یہ سب کیا ہے۔۔۔؟
22 اپریل 2018 2018-04-22

اسے ملک و قوم کی بدقسمتی سمجھا جائے یاکچھ اور نام دیا جائے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں ایک طرح کی بحرانی کیفیت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اہم حکومتی شخصیات اور حکومتی اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران کے درمیان بد اعتمادی ، بد گمانی اور شکوک و شبہات کی فضا ہی نہیں پروان چڑھ چکی ہے بلکہ ایک دوسرے کے بارے میں مخالفانہ بیان بازی اور الزام تراشی کا کلچر بھی دن بدن پھیلتا جا رہا ہے ۔ بعض اوقات ایسے لگتا ہے کہ اعلیٰ حکومتی اور ریاستی اداروں کے عہدیداران اور ذمہ داران ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی باقاعدہ مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عزت مآب میاں ثاقب نثار کی طرف سے از خود نوٹس (سوموٹو) کیسز کی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس تواتر کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں جن سے اہم حکومتی اداروں اور عہدیداروں پر عدم اعتماد اور اُن کی کارکردگی پر سوالات ہی نہیں اُٹھائے جاتے ہیں بلکہ ایسی منظر کشی بھی سامنے آتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طرف بدعنوانی ، خرابی ، نااہلی اور لوٹ مار کابازار گرم ہے ۔ نیب کے ذمہ داران بالخصوص اس کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بھی بیان بازی میں پیچھے رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان داغنا ضروری سمجھتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف فتوحات کے نئے سے نئے ریکارڈ ہی قائم نہیں کر رہا ہے بلکہ بد عنوانی ، لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث افراد کے کشتوں کے پُشتے بھی لگا رہا ہے ۔عزت مآب چئیرمین نیب کا یہ ارشاد کہ کوئی ایسا مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو نیب کو ہدایات دے کیا ظاہر کرتا ہے ؟ اپنی جگہ پر یہ صورتحال کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہے لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ ن میں شامل بعض شخصیات اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف ،اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور اُن کے کچھ قریبی ساتھیوں کی طرف سے اختیار کردہ بیانیہ جس میں اداروں سے ٹکراؤ اور محاذ آرائی کا پہلو واضح جھلکتا نظر آتا ہے اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے ۔

یہ درست ہے کہ حکومتی شخصیات اور عہدیداروں کی کارکردگی اگر مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اُترتی تو اس پر سوالات بھی اُٹھتے ہیں اور اسکو زیرِ بحث بھی لایا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح اختیارات کے ناجائز استعمال اور حکومتی امور کو چلانے کے لیے کیے جانے والے فیصلوں پر بھی تحفظات اور اعتراضات کا اظہار سامنے آ سکتا ہے اور اُن کے بارے میں جوابدہی ہو سکتی ہے ۔ افسر شاہی اور بیوروکریسی کے کردار اور ان کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی چیک کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سب اور اسی طرح کے دوسرے امور اگر قانون و آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے معمول کے مطابق اور تسلسل کے ساتھ ایک منضبط اور منظم انداز میں مانیٹر اور چیک ہوتے رہیں اور کوتاہی کے مرتکب افراد کی باز پُرس ہوتی رہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح عدالتی فیصلوں اوراعلیٰ عدلیہ کے عزت مآب ججز کی طرف سے دئیے جانے والے ریمارکس کے بارے میں بھی حقیقت پسندانہ خیال آرائی اور مثبت تبصرے اور تجزیے کیے جا سکتے ہیں اس پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس پر گرفت کی جاسکتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اندر بد اعتمادی، بد گمانی اور کشتوں کے پُشتے لگانے اور کڑاکے نکال دینے کی ایسی فضا پروان چڑھ چکی ہے جس سے واضح طور پر یہ دیکھائی دیتا ہے کہ بعض حلقے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے ہر جائز اور ناجائز لائحہ عمل کو روا سمجھتے ہیں۔

ملک میں بدگمانی ، بد اعتمادی اور ایک طرح کی افراتفری اور غیر یقینی کی فضا کس حد تک جڑیں پکڑ چکی ہے اس کا اندازہ رواں ہفتے کے بعض اہم واقعات اور اُن کے بارے میں بیانات اور جوابی بیانات اور میڈیا میں آنے والی خبروں کے اجمالی جائزے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ اتوار کو خبر آئی کہ لاہور میں سپریم کورٹ کے عزت مآب جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ ہوئی اور گولیوں کے دو خول ملے۔ پولیس کے مطابق 9MM پستول کی ایک گولی مرکزی دروازے اور دوسری کیچن کی کھڑکی میں لگی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جو لاہور میں ہی موجود تھے فوراً موقع پر پہنچ گئے اور آئی جی پولیس پنجاب کو طلب کر لیا۔ جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی اورمزید کاروائی شروع کر دی گئی ۔ یہ سب کچھ کیا جانا ضروری تھا لیکن اس کے بعد جو بیان بازی شروع ہوئی کچھ معنی خیز تبصرے اور تجزیے ہوئے بالخصوص جناب عمران خان کا بیان سامنے آیا کہ ججوں کو دھمکانے کے لیے سسلین مافیا کے ہتھکنڈے ناقابلِ قبول ہیں اس سے صاف جھلک رہا تھا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور فائرنگ کی ذمہ داری مسلم لیگ ن پر ڈالنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ کیا کسی باقاعدہ انکوائری، تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے نتائج سامنے آنے سے قبل کسی فرد ، ادارے یا سیاسی جماعت پر ذمہ داری عائد کرنا اور اُس کے بارے میں الزام تراشی کرنا مستحسن بات ہے ؟

اب ایک اور خبر کی طرف آتے ہیں جس سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے حکومتی اداروں کے خلاف بد گمانی اور بد اعتمادی کا واضح اظہار سامنے آتا ہے ۔ پیر کو لاہور ہائیکورٹ کے تین رُکنی فُل بینچ نے نواز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا جس کی اخبارات میں اس طرح رپورٹنگ ہوئی کہ ہائی کورٹ کے فُل بینچ نے نواز شریف، مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس پر تبصرے اور تجزیے شروع ہوئے تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لے لیا اور اگلے دن اپنی سربراہی میں قائم تین رُکنی فُل بینچ میں از خود نوٹس کی سماعت کی اور قرار دیا کہ لاہو رہائیکورٹ نے کسی کو تقریر سے روکا نہ نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی لگائی۔ لاہور ہائیکورٹ کا یہ اتنا اچھا آرڈر ہے کہ بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ پیمرا نے جھوٹی خبر پر کوئی ایکشن لیا نہ سرکار نے کچھ کیا پہلے بھی عدلیہ پر حملہ کیا اب پھر ہو گیا۔ ججوں کو حکومتی سکیورٹی کی ضرروت نہیں قوم خود اپنے قاضیوں کا تحفظ کرے گی۔ مختلف ٹی وی چینلز پر بحث اور اس خبر کے ذریعے عوام میں یہ غلط تاثر پھیلایا گیا کہ ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کو آف ائیر کرنے کا حکم دیا اور پیمرا کو کہا کہ ان کی تقاریر کو روک دیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے دیگر کئی افراد کی عدلیہ مخالف تقاریر پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔ یہ تاثر بھی پیدا کیا گیا کہ آزادی رائے بنیادی حق کو کم اور سلب کیا گیا ہے ۔

از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اسی طرح کے اور ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اخبارات نے خبر کوایسے انداز میں شائع کیا ہے جو درست نہیں ہے تو اس میں قصور کس کا ہے ۔ اگر چوٹی کے انگریزی اخبارات دی نیوز، ڈان، دی نیشن اور ٹربیون میں ایک ہی طرح کی سُر خیاں لگی ہیں جن کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ ہائی کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر نشر کرنے پر پابند لگا دی ہے تو اس میں حکومت کو ذمہ دار قرار دینا کہاں تک مناسب ہے ۔ کیا اخبارات پر سنسر عائد ہے ؟ کیا اُن کو حکومتی ایڈوائس ملتی ہے ؟ یقیناًآج کل ایسا کچھ نہیں ہے تو پھر اس میں حکومت کے کسی ادارے یا فرد کو بین السطور ذمہ دار قرار دینا کہ اُس نے خبر غلط لگوائی ہے یقیناًمناسب بات نہیں۔ یہ اداروں اور اداروں کے ذمہ داران کے درمیان بد اعتمادی اور بد گمانی کی فضا کا نتیجہ ہے کہ جو اس حد تک ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ رونا بھی اسی بات ہے کہ اس بد گمانی اور بد اعتمادی کو کیسے کم کیا جائے یاروکا جائے۔ یقیناًہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ذمہ دار عہدوں پر فائز عزت مآب اور قابلِ احترام شخصیات اور بااختیار عہدیداران کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس صورتحال کے تدارک کے لیے مثبت اقدامات کریں۔ قوم کے پڑھے لکھے اور سمجھدار طبقات کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ غلطی کہاں سے ہو رہی ہے زیادتی کا مرتکب کون ہے وہ ضرور اُس کی نشاندہی کریں اوراپنے طرزِ عمل سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچائیں کہ جو لوگ ، ادارے یا ذمہ دار شخصیات اس صورتحال کو وجود میں لانے کا باعث بنی ہیں یابن رہی ہیں قوم اُن کو پسند نہیں کرتی ۔


ای پیپر