۔کپتان خود تسلیم کرتا ہے۔کس نے بیچیں کس نے خریدیں کوئی نام منظر عام پر آیا نہیں۔پارٹی کے تنظیمی انتخابات ہوئے۔الزامات کی بھر مار ہوئی۔گریبان تک پھٹے۔جسٹس وجیہہ الدین اور تسنیم نورانی ایسی محترم شخصیات نے انکوائری کی ۔ پارٹی انتخابات میں جعلی رکنیت سازی پیسوں کے ذریعے عہدے خریدنے کا الزام ثابت ہوا۔جسٹس وجیہہ الدین نے گستاخی کی اور پارٹی سیکرٹری جنرل کو طلب کر لیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ سابق جج کو رخصت جبری پر بھیج دیا گیا۔کپتان نے اعلان کیا کہ جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ آیا تووہ پارٹی میں عہدے پر نہیں رہیں گے۔فیصلہ کب کا آچکا۔پارٹی سیکرٹری جنرل کا عہدہ ابھی تک خالی ہے۔جہانگیر ترین اب ٹکٹیں بانٹ رہے ہیں۔جن ارکان اسمبلی کو شوکاز جاری کیا تھا۔انکی اکثریت تردید کر چکی۔گئی تو قرآن پاک پرحلف اٹھا کر اپنی بے گناہی کا واویلا کر رہے ہیں۔

کپتان نے 2013ء میں فلسفہ دیا تھا کہ ٹیم کیپٹن دیانتدار ہو تو ٹیم بدعنوانی نہیں کر سکتی۔پرانے الزامات کو چھوڑ دیں۔پونے پانچ سالوں میں 40 رکنی ٹیم میں سے 20 ووٹ فروش نکل آئیں تو اس ٹیم نے کیسے کیسے گل نہیں کھلائے ہوں گے۔


ای پیپر