جعلی ادویات کی تیاری :ایک گھناؤنا جرم
22 اپریل 2018 2018-04-22

قومی روزناموں میں آئے روز اس قسم کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ’’ ایف آئی اے کے فلاں کرائم سرکل نے اتنے کروڑ سے زائد مالیت کی سمگل شدہ، غیر رجسٹرڈ اور انتہائی مضر صحت ادویات چھاپہ مار کر برآمد کر لی ہیں‘‘ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ’’ فلاں علاقہ میں ان دوائیوں سے مزید ادویات بنانے والی فیکٹری بھی پکڑی گئی،جہاں عرصہ دراز سے ’’ہربل‘‘ ادویات کی آڑ میں ایلوپیتھی ادویات تیارہو رہی تھیں ، ادویات کا جب لیبارٹری ٹیسٹ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اور ان کے استعمال سے اعصابی نظام تباہ ہو جاتا ہے‘‘یہ امر حیران کن ہے کہ جعلی ادویات تیار کرنیوالی اکثر فیکٹریوں کے مالکان مبینہ طور پر’’ ڈاکٹر ‘‘ہوتے ہیں۔ خبر کا یہ پہلو انتہائی دلچسپ ہوتا ہے کہ مذکورہ مالکان چھاپہ سے چند منٹ قبل فیکٹری سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہر کس و نا کس جانتا ہے کہ جعلی اور مضرصحت ملاوٹ زدہ ادویات کی تیاری ایک گھناؤنا جرم ہے۔ بلاشبہ تخریب کاری اور دہشت گردی کی طرح یہ جرم ایک سنگین اور ناقابل معافی ہے۔ اس جرم کی سرکوبی اور بیخ کنی کیلئے قومی و بین الاقوامی سطح پر اسی قسم کے آہنی اقدامات مطلوب ہیں، جیسے دہشت گردی کے انسداد کیلئے کئے گئے ہیں۔ ملاوٹ کے جرم کے مرتکب عناصر پیسے کے حصول کیلئے رہزنوں، ڈکیتوں، تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی طرح انسانی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔مناسب نگرانی اور موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش اور ادویات میں ملاوٹ کا رجحان ایک عمومی وباء کا روپ دھار چکا ہے۔ فوڈ انسپکٹرز اور ڈرگ انسپکٹرزکی ایک بڑی اکثریت ملاوٹ کنندہ مافیا کے مرغِ دست آموز کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ چند ہزار منتھلی کے لالچ میں’’صوابدیدی اختیارات‘‘ بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کے دشمنوں کو انسانیت کے قتل کا غیر قانونی پرمٹ تھما دیتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کے دشمنوں کے سنگین جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے سرکاری اہلکارضمیر اور احساس نامی کسی قدر سے سرے سے واقف ہی نہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی فرائض سے مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب اکثر اشیائے خورد و نوش اور ادویات ملاوٹ زدہ ہیں۔ جب جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف کارروائی پر مامور انسداد ملاوٹ پر مامور سرکاری اہلکار ہی ملاوٹ کنندگان کا ’’ بازوئے شمشیر زن‘‘ اور’’ڈھال‘‘ بن جائیں توعام آدمی میں اتنی سکت کہاں کہ وہ انہیں انسان دشمن جرائم کے ارتکاب سے باز رہنے پر آمادہ کر سکے۔ یہاں تو جرائم پیشہ اور ملاوٹ کنندہ مافیا قبیح اور سنگین ترین جرائم کے ارتکاب میں محض اس لئے کامیاب رہتا ہے کہ اسے سرکاری اہلکاروں نے ’’غیر تحریری یقین دہانی‘‘ کرا رکھی ہے کہ ’’سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘ اگر ارباب حکومت انسانیت دشمن ’’ملاوٹ کار مافیا‘‘ کیخلاف صدق نیت اور خلوص نیت سے برسرپیکار ہونے کا عزم کرلیں تو اس بگاڑ پر بآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ دیگر جرائم پیشہ عناصر کی طرح ملاوٹ کے مرتکب عناصر بھی فطری طور پر بزدل ہوتے ہیں۔ ذرا سی ہلچل ان کے کان کھڑے کر دیتی ہے اور معمولی سی گرفت اور بازپرس انہیں راہ راست پر لانے کا موجب بن سکتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہر بڑے شہر میں ملاوٹ کے جرم کے مرتکب چند افراد کو حسب قواعد و ضوابط قرار واقعی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ عام شہریوں کو ملاوٹ سے پاک اشیائے خورد و نوش کی فراہمی عام ہو جائے۔

اب ملاوٹ صرف اشیائے خورد و نوش تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا’’ دائرہ کار‘‘ پھیلتے پھیلتے ادویات تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ملک بھر میں جعلی ادویات کا کاروبار عروج پر ہے۔ سادہ لوح مریض بامر مجبوری انہیں استعمال کر کے مزید جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ میڈیسن مارکیٹ میں مشکوک دواؤں کی موجودگی ڈرگ انسپکٹرز کی عدم کارکردگی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس مارکیٹ میں سالانہ پانچ ارب سے زائد کی ’’مشکوک ادویات ‘‘ کھلے بندوں فروخت ہو رہی ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ حیدر آباد، نواب شاہ، سکھر ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی جعلی اور غیر معیاری ادویات کا کاروبار اپنے برگ و بار پھیلاچکا ہے۔ موثق ذرائع کے مطابق ایک لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹروں کے’’ مکروہ نیٹ ورک‘‘ کو وسیع کرنے کیلئے شبانہ روز ’’مصروف کار‘‘ ہیں۔ کئی بڑے شہروں میں ایسے ڈرگ اسٹور بھی موجود ہیں جہاں دکاندار نسخے پردرج دوائی دینے سے قبل گاہک سے بے تکلفانہ انداز میں پوچھ لیتے ہیں کہ انہیں ’’ ایک نمبر مال‘‘ چاہئے یا ’’دو نمبر‘‘۔ بعض سٹوروں پر تو ’’تین نمبر‘‘ مال بھی بافراط پایا جاتا ہے۔ ان ادویات کی فروخت پر عطائی ڈاکٹروں کو کمیشن کی ادائیگی معمول بن چکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہسپتالوں میں بستروں پر پڑے پچاس فیصد مریض جعلی اور غیر معیاری ادویات کی تخلیق کردہ ناقابل تشخیص بیماریوں میں مبتلا ہیں۔اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ کے مرتکب عناصر کا شمار بھی بلاشبہ انسانیت کے بڑے دشمنوں میں ہوتا ہے لیکن جعلی اور غیر معیاری ادویات بنانے والے عطائی ڈاکٹرز اور جرائم پیشہ فارماسسٹ تو انسانیت کے قاتل ہیں۔ انسانیت کے دشمنوں اور قاتلوں کیخلاف بلاامتیاز، شفاف اور بے رحمانہ کارروائی وقت کا تقاضا ہے۔ مہنگے داموں ادویات کا المیہ تو ایک طرف، یہاں تو شہریوں کو اس امر کی بھی کوئی یقینی ضمانت حاصل نہیں کہ وہ جو دوائی خرید رہے ہیں وہ خالص ہے یا نا خالص۔ پاکستانی شہریوں کے ساتھ دوہرا ظلم ہو رہا ہے۔ ایک تو مہنگے ڈاکٹروں نے ان سے علاج کا بنیادی حق چھین رکھا ہے اور دوسرے وہ مہنگی اور جعلی ادویات کے استعمال کے باعث بے وقت موت کا لقمہ بن رہے ہیں۔


ای پیپر