عمران خان کی لاہور پر سیاسی یلغار
22 اپریل 2018 2018-04-22

سب سے پہلے تو میں اپنے اُن عزیز و اقارب اور بہی خواہوں کو اطلاع دے دوں جو روزانہ واٹس ایپ او ر فون پر مجھ سے ملک میں متوقع الیکشن میں حصہ لینے کیلئے مجھ سے دریافت کرتے رہتے ہیں ۔ اِن دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یقیناًمیں انہیں فرداً فرداً آگاہ بھی نہیں کرسکتا سو سوچا کہ انہیں یہ اطلاع پہنچا دوں کہ میں کسی قسم کے الیکشن میں امیدوار نہیں ہوں ۔ اس کی پہلی اور آخری وجہ یہ ہے کہ میں اتنا مہنگا الیکشن افورڈ ہی نہیں کرسکتا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کے نعرے کو 22 سال پہلے جائز سمجھا تھا اور اُس سے مطمین بھی تھے سو اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور آج تک اپنا سب کچھ اُس مقصد کیلئے قربان کردیا ہے جس کی زندہ تصویر آج تحریک انصاف کی شکل میں آپ کے سامنے ہے ۔ اس تحریک میں مجھ جیسے ہزاروں کارکنوں کی زندگی کی دہائیاں دفن ہیں ۔اب رہی بات تحفظات کی تو مجھے چیئرمین تحریک انصاف اور عبد العلیم خان کی موجودگی میں کسی قسم کے تحفظات نہیں ہیں کہ عمران خان کرپشن پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرتا اور سنٹرل پنجاب میں عبد العلیم خان نے میرٹ سے ہٹ کراپنے کسی عزیز ترین دوست کو بھی ٹکٹ نہیں دینا اور نہ ہی پارلیمانی بورڈ میں اُس نے کسی ایسے شخص کا سفارشی ہونا ہے جس نے گزشتہ پانچ سال گھر بیٹھ کر گزارے ہیں اور پارٹی کے دکھ سکھ میں حصہ نہیں لیا خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
29اپریل کو تحریک انصاف ایک بار پھر مینار پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسے کا دعوی کر رہی ہے ۔ گو کہ اس سے پہلے بھی تحریک انصاف مینار پاکستان کے وسیع و عریض میدان کو اپنے ورکروں سے کھچا کھچ بھر چکی ہے لیکن اس بار تبدیلی یہ ہے کہ پہلے ا س کا رقبہ تقریبا 50 ایکڑ تھا جو اب 120 ایکڑ کے قریب ہے سو اس بار تحریک انصاف کو پہلے سے 125 فیصد عوام کو زیادہ جلسہ گاہ تک لانا ہو گا جو یقیناًایک مشکل ٹاسک ہے لیکن موجودہ حالات میں تحریک انصاف کیلئے ناممکن نہیں ۔ عمران خان لاہور کے جلسے کو آدھی الیکشن کمپین قرار دے چکے ہیں جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے الیکشن پر لاکھوں خرچ کرنے ہیں وہ الیکشن سے پہلے اس جلسے کو کامیاب کروانے میں اپنا کردار بھرپور ادا کریں تاکہ الیکشن سے پہلے ہی لاہور کی فضا یک طرفہ ہوجائے اور تحریک انصاف کے امیدواروں کم از کم بجٹ میں یہ الیکشن جیت سکیں ۔ لاہوریے میلے ٹھیلے والے مزاج کے لوگ ہیں اور انہیں سیاسی پروگرام کی طرف راغب کرنے کیلئے تحریک انصاف کو لاہور اور سنٹرل پنجا ب کی ہر گلی اور محلے میں اس سیاسی میلے کا انعقاد کرنا ہوگا ۔ کہیں کارنرمیٹنگز ، کہیں موٹر سائیکل ریلی ، کہیں مشعل بردار جلوس ، کہیں چھوٹے بڑے جلسے ، جلسے والے دن لاہور ، گوجرانوالہ ، قصور اور شیخوپورہ سے منچلوں کے پیدل قافلے ، ہر قدم پر بجتا ہوا ڈھول ، سٹرکوں پر بھاگتے ہوئے فلوٹ ، جھنڈوں کی بھر مار ، فلیکس اور سٹیمر ۔ دوسری بڑی ذمہ داری اُن امیدواروں کی ہے جنہوں نے کل الیکشن میں حصہ لینا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر اپنے پروگرام ترتیب دینے ہوں گے تاکہ جلسے سے پہلے روزانہ اُس کا گراف تحریک انصاف کے ترانوں کی گونج میں بلند ہوتا رہے ۔
نوجوانوں کو اس جلسے کی کامیابی میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا ۔’’یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو تحریکوں کا انجن ہوتے ہیں‘‘ ۔ جس سیاسی یا انقلابی تحریک میں تربیت یافتہ نواجوانوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی وہ تنظیم اتنی ہی توانا اور اور سماج میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی ۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے اس دوران لاہور کے وزٹ بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ ورکرز انہیں دیکھ کرچارج ہو جاتے ہیں اور پھر نوجوانوں میں عمران خان کی مقبولیت تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ابھی جلسہ میں 8 دن باقی ہیں اور لاہور میں 14 ایم ۔ این ۔ اے اور 30 ایم پی اے ہیں اگر دودو ایم ۔ این ۔ا یز اپنے ایم پیز کے ساتھ مل کر ریلی نکالیں تو 28 اپریل تک لاہور کے ہر روٹ پر ایک بھر پور ریلی گزر سکتی ہے جس سے اُس علاقے میں سیاسی ردم بھی بن جائے گا اورجہاں جہا ں سے ریلی گزر ے گی وہاں وہاں لوگوں کو اطلاع اور اپنا سیاسی دبدبہ چھوڑتی جائے گی اور یہ ریلی امیدواروں کو الیکشن کمپین میں بھی مدد گار ہو گی کہ انہوں نے اپنے علاقوں کا وزٹ کرکے ہی دوسرے روٹ اور پھر اپنی ریلی کا اختتام مینار پاکستان کے جلسہ گاہ پر کرنا ہے۔ اب یہاں ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ مینار پاکستا ن کو جانے والے سب راستوں کو ریلیوں کیلئے استعما ل کیا جائے تو اس کا زیادہ اثر ہو گا اور زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے پولیٹکل ایکٹویزم کو دیکھ پائیں گے اور لاہور کی اکثریت کا فیصلہ زور دیکھ کر ہوتا ہے سو تحریک انصاف کو زور پورا لگانا پڑے گا اورہر اُس شخص کو اِس میں بھر پور شرکت کرنا ہو گی جو پاکستان میں تبدیلی کا خواہش مند ہے۔
اس کے علاوہ 25 اپریل کو پاکستان تحریک انصاف کا 22 واں یوم تاسیس ہے اورمیں سمجھتاہوں کہ یہ 29اپریل سے پہلے ایک میگا ایونٹ ہے اس کیلئے چیئرمین تحریک انصاف کو یونین کونسل کے نمائندوں تک ہدایت جاری کرنی چاہیے کہ یوم تاسیس کو پوری آن بان اور شان سے منائیں ۔یومِ تاسیس کا کیک کاٹیں ، کارنر میٹنگز کریں اور میڈیا میں زیادہ سے زیادہ اُسے منظر عام پر لے کرآئیں اورچیئرمین تحریک انصاف یوم تاسیس کی تقریبات کو مرکزمیں منا کر اس کا آغاز کریں تاکہ یہ ایونٹ نیچے گلی محلے تک پہنچ سکے ۔ مجھے قومی امید ہے کہ یہ ایک کامیاب ترین جلسہ ہو گا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا جسے لاہوریے تو کبھی نہیں بھولیں گے اوریہ انہیں بھی یاد رہے گا جنہوں نے ایک طویل اقتدار انجوائے کرنے کے بعد بھی عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے بہت کچھ بدلتا دیکھیں گے ۔میرے نزدیک پارٹی ٹکٹ آفر ہونی چاہیے نہ کہ اپلائی کیوں اپنے آپ کو تو ہر شخص اہل سمجھتا ہے لیکن جب سیاسی تنظیم کسی کو ٹکٹ آفر کرتی ہے تو حقیقی اہل آدمی ہی سامنے آتا ہے ۔ البتہ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ میں درج ہے کہ الیکشن میں سیاسی جماعت اپنے سیاسی ورکروں کو ٹکٹ آفر کرے گی اور اپلائی کرنے والوں پر سیاسی جماعت پارلیمانی بورڈ بنا کر بہترین امیدوار سامنے لائے گی ۔ مجھے اس کی یہی سمجھ آتی ہے کہ ہر امید وار کی صداقت اور امانت چیک کرنا پارلیمانی بورڈ کی ذمہ داری ہے اور چیئرمین تحریک انصاف نے پانچ سال پہلے بھی کہا اور ابھی پھر اس بات کو دہرایا کہ گزشتہ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم میں غلطی ہوئی لیکن اس بار ایسا نہیں ہو گا ۔ مجھے امید ہے کہ اگر ٹکٹوں کی تقسیم درست ہو جاتی ہے تو پھر الیکشن نتائج کی مجھے کوئی پروا نہیں وہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں ہی آئیں گے کہ دنیا میں کو ئی فرد ، سیاسی تنظیم یا فوج اخلاقی شکست کے بعد زمینی فتح حاصل نہیں کرسکتی اور پاکستان میں نون لیگ تو اپنی ہر حیثیت کھو چکی ہے اور پیپلزپارٹی اخلاقی شکست خوردہ ہے کہ جب تک آصف علی زرداری کے ہاتھ میں پیپلز پارٹی کی باگ ڈور ہے میں ذاتی طور پر نہیں سمجھتا کہ وہ کسی زمینی فتح کا خواب بھی دیکھے ۔ عمران خان کی لاہور پر یہ بھرپور سیاسی یلغار ، دیکھیں کتنی سیاسی آلودگی بہا لے جاتی ہے ۔


ای پیپر