40 ہنگامہ خیز دن
22 اپریل 2018 2018-04-22

موسم بدلا رت گدرائی صحن چمن ’’ویران‘‘ ہوئے اب دیکھ بہاریں موسم کی، دیکھ تو رہے ہیں، آخری 40 دن رہ گئے پتے ابھی سے تن آور درختوں کا ساتھ چھوڑنے لگے ہیں ،گیارہ دنوں میں9 پرندے اڑ گئے ،موسم بہار دیکھ لیا خزاں میں کون بسیرا کرے ’’بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘‘ سیاسی جماعتوں کا برا حال ہے تہی دامن ہو رہی ہیں قحط الرجال کا سامنا ہے۔ جہاں دیکھی توا پرات وہیں گزاری ساری رات پانچ سال حلوہ کھاتے رہے دیگ خالی ہونے لگی تو بکل مار کر شہر پناہ سے باہر نکل گئے ،جاتی رت نے کیا دن دکھائے بڑھ گئیں ’’گھاتیں‘‘ گھٹ گئے سائے، قوم کے سر سے گھنے سائے ختم کردیے گئے قوم بے آسرا آوارہ پتوں کی طرح بھٹک رہی ہے، پانچ سالہ حکمرانی کا صلہ کیا ملا، نا اہلی کاتمغہ ،کرپشن کا داغ ،کہتے ہیں ایک داغ نہیں پورا دامن داغدار ہے بقول منظر بھوپالی۔
خالی دامن ہیں یہاں پیڑ لگانے والے
اور دامن میں لٹیروں کے ثمر آتا ہے
حکمرانوں کو یہ دن یہ موسم زندگی بھر یاد رہیں گے خون کے آنسورلائیں گے، اقامہ، پانامہ، پیشیاں روزانہ، اللہ انہیں زندگی دے آئندہ بھی یہ دن یاد کر کے نواز شریف کہا کریں گے ’’دل دکھانے کی بات کرتے ہو، کس زمانے کی بات کرتے ہو۔‘‘ باتیں ختم ہونے والی نہیں، فیصلے آنے والے ہیں آتے رہیں گے باتیں ہوتی رہیں گی، ایک سینئر وکیل احسان وائیں کے بقول وکلا کی اکثریت کو تحفظات ہیں تحفظات سے کیا فرق پڑتا ہے، وقت کی رفتار کم نہیں کی جاسکتی، یہ تو بتائیے کہ منتخب وزیر اعظم کی نا اہلی کے بعد ملک پر کس کی حکومت ہے، ہنس کر بولے، عقل کے دشمن، کیا نہیں معلوم ن لیگ ہی بر سر اقتدار ہے آخری 40 دن پورے کر رہی ہے۔ لیکن ن لیگ تو اپوزیشن میں ہے، نواز شریف، مریم نواز، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، سعد رفیق سمیت پوری کابینہ کام کاج چھوڑ کر مخالفبیانات دے رہی ہے پیشیاں بھگت رہی ہے کیسے حکمران ہیں جن پر فرد جرم عائد ہو رہی ہے ’’سمجھ گیا تب عمران خان اور ان کے سیاسی گرو گھنٹال شیخ رشید کی حکومت ہوگی دیکھا نہیں ان کی ہر بات دل کے کانوں سے سنی جاتی ہے ٹویٹ تک نظر انداز نہیں کی جاتی‘‘ او بھائی 32 یا 33 سیٹوں پر کون حکومت کرے گا حکومت سازی کے لیے کم از کم 173 سیٹیں درکار ہیں کس کے پاس ہیں آصف زرداری اگر چہ’’ گرین لائن ‘‘کے مسافر بن گئے ہیں لیکن 58 سیٹوں کے ساتھ پوری ٹرین پر قبضہ ’’ناں ناں بابا ناں‘‘ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں، پھر بتائیں کس کی حکومت ہے کیوں پہیلیاں بجھوا رہے ہیں‘‘ ہنس کر بولے ’’نادیدہ قوتوں کی سپر حکومت ہے، آئین عملا معطل ،کہنے کو شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم لیکناحکامات اوپر سے نازل ہوتے ہیں منتخب قیادت کھڈے لائن لگا دی گئی، حالانکہ دیوار سے لگانے کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلتے، یاروں نے سقوط ڈھاکہ سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا جب ہی تو ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے اگر چہ پیپلز پارٹی کو نواز شریف کا یہ بیانیہ بھی اچھا نہیں لگا ترجمان کے مطابق نواز شریف کے منہ سے یہ بات اچھی نہیں لگتی، ترجمان کی ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ کہ نواز شریف روز اول سے پارلیمنٹ کو عزت دیتے ووٹروں پر توجہ دیتے تو ہر ادارہ ووٹ کی قدر کرتا خود بخود ووٹ کو عزت حاصل ہوجاتی، تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے، در بدر ہونے اور روز روز پیشیاں بھگتنے کی نوبت نہ آتی استثنیٰ کی ہر درخواست مسترد نہ ہوتی، کیا مشکل ہے کہ بیمار اہلیہ کی تیماداری کی بھی مہلت نہیں دی جار ہی کتنے ریفرنس دائر ہوگئے پیدائش سے جوانی، جوانی سے تعلیم، کرکٹ، سیاست، کہیں تو کرپشن ہوئی ہوگی تین مزید ریفرنس دائر ہوسکتے ہیں پانامہ کیس بھی خود ہی عدالت میں لے کر گئے کیا پارلیمنٹ میں اس کا فیصلہ نہیں ہوسکتا تھا؟ اپنے قبیلہ میں لڑائیہو تو کہیں نہ کہیں بیچ بچاؤ کی گنجائش ہوتی ہے دیگر جگہوں پر سینگ پھنسانے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پارلیمنٹ سپریم ہے تو اسے تماشا بنانے کی بجائے سپریم بنایا جائے اسی میں سب کی عافیت ہے دیگر ادارے جو آئینی لحاظ سے پارلیمنٹ کے تابع ہیں اپنا اپنا کام کریں اب پنڈورا بکس کل گیا تو اس میں سے سانپ بچھو بلکہ دو چار اژدھے بھی برآمد ہو رہے ہیں ڈس بھی رہے ہیں زہر پوری قوم کی رگوں میں پھیل رہا ہے، پتا ہے نادیدہ ہاتھوں نے کیا گل کھلائے، سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جو کچھ ہوا اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں بقول عمران خان میرے 20 ایم پی اے بکاؤ مال نکلے شناخت ہوگئی شوکاز نوٹس دے دیے چار چار کروڑ میں ضمیر بیچ دیے معاملہ گھمبیر ہو رہا ہے سینیٹ کے انتخابات خصوصاً چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر سوالیہ نشان لگ گیا ،جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بروقت آواز اٹھا دی کہ ووٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ فلاں فلاں کو ووٹ دینے کا اوپر سے آرڈر آیا ہے بقول شخصے۔
پھر ایک موڑ کہانی میں آگیا ایسا
کہ جس میں مرکزی کردار تھا برائے فروخت
پی ٹی آئی کے ترجمانوں بلکہ سب کے مشترکہ ترجمان کو بات بہت بری لگی انہوں نے اس بات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا، سراج الحق کیوں جھوٹ بولیں گے سپریم کورٹ سیاستدانوں کے جھرمٹ میں انہیں واحد صادق اور امین قرار دے چکی ہے ترجمانوں کے خلاف تو توہین عدالت کا کیس بن سکتا ہے سچی بات منہ سے نکل گئی یہ چوہدری شجاعت والا ’’سچ‘‘ نہیں سراج الحق والا سچ ہے جو جھوٹ نہیں ہوسکتا ،کئی سوال پیداہوگئے، ووٹ بیچنے والے پارٹی سے خارج تو خریدنے والوں کا کیا مستقبل ہوگا ،چوہدری سرور نے پنجاب اسمبلی سے گیارہ ایم پی ایز کے ووٹ خریدے کروڑوں روپے دیے ہوں گے انہیں کون نکالے گا، نکال دیا تو بڑی ٹریجڈی ہوگی پہلے ہی گورنر ہاؤس کی ’’جنت‘‘ سے نکل کر پچھتا رہے ہیں عمران خان نے خودبھی ووٹ نہیں دیا تھا جان بوجھ کر غیر حاضر ہوئے یا پھر 40 کروڑ کا کوئی چکر تھا میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو۔ 20 ارکان نکال بھی دیے گئے تو آخری 40 دنوں میں کیا فرق پڑے گا لیکن ’’گندی مچھلیاں‘‘ بنی گالہ کے پورے تالاب کو تو گندہ کردیں گی ’’اوپر کے آرڈر‘‘ پر منتخب ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا کیا ہوگا سینیٹ الیکشن کی قانونی حیثیت داؤ پر لگ گئی، دیکھا نادیدہ قوتوں کی سپر حکومت نے کیا گل کھلائے، اسے چھوڑیے ان آخری 40دنوں میں جو فتنہ انگیز اور ہنگامہ خیز ہیں نگراں حکومت کے لیے مہرے تلاش کیے جائیں گے سارے افسر تبدیل، ڈی سی اوز گھر بھیج دیے جائیں گے کہنے کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے نگراں وزیر اعظم کا نام فائنل کرلیا، وزرائے اعلیٰ کے ناموں پر مشاورت کی جا رہی ہے لیکن سارا فضول عمل، بے کار مشق، جسے پیا چاہے وہی سہاگن ہو، اوپر سے منظوری کے بعد ہی نگراں حکومت بنے گی جو آئین کے مطابق 60 روز میں انتخابات کرانے کی پابند ہوگی، لیکن اس پابندی کا اطلاق سپر گورنمنٹ پر کیسے ہوگا ممکن ہے نگراں حکومت دو چار سال چلانے کی کہیں پر منصوبہ بندی کرلی گئی
ہو، ایک ناچیز مشورہ حاضر خدمت گر قبول افتد، انتخابات، پارلیمنٹ، حکومتیں ان تمام آئینی اداروں اور ذمہ داروں پر اربوں کھربوں کے اخراجات، اربوں خرچ کر کے منتخب حکومت چشم زدن میں ملیا میٹ قوم کو کیا حاصل ہوا یہی اربوں کھربوں کی رقم ملکی ترقی پر خرچ کی جائے تمام سیاستدانوں کو با عزت ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے یا پھر تا حیات نا اہل قرار دے دیا جائے نظام حکومت چلانے کے لیے اوپر والوں کی مرضی سے 20 یا 25 منظور نظر ٹیکنو کریٹس یا بیورو کریٹس پر مشتمل ’’مشترکہ مفادات کونسل‘‘ تشکیل دے دی جائے ان سب ’’فرشتوں‘‘ کے مفادات مشترک ہوں گے اس لیے لڑائی جھگڑے اور واک آؤٹ جیسی فضول چیزوں سے نجات مل جائے گی یہ ارکان آزمودہ اور (Approved) تصدیق شدہ ’’صادق اور امین‘‘ ہوں گے ملک کی باگ ڈور ان کے سپرد کردی جائے نادیدہ قوتوں کی سپر پاور ان کی محافظ اور نگراں ہوگی جو بھٹکا وہ گیٹ آؤٹ ہمیشہ کے لیے نا اہل دوسرا مہرہ شامل اربوں کھربوں کے اخراجات سے نجات، ملک ترقی کرے گا آزمائش شرط ہے۔


ای پیپر