کیا علی احمد کردؔ کی لاٹری نکل پائے گی ۔۔۔؟

22 اپریل 2018

حافظ مظفرمحسن

بچپن میں وقتاً فوقتاً گھر والے ہماری ’’ٹنڈ‘‘ کروا ڈالتے تھے۔ ہم اس پوزیشن میں نہ کبھی تھے نہ آج ہی ہیں کہ اس ’’جبر‘‘ پر احتجاج کر سکیں یا آگے سے ٹنڈ کرنے اور یہ جبر ہم پر مسلط کرنے والے کو آنکھیں ہی دکھا سکیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی بچے (شیر خوار) کی ٹنڈ کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ پہلے تو اچھا اچھا محسوس کرتا ہے جیسے بڑے اہتمام سے کوئی ’’اچھا‘‘ کام ہونے والا ہو ۔۔۔ پھر جب کمال مہارت اور زبان سے خوش آمدی فقرے کہتا ہوا حجام اُسترا بچے کے سر پر پھیرتا ہے تو بچے کو اچھا لگتا ہو گا وہ سمجھا ہو گا کہ جس طرح ’’رسمِ ختنہ‘‘ انجام پائی تھی مٹھائی وغیرہ تقسیم کی گئی۔۔۔ یہ بھی ’’رسمِ ختنہ‘‘ کی طرح کوئی ’’اچھا عمل‘‘ ہی ہو گا اور جس طرح ’’رسمِ ختنہ‘‘ ایک فرض سمجھ کر ادا کی جاتی ہے ایسے ہی یہ رسم بھی نہایت اچھے ماحول میں ادا ہو رہی ہو گی ۔۔۔ ہم بڑے خوش آمدیوں کے چکر یا اُن کی چالبازیوں میں آ جاتے ہیں ۔۔۔ بچے تو پھر بچے ہیں ۔۔۔ حال ہی میں کراچی کے ایک نامور فنکار نے سر پر بال و پر اگانے کے چکر میں اپنا ستیاناس کر ڈالا مختلف چینلز پر اُن کے اُدھڑے ہوئے سر کو بار بار دکھایا گیا کہ عوام شاید اس سے سبق سیکھ جائیں ۔۔۔ وہ بیچارہ فنکار تو بڑی اذیت میں تھا ۔۔۔ ایک تازہ قطعہ لکھا خود پسندی کے انداز میں اور فیس بک پر چڑھا دیا۔ جب تین چار لڑکیوں اوہ، سوری ۔۔۔ عورتوں یا یوں کہہ لیں کہ تین چار شاعرات نے جب اُس قطعہ پر تعریفی جملے اچھالے ۔۔۔ تو مجھے اچھا لگا ۔۔۔ لیکن جب منگلا سے راجہ صفدر صاحب نے بھی تعریف کی تو خوشی سے دل اُچھلا اور ما بدولت جھومنے لگے ۔۔۔ آپ بھی قطعہ ملاحظہ کریں ۔۔۔
نرم باتیں گداز قصے ہیں
اپنے سب دل نواز قصے ہیں
نہیں ہے باعث ندامت کچھ
میٹھے ہیں مدھر ساز قصے ہیں
نرم باتیں گداز قصے ہیں
خوش آمد اب ایک زندگی کا ضروری حصہ ہے جس طرح ملکی حالات اور چار سال سے چلنے والے سیاسی ’’دنگل‘‘ دیکھ کر لگتا ہے ’’کرپشن‘‘ ہماری زندگیوں کا ایک حصہ ہے ۔۔۔ کرپشن کہاں کہاں کس کس حال میں ہے ۔۔۔ مت پوچھئے ویسے کوئی بھی کرپشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں بلکہ ہر کوئی اس کا جواز پیش کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ ایک دور میں افغانستان میں کرپشن باقاعدہ Legalize ہو گئی تھی ۔۔۔
بات شروع ہوئی تھی ’’رسم ٹنڈ کرائی‘‘ سے اور ’’رسمِ ختنہ‘‘ سے ہوتی ہوئی ’’رسوماتِ کرپشن‘‘ تک پہنچ گئی ۔ ٹنڈ ایک ایسا عمل ہے جس پر ’’عام‘‘ فہم کی حجامت سے بھی کہیں کم پیسے یعنی مالی نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ ویسے ’’حجامت ہونا‘‘ ۔۔۔ ’’ٹنڈ ہو جانا‘‘ ۔۔۔ یہ ہمارے ہاں رائج محاورے بھی ہیں جو ادیب خواتین و حضرات اکثر ہمارے ہاں سیاسی تحریریں یا کالم لکھتے ہوئے اپنا غصہ نکالنے کے لیے اپنی تحریروں میں ڈال دیتے ہیں حالانکہ جس سیاسی ہستی کو، چھیڑنے کے لیے یہ ’’بد ذائقہ‘‘ محاورے تحریر میں ڈالے جاتے ہیں اُس شخصیت پر اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا یا یوں کہہ لیں کہ وہ ایسی ’’چھیڑ خانی‘‘ کو اپنی جوتی کی نوک پر بھی نہیں لکھتے ۔۔۔ (حالانکہ ہمیں ایسے محاوروں پر شرمندہ ہونا چاہیے کیونکہ پچھلی صدی میں ’’لوگ‘‘ ایسی باتیں یا محاورے جب اُن سے منسوب کیے جاتے تھے پڑھتے ہوئے شرمندہ ہوتے تھے کچھ کو تو پیشانی پر پسینہ بھی محسوس ہوتا تھا) ۔۔۔بات ٹنڈ سے شروع ہوئی تھی اور جا پہنچی ’’احساس‘‘ تک، شرمندگی تک ۔۔۔ افسوس کہ اب ’’احساس‘‘ نام کی چیز کا ہمارے ہاں فقدان ہے لفظ شرمندگی شاید اگلے چھپنے والے ایڈیشن میں ’’ڈکشنری‘‘ سے نکال ہی دیا جائے کیونکہ ’’گوگل‘‘ ہو تو ڈکشنری کہاں ۔۔۔؟!بچے کو اس وقت پتا چلتا ہے کہ کیا ظلم ڈھایا جا چکا ہے جب اُس کے سامنے والے سر کے حصے پر اُسترا اپنا کام دکھا چکا ہوتا ہے۔ اور یہ جان لیں کہ کچھ لوگوں کو ٹنڈ اُن کے چہرے کے مطابق اچھی لگتی ہے، اُس کی شخصیت نکھر سی جاتی ہے لیکن یہ مت بھولیے کہ ٹنڈ کے فوائد بھی شاید کتابوں میں لکھاریوں نے لکھے ہوں مگر ٹنڈ کروانے کے نقصان کہیں زیادہ ہیں ۔۔۔مثلاً ۔۔۔ آپ ٹنڈ سمیت لڑکیوں کے کالج کے سامنے سے نہیں گزر سکتے؟ کیونکہ اکثر لڑکیوں کے پاس اب ’’ٹچ‘‘ والے فون بھی ہیں اور اب ایک سیکنڈ میں Clips تیار بھی ہو جاتے ہیں اور پھر فیس بک پر چل بھی جاتے ہیں اور سینکڑوں شریر بچے جو ہر آن کمپیوٹر سے چپکے بیٹھے ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے بال کی کھال اتارنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پتا اُس وقت چلتا ہے جب کوئی دور پار کا رشتہ دار فون کر کے بتاتا ہے ۔۔۔
’’یار تمہاری تو فیس بک پر دوستوں نے خوب ٹنڈ کی ہے؟‘‘ ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
مجھے یاد ہے جب بچپن میں ہماری ٹنڈ ہوئی تو ہم نے مہذب ہونے کے باوجود ۔۔۔ حجام کو خوب ’’پنجابی‘‘ میں تواضع کی ۔۔۔ ایک تو حجام ناراض ہو گیا دوسرا سب کو پتا چل گیا کہ ہم بھی کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں؟! ایک واحد بات جس پر میں اپنے بھائی سے ناراض ہوا یہ کہ اُس نے ٹنڈ ہوتے ہی ہماری ٹنڈ سمیت فوٹو اتار لی ۔۔۔ اور وہ فوٹو ایک عرصہ تک لوگوں کے لیے تفنن طبع کا باعث بنتی رہی ۔۔۔ ویسے ایک ٹنڈ عزت اور خوشی کا باعث بھی ہوتی ہے وہ جو عمرہ شریف کی ادائیگی پر ہوتی ہے ۔۔۔ دعا کریں اللہ پاک ہمیں اُس ٹنڈ کی جلد سعادت عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین ۔۔۔ یہ میری پہلی تحریر ہے جس پر میں نے اصل بات کرنے سے پہلے اتنی طویل تمہید باندھ ڈالی ۔۔۔ویسے سچ بتائیے ۔۔۔ آپ کو آج بھولا بسرا وقت یاد آ گیا ہے ناں؟ ! آپ اس وقت اپنے اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر گزرا وقت یاد کر رہے ہوں گے؟! اور ٹنڈ کی لذت بھی محسوس کر رہے ہوں گے؟۔۔۔
ہوا یوں کہ میں نے منظور بھائی (ٹنڈ والے) کو عرصہ ایک سال سے ٹنڈ سمیت دیکھا ۔۔۔ میرا منظور سے چونکہ مذاق بند ہے (اُدھار بھی بند ہے) لہٰذا میں نے چاہتے ہوئے بھی یہ موضوع نہ چھیڑا ۔۔۔ حالانکہ اکثر منظور بھائی کو دیکھ کر میرے دائیں ہاتھ میں کھجلی ہونے لگتی مگر میں کنٹرول کر جاتا اور ٹنڈ پر میری تحریر موخر ہوتی چلی گئی ۔۔۔ حالانکہ ’’نسوار‘‘ پر میرا مضمون چھپنے اور پسند کئے جانے کے بعد ’’ٹنڈ‘‘ ہی وہ موضوع تھا ۔۔۔ جو مجھے لکھنے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔ بلکہ ایک دو بار تو میں نے حجام کی دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے سوچا بھی کہ خود ہی ٹنڈ کروا ڈالوں تا کہ پتا چلے کہ آجکل ’’ٹنڈ‘‘ کروانے والے کو کن کن فقروں سے پالا پڑتا ہے۔ کیا کیا سننا پڑتا ہے، دوست دشمن اس Event کو کیسے انجوائے کرتے ہیں ۔۔۔؟! ’’آفتاب‘‘ والے حسیب اعجاز عاشر امید ہے جلد ’’ٹنڈ‘‘ کے حوالے سے اپنے اخبار کا سپیشل ایڈیشن شائع کر ڈالیں گے ۔۔۔؟
علی عظمت؟ اکثر کیوں ٹنڈ کروا رکھتا ہے شاید جوانی میں اُس کی محبوبہ نے کہا ہے ۔۔۔ ’’ علی عظمت بڑے گلوکار جب ٹنڈ سمیت سٹیج پر آتے ہیں تو پبلک خوش ہوتی ہے ۔۔۔ انجوائے کرتی ہے؟‘‘ اور علی عظمت نے عوام کی خاطر یہ ’’کشٹ‘‘ کاٹا ہو ۔۔۔؟!پہلے زمانے میں ٹنڈ کو ’’کائیں کائیں‘‘ کی کوّے بھی سلامی دیا کرتے تھے اور دوست محبت سے ٹنڈ پر ’’ٹھونگے‘‘ بھی لگاتے تھے جس طرح ’’ٹھونگے‘‘ کی Defination نہیں بیان ہوئی بس آپ گزارہ کریں جیسے پاناما کا فیصلہ کوئی سمجھ پایا تھا ۔۔۔ کسی کے سر پر سے گزر گیا ۔۔۔ نہ کوئی نواز شریف کو بتا سکا کہ وہ کیوں نا اہل ہوئے نہ ہی عوام کو کچھ سمجھ آئی ۔۔۔ خیر اب تو پانامہ ۔۔۔ ماضی کا قصہ بن گیا کیوں کہ اب تو خبروں کا HOT موضوع ’’ٹنڈ‘‘ ہے یا پھر ’’نئے وزیراعظم‘‘؟ ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمارے فیس بک ’’دانشوروں‘‘ کے مطابق علی احمد کرد کے نام پر غور شروع کر دیا ہے؟ (امید ہے آپ کو علی احمد کرد کی وہ نہایت جذباتی تقریریں یاد آ گئی ہوں گی جو اُنھوں نے عدلیہ بچاؤ تحریک کے دوران کی تھیں) ۔۔۔ حالانکہ دنیا میں HOT موضوعات بدلتے رہتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی زندگی کے چار سال پانامہ کی نذر کر ڈالے اُن کا رزلٹ کیا نکلے گا؟ یہ میں آپ کو کان میں بتاؤں گا ۔۔۔؟ ورنہ چینلز میرے پیچھے پڑ جائیں گے جیسے بہت سال پہلے HOT موضوع تھے۔ ہمارے پیارے آصف علی زرداری ۔۔۔ وہ لاہور سے گرفتار ہوئے دس سال جیل کاٹی پھر صدرِ پاکستان بنے اور ۔۔۔ اور پھر وہ تمام معاملات سے بری ہو گئے ۔۔۔ ہے ناں مزے کی بات؟!!!۔۔۔ ہم بہر حال اچھے دنوں کی امید میں عہد کر چکے ہیں کہ اس سال اگر الیکشن ملتوی ہوئے تو ہم اپنے دوستوں سمیت یہ گرمیاں ’’ٹنڈ‘‘ کے ساتھ گزاریں گے ۔۔۔
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

مزیدخبریں