جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
22 اپریل 2018 2018-04-22

دیر سے بولا جانے والا سچ کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں عموماً سچ بولنے کے لیے بھی اپنے حالات ومفادات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ بیشتر سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور اقتدار واختیار سے وابستہ افراد کی سوانح عمریاں، یادداشتیں اس وقت شائع ہوتی ہیں جب وہ کسی حدتک گوشہ نشین ہوجاتے ہیں یا عمر کے اُس حصے میں ہوتے ہیں کہ اُن کے کڑوے سچ بھی بس تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اِسی طرح جب کوئی حکومت مدت پوری کرنے کے قریب ہوتی ہے تو اچانک اپوزیشن سیاسی جماعت کا سربراہ بیان داغ دیتا ہے کہ فلاں (رواں) الیکشن ”آراو“ کے الیکشن تھے۔ یا انتخابات دھاندلی سے جیتے گئے۔ منتخب حکومت آخری دموں پر ہوتی ہے تو اُس کی پارٹی کے کئی ”جہاندیدہ“ اراکین اسمبلی اپنی پارٹی کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے، آنے والی متوقع حکومتی جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مسلم لیگ نون بلاشبہ سخت آزمائش سے گزررہی ہے۔ ہوا کا رُخ سمجھنے والے اندازے لگاتے ہیں کہ 2018ءکے انتخابات میں مسلم لیگ نون شاید ہی اقتدار میں آسکے۔ وجہ یہ ہے کہ ہرپارٹی انتخابات سے قبل اپنا منشور پیش کرتی ہے، عوام سے وعدے کیے جاتے ہیں ،اُن کے اہم ترین
مسائل کے حل کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں اور بدقسمتی سے مسلم لیگ نون عوام کا سب سے اہم مسئلہ ”لوڈشیڈنگ“ حل نہیں کرسکی۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، وزراءاور حکومتی ترجمان کچھ بیانات دیتے پھریں، سچ تو یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کا ”جن“ قابو نہیں کیا جاسکا اور آج بھی بعض علاقوں میں اچھی خاصی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ میڈیا میاں صاحباں کی ماضی کی تقاریر کی جھلکیاں دکھاتا ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم کرکے دم لیں گے اور نام بدلنے تک کی باتیں یاد دلائی جاتی ہیں پھر میاں نواز شریف پانامہ کے ایشو میں خود کو پیش کرکے اور دوتین بار قوم کے سامنے متضاد بیانات دے کر اس ایشو میں الجھ گئے۔ ان کے بیٹوں اور بیٹی کے بیانات بھی آپس میں نہیں ملتے تھے جس پر میاں صاحب صادق امین کی شق پر پورے نہ اترے۔ انہیں فارغ کردیا گیا اور اس کے لیے باقاعدہ قانونی معاملات اور تقاضے پورے کیے گئے۔ اب تو نیب کا شکنجہ ان سے قریب ہے۔اگرچہ حکومت اب بھی مسلم لیگ کی ہے، پالیسیاں وہی ہیں مگر میاں نواز شریف اور ان کے قریبی احباب عدلیہ اور فوج پر سخت تنقید کرتے ہیں۔اس صورت حال میں جب کچھ روز بعد میاں نواز شریف باقاعدہ جیل جاتے ہیں تو مسلم لیگ آنے والا الیکشن کیسے جیت سکتی ہے ؟؟ سوان کے کئی ممبران پی ٹی آئی یا دوسری جماعتوں میں جارہے ہیں۔ اب جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کو بھی اپنا صوبہ الگ بنانے کا خیال آگیا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے اقتدار میں وہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے صوبے کی بات کرتے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ سب پارٹی چھوڑنے کے بہانے ہیں۔ ہوا کا رُخ بدل رہا ہے اور انہیں علم ہے کہ مسلم لیگ نون دوبارہ اقتدار میں شاید ہی آئے۔ سو انہوں نے الگ صوبے کا بہانہ یا مطالبہ سامنے رکھ کر مسلم لیگ نون سے بغاوت کردی ہے۔ چودھری نثار کا سچ میاں نواز شریف کو پسند نہیں، نہ ہی میاں صاحب تنقید سننے کے عادی ہیں۔ سواس بار چودھری نثار علی خان آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ گوانہیں عمران خان پسند کرتے ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دیتے نظر آتے ہیں لیکن نثار علی خان کسی بھی سیاسی پارٹی کو فی الوقت جائن نہیں کریں گے ۔ پیپلزپارٹی اپنے تئیں دوبارہ اقتدار کے خواب آنکھوں میں لیے ہوئے ہے مگر پنجاب میں اس بار بھی انہیں سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس بار پی ٹی آئی کا جادو سرچڑھ کر بول سکتا ہے اگر الیکشن ہوئے تو۔ کیونکہ بعض تجزیہ نگار ابھی تک الیکشن مقررہ وقت سے آگے جاتا دیکھ رہے ہیں۔ اب اگر پی ٹی آئی پر نظر ڈالیں تو وہاں سارے وہی لوگ نظر آتے ہیں جو کسی نہ کسی پارٹی میں رہے ہیں بلکہ اقتدار کے مزے بھی لوٹ چکے
ہیں، گویا ان دنوں پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ نون اور قاف کے تجربہ کار سیاستدانوں یا اراکین اسمبلی پر مشتمل ہے۔ پی ٹی آئی والوں نے بھی اگر انہی لوگوں سے کام چلانا ہے تو پھر ”تبدیلی “ کا نعرہ کیا ہوا ؟؟۔ سوائے عمران خان یا چند اور چہروں کے، وہی پرانا مال پی ٹی آئی میں اکٹھا ہوگیا ہے۔ جوکسی نہ کسی طرح ہرحکومت کی ، گٹھڑی میں رہا ہے۔
عمران خان کا مو¿قف ہے کہ الیکشن میں جیتنے والے ایسے لوگ ان کی پارٹی میں آسکتے ہیں جن پر کچھ زیادہ کرپشن کے الزامات نہیں ہیں۔ عمران خان کو اتنا فائدہ ضرور ہے کہ وہ اقتدار میں کبھی نہیں رہے اور قوم انہیں بھی ایک موقع دینا چاہتی ہے۔ نئی نسل میں عمران خان کا کریز بھی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عمران خان جیسے سیاستدان کی ضرورت تو ہے مگر ایسے لوگ زیادہ کامیاب نہیں ہوتے عمران نے اپنے بیس اراکین اسمبلی کو نکالنے کا ارادہ بھی کرلیا ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کی منشا کے خلاف سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ دیا ۔ یہ بات لائق تحسین ہے ایسے موقع پرست یا مفاد پرست سیاستدانوں سے قوم کو نجات ملنی چاہیے۔ سینیٹ میں ہمیشہ لوگ پیسے کے زور پر نشستیں خریدتے رہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں سب کچھ جانتے بوجھتے بھی کہ کس نے کتنے پیسے میں اپنا ووٹ بیچا ہے خاموش رہتی ہیں۔ ووٹ بیچنے کا کلچر نیا نہیں ہے مگر آج تک اس بددیانتی کو ختم کرنے کی بات کسی بھی سطح پر نہیں کی گئی۔ اگر الیکشن کا طریقِ کار تبدیل کیا جائے تو اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔ یا پھر عمران خان کی طرح ہر سیاسی جماعت کا سربراہ اتنی جرا¿ت کرے کہ وہ بکاﺅ اور مفاد پرست اراکین اسمبلی کو بے نقاب کرے جو سیاست میں صرف اور صرف پیسہ بنانے کے لیے آتے ہیں۔
ایسے اقدامات سے صاف ستھرے وہ لوگ اسمبلیوں میں آئیں گے جو واقعتاً خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ فی الوقت تو سیاست میں کوئی عام شخص (دیانت دار)آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ سب پیسے والوں کا کھیل ہے اور اب تک پیسہ لگانے والے ہی اقتدار میں آتے ہیں اور وہ دوگنا وصول بھی کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی اراکین ِاسمبلی کے تیس برس پہلے تک کے اثاثہ جات، رہن سہن، بودوباش پر تحقیق کی جائے تو سب چہرے بے نقاب ہو جائیں کہ کل کوئی کیا تھا اور آج وہ کروڑ پتی یا ارب پتی کیسے بنا ہے ؟؟۔
بات دیر سے بولے جانے والے سچ سے شروع ہوئی تھی۔ اب ان ایام میں چودھری شجاعت حسین جیسے رہنما جو انکشاف کررہے ہیں یا گوہر ایوب ، عابدہ حسین اور کئی دیگر سیاستدانوں کی کتابوں سے جو کچھ سامنے آتا ہے اگر بروقت یہ انکشاف کیے جاتے تو قوم کو اس کا فائدہ بھی ہوتا۔ آصف زرداری آراو کا الیکشن تسلیم نہ کرتے، جماعت اسلامی اور نیشنل عوامی پارٹی حالات سے سمجھوتہ نہ کرتیں تو مسلم لیگ نون اقتدار میں نہ آتی۔ دھرنے کے دنوں میں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن اسمبلی میں مسلم لیگ کا ساتھ دے رہے تھے۔ اب بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مسلم لیگ نون کی حکومت بچائی مگر نواز شریف نے پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ یعنی آپ نے اپنے مفادات کے لیے میاں صاحبان کا ساتھ دیا اب وہ زیرعتاب ہیں تو ”جمہوریت “ اور عوام یاد آگئے ہیں۔
اگر سیاستدان، ججز ،جرنلسٹس اور جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بھی آخر کو مرنا ہے تو اس قوم کا فائدہ سوچیں۔ یہ دنیا فانی ہے، ”رہے نام اللہ “باریاں لگا کر اس ملک کو نوچنے والے بھی آخر کو پیوند خاک ہوں گے۔ مصلحت، منافقت اور اپنے فائدے کے لیے چُپنہ رہیں بلکہ سچ بولیں، اور بروقت بولیں۔ دیر سے بولا گیا سچ کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے آپ سچ چھپانہیں سکتے۔ اب سچ کے سوا لوگ کچھ نہیں سننا چاہتے۔ ویسے بھی سانچ کو آنچ نہیں۔ اب کامیاب وہی ہوگا جو واقعتاً اندر باہر سے ایک ہوگا۔ بقول
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا


ای پیپر