جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہو کرو۔۔۔
22 اپریل 2018 2018-04-22

چند دنوں سے بر گر فیملی کی ممی ڈیڈی لڑکیوں کی تصاویر نیٹ پر زیر گردش ہیں جس پر تحریرہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ ،یہ لڑکیاں بول گئی ہیں کہ نہ جسم اپنا ہے نہ مرضی اپنی چل سکتی ہے ورنہ شدّاد جیسے دنیا کے فرعون کبھی یہ نہ بھولتے کہ جس نے اللہ سے’’ متھا‘‘ لگایا یہ کہہ کر کہ جب مجھے موت آئے تو میں نہ زمین پرہوں نہ آسمان پر،وہ یہ بھول گیا تھا کو مالک کائنات تو ہرچیز پر قادرہے، جب موت کا وقت آیا توواقعی شداد زمین پر تھا نہ آسمان پر ۔اس کا ایک پاؤں گھوڑے کی رکاب پردوسرانہ زمین پر تھا نہ آسمان پر تو فرشتہ حاضر ہوگیا اور پھر اس کی جان نکل گئی۔ کہا جاتا ہے کہ شدّاد نے دنیا میں جنت اور دوزخ بنا رکھی تھی۔ میرا جسم میری مرضی والی فیم بھی آج بھول گئی ہے کہ ہر چیز اللہ کریم کی عطا کردہ ہے جب چاہے وہ چھین لے کوئی کیا کر سکتاہے،راقم الحروف کوتقریباً پانچ ماہ قبل کمر میں تکلیف نے نانی یاد کرادی۔ بہت علاج کروایا مگر جب میرے اللہ نے چاہا تو حضور کے صدقے شفاء دی،ڈیڑھ ماہ سے ٹانگ کی تکلیف میں مبتلاء ہوں کوئی حکیم ڈاکٹرنہیں چھوڑا، تھراپی بھی کروائی آرام نہیں آیا۔ اگر میرا جسم ہوتا اور میری مرضی چلتی تواتنا عرصہ ’’ترلے ‘‘ نہ لیتا،لیکن چونکہ صدقے جائیے اس رب سوہنے کے جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے۔ اس کے کاموں میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ وہ اپنے محبوب کی امت کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا نہ تکلیف دیتا ہے۔ اگرہلکی پھلکی کوئی تکلیف آتی ہے تو ہمیں سمجھا رہاہوتا ہے کہ بندے کا پتر بن جا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہم نے واپس بھی جانا ہے اصل دنیا کی طرف، ورنہ آج سڑکوں پہ یہ نہ کہتے پھرتے کہ میرا جسم میری مرضی۔

پیسوں کے لالچ میں آج کل حضرت انسان کچھ بھی کرسکتا ہے کیونکہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’جنہے لا لئی لوئی انہوں کی کرے گا کوئی‘‘ یہ سلسلہ عرصے سے جاری ہے کہ ہمارا معاشرہ شاید عورتوں کی حق تلفی کرتا ہے یا ہمارا پیارا دین عورتوں کی معاشرتی آزادی کے خلاف ہے اور ہمارے ہی کچھ آزاد خیال لوگ اس سازش کو من و عن تسلیم کرنے کو تیار بھی ہیں۔ تسلیم کرنے کے پیچھے صرف آزاد خیالی ہی کافی نہیں بلکہ اندر کی خباثت اور درندگی بھی شامل ہے جس کی تسکین عورت کو بے آبرو اور بے پردہ کرکے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہر معاشرے میں ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے ناپاک وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں، ہمارے معاشرے میں بھی ایسے گندے انڈوں کا وجود کوئی اچنبے کی بات نہیں، افسوس تو ان لوگوں پر ہے جو اس برائی کو برا سمجھتے ہوئے بھی پھیلا رہے ہیں۔

ان خبیثوں کا اصل ہدف پاکستان یا پاکستان کا معاشرہ نہیں بلکہ دین اسلام ہے، وہ دین جس نے عورت کو عزت دی اوراس کا اصل مقام عطا کیا، ذرا ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھیں تو یونانی تہذیب کو بڑا نمایاں مقام حاصل ہے،یونانی عورت کو صرف استعمال کی ایک حقیر چیز سمجھتے تھے اور کچھ معاشرے تو عورت کو انسان سمجھنے سے بھی گریزاں تھے، ان اندھیروں میں جب اسلام کی روشنی آئی تو تب تک بھی بیٹی کو باعث ذلت سمجھا جاتا تھا اور اس کو زندہ درگور کرنا مردانگی سمجھی جاتی تھی،پھر دین حق نے عورت کو اس کا اصل مقام عطا کیا، ماں کے پیروں تلے جنت رکھ دی، بیٹی کو اللہ پاک نے اپنی رحمت قرار دیا۔مغربی معاشرے پر اتنا غور و فکر کرنے والو کبھی اپنے پر بھی غور کرو ،مغرب کی بے شتر مہار آزادی کواپنانے والو کبھی مغرب میں عورت کے حال پر بھی غور کرلو، آزادئ اظہار کا روناس بھی کچھ عجیب ہے۔ آج اس کو بھی واضح کرلیں، ہر انسان میں دو قوتیں ہوتی ہیں،ا چھائی اور برائی، نیکی اور بدی، اسی طرح انسان میں انسانیت اور حیوانیت بھی پوشیدہ ہے۔ اگر کوئی اپنے اندر کی گندگی کو معاشرے پر تھوپنے کی کوشش کرے تو اس کو آزادئ اظہار رائے نہیں کہا جاسکتا اور جو آج کل بے حیائی کو آزادئ اظہار کا نام دیا جارہا ہے اس کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ

جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہو کرو (مسلم)

’’میرا جسم میری مرضی ‘‘خطرناک مہم ہے جسے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، نہ میرا جسم ہے نہ میری مرضی چل سکتی ہے۔ بندہ ناچیزاس کی زندہ مثال ہے۔ ہم مسلمان ہیں ہمارا جسم اللہ کی امانت ہے ،ہوس پرستی شیطانی ترغیبات ہیں ،جسم اللہ کی امانت ہے اور اللہ اس کا حساب ضرور لے گا، مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کیلئے مغرب نت نئی تحریکیں ایجاد کر رہا ہے۔ہمیں مغرب کی خواتین کا حال معلوم کرنا ہوگا جہاں انہیں صرف ایک ٹشو پیپر سمجھا جاتا ہے۔بس استعمال کیا اور پھینک دیا، انسانوں اور حیوانوں میں یہی فرق ہے کہ انسانوں کے خاندان اور نسلوں کا پتا ہوتا ہے۔ باپ اور ماں کا پتا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے ان معاشروں میں جو لوگ اسلام کی طرف راغب اور مائل ہوئے وہ بہت خوش اورپرسکون نظر آتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ مغرب اور مغرب زادیوں سے بچیں ۔ اپنا جسم جو کہ اللہ کی عطا اور امانت ہے اسے اللہ اور گھر والوں کی خوشی اور خوشنودی کے لیے صرف کرناچاہیے۔اللہ ہمیں اور ہماری خواتین کو ان گندے اور حیا سوز تحریکوں سے محفوظ رکھے جو میرا جسم میری مرضی کی گردان پر تلے ہوئے ہیں۔


ای پیپر