چیمپئن کپتان، پاکستان کا لی کوآن یو
22 اپریل 2018 2018-04-22

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان میرے بچپن کے دنوں کا ہیرو تھا۔ ۱۹۹۰ ء کی دہائی میں جب ٹیم مشکل میں ہوتی تو یہ ڈھارس ہوتی تھی کہ ابھی عمران خان کی باری پڑی ہے ۔ ایسے ہی میچ ہاتھ سے نہیں جائے گا۔ یہ صرف ایک میری ہی بات نہیں تھی بلکہ یہ وہ دور تھا جب والدین اپنے بچوں کے نام عمران خان کے نام پر رکھا کرتے تھے۔ وہ قومی اثاثہ ہوا کرتا تھا۔ قوم کو یقین تھا کہ اس کو نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی توڑا جا سکتا ہے۔ وہ بھی ایسا جواں مرد تھا کہ ہمیشہ امیدوں پرکھرا اترتا تھا۔ پھر شوکت خانم کینسر ہسپتال بن گیا ۔ تو اس کا نام ہی اس پر اندھا اعتماد کرنے کے لئے کافی ہو گیا۔۱۹۹۶ء میں جب اس نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو منزل خاصی کٹھن تھی۔ بے نظیر اور نواز شریف کا طوطی بولتا تھا۔ بچوں اور چھوٹی عمر کے لڑکوں کے سوا کسی نے اس کو سنجیدہ نہ لیا۔ چند لوگوں پر مشتمل اس کی پارٹی کو تانگہ پارٹی قرار دیا گیا۔ ۱۹۹۷ ء کے عام انتخابات میں وہ دو نشستوں سے الیکشن لڑا لیکن مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے مقابلے میں شکست کھا گیا۔ وہ ہمت نہ ہارا۔ ۱۹۹۹ء میں مشرف کے قریب ہوا مگر جلد دور ہو گیا۔ ۲۰۰۸ء کے عام انتخابات تک اس کی پارٹی غیر مقبول رہی۔

ء۲۰۰۸ سے۲۰۱۳ ء تک کا عرصہ اس کے لئے مقبولیت کی نئی رفعتیں لے کر آیا۔ ۲۰۱۱ء کے تاریخی جلسے نے ثابت کر دیا کہ اگر پی ٹی آئی سب سے مقبول سیاسی پارٹی نہیں بھی ہے تو دوسری مقبول ترین جماعت ضرور بن گئی ہے۔ لیکن یہیں سے ہم نے عمران خان کا ایک نیا روپ دیکھا۔ لائیو پروگرام کے دوران شیخ رشید جیسی شخصیت کے مقابلے میں ناکامی کی دعائیں مانگنے والے عمران خان نے نہ صرف شیخ رشید کو اپنا بہترین دوست اور مینٹور بنا لیا بلکہ کسی آندھی طوفان کی طرح پی ٹی آئی کا رخ کرنے والے تمام لوٹے بھی ساتھ ملا لئے۔ گدی نشینوں سے لے کر جاگیر داروں تک، شوگر مافیا سے لے کر قبضہ گروپ سب عمران خان کو پیارے ہو گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب حقیقی معنوں میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اس سے مایوس ہو گئے۔ اور پی ٹی آئی کو بھی باقی سیاسی جماعتوں جیسا سمجھتے ہوئے اس سے دور ہو گئے۔ ۲۰۱۳ ء سے لے کر ۲۰۱۸ ء تک عمران خان نے اتنے یو ٹرن لئے۔ اتنی بار وہ اپنے کہے سے پھرا کہ اب اس کی کسی بات پر اعتبار نہ ہوتا تھا۔ بغیر کسی تصدیق کے کان میں کی ہوئی کانا پھوسی پر بھی مخالفین پر الزام لگا دینا اس کی عادت بن گئی۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ وہ کپتان کیا ہوا جس کے ہوتے آخری بال تک بھی یقین ہوتا تھا کہ پاکستان ہاری بازی جیت لے گا؟ وہ کپتان کہاں گیا جس نے ہر طرف سے ناں سننے کے بعد بھی شوکت خانم ایسا ہسپتال بنا ڈالا۔؟ وہ اصل عمران خان تھا یا یہ اصل ہے جس کو اب ہم دیکھ رہے ہیں؟ تو اس کا جواب مجھے آج مل گیا۔ عمران خا�آج بھی وہی ہے، ۱۹۹۲ ء کا فاتح کپتان، شوکت خانم کا بانی۔ ہمارا قومی اثاثہ۔ یہ آج کی بات نہیں تیس چالیس سالوں کی پریکٹس یہی تھی کہ سینٹ کے لئے بولیاں لگتی تھیں۔ اراکین اسمبلیوں کی نیلامیاں ہوتی تھیں۔اپنے ووٹ سب سے بھاری بولی دینے والے امیدوار کی جھولی میں رکھ دیا جاتا تھا۔ ۲۰۱۸ ء میں ایسا ہوا تو کون سے انہونی ہو گئی؟ لیکن اس بار ایک کام ایسا ہوا کہ واقعی ہی انہونی ہو گئی۔ یہ کام کون کر سکتا تھا سوائے کپتان کے؟ اس نے تحقیقات کروائیں کہ اس کی پارٹی میں سے کس کس نے اپنا ووٹ بیچا ہے؟ جس کے نتیجے میں بیس نام سامنے آئے۔ چیمپئین کپتان نے نہ صرف بکنے والے بیس ارکان کے نام قوم کے سامنے پیش کر دئیے۔ بلکہ ان سب کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دئیے۔ تا کہ انصاف کا تقاضا پورا ہو۔ عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شوکاز نوٹس کا جواب نہ دیا گیا یا جواب سے پارٹی مطمئن نہ ہوئی تو ان اراکین کا کیس نیب کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہی وہ کپتان سٹائل ہے جو اس کو اپنے ہم عصر کرکٹ کپتانوں سے بھی جدا کرتا تھا اور اسی ٹچ نے اب واضح کر دیا ہے کہ وہ سیاست بھی دوسروں سے ہٹ کر ہی کرے گا۔

عمران خان پر اکثر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر اس کو حکومت مل بھی جائے توپارٹی میں کرپٹ افراد کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی میں عمران خان کیسے کرپشن کے خلاف لڑ سکے گا؟ اس عمل کے بعد یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اگر وہ بکنے والے ایسے بیس اراکین جو اس کے لئے آنے والے انتخابات میں سیٹیں نکال کے لا سکتے تھے ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے تو پھر یہ کارروائی کسی کے بھی خلاف ہو سکتی ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اگر ووٹ بیچنا ثابت ہو جائے تو ان اراکین کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔ اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو پارٹی میں موجود کالی بھیڑیں یہ جان جائیں گی کہ اس بار ان کے سامنے بے نظیر، آصف زرداری یانواز شریف نہیں بلکہ چیمپئین کپتان ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ تب کرتا تھا جب وہ کرکٹ کھیلتا تھا اور نہ ہی اب کرے گا۔اوردوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ روٹھے ہوئے لاکھوں نوجوانوں کا متزلزل ہوتا یقین دوبارہ سے اس پر قائم ہو سکے گا۔ کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ اس عمل سے یہ تو واضح ہو گیا کہ اگر عمران خان آیا تو وہ ایٹم بم بنانے والی پارٹی اور چلانے والی پارٹی کی بجائے لی کوآن یو اور مہاتیر محمد کے نقش پا پر چلے گا۔اس کے دور کی مثال یہ کہہ کر نہیں دی جائے گی کہ دیکھو اس نے فلاں سڑک یا موٹر وے بنا دی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ دیکھو اس نے ملک بنا دیا ، قوم سنوار دی۔


ای پیپر