”عزت“ ........کو ووٹ دو
22 اپریل 2018 2018-04-22

آج کل ایک نعرہ ، گلا خراب ہونے کے باوجود بھی لگایا جارہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ عوام جس شخص کو بھی منتخب کریں ،خواہ وہ بلدیاتی ممبر ہو یا کروڑوں عوام کا منتخب وزیراعظم ہو۔ لیکن میرا ذہن بار بار یہ سوچتا ہے کہ حال ہی میں سینٹ کے چیئرمین پہ اس کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا ؟ اور چیف جسٹس اس خریدو فروخت کا نوٹس کیوں نہیں لیتے۔ اس کی ابتدا انہی سے کرنی چاہئے، جب عمران خان ، میاں نوازشریف او دیگر جماعتوں کے سربراہا ن اس بات اور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ سینٹ کا ایک ممبر چالیس کروڑ میں بکا ہے، اور ایک خاتون نے شاید اعتراف بھی کرلیا تھا۔ سینٹ میں چیئرمین اپنا لانے کے لئے انہوں نے مدتوں پہلے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ ” جمہوریت بہترین انتقام ہے“ یعنی جمہوریت خریدی جاسکتی ہے، مگر اس کے بعد انہوں نے صرف جمہوریت سے ہی نہیں ، جمہوریت کا منہ کالا کرنے والوں کو بھی اچھل اچھل کر ایسی سنوائیں کہ خود ہی ڈر گئے اور آخری اچھل کود میں ایسی چھلانگ لگائی کہ سمندر پار چلے گئے ،اورڈر کے مارے اپنا ملک ہی چھوڑ دیا۔ بقو منصور آفاق

میری چیخیں اپنی دھڑکن میں چھپا لیتی رہی

کس قدر اپنی سسکتی خامشی زیرک ہوئی

جس کے چاروں سمت ڈھلوانیں ہوں منہ کھولے ہوئے

زندگی منصور وہ وحشت زدہ بالک ہوئی

قارئین میں نے ”دور مشرف “میں اپنے ایک 22 گریڈ کے اعلیٰ عہدیداران کی بپتا سنائی تھی جو یہ واقعہ بیان کرنے میرے گھر آئے تھے۔ عاجزی و انکساری اور ایمانداری کا پیکر ایک دفعہ جی او آر کی گھمن گھیریوں میں اپنی” منزل“ پہ پہنچنے سے قبل ہی بری طرح پھنس کر رہ گیا تھا، جس طرف سے بھی کار دوڑاتا کچھ دیر کی مغز ماری کے بعد واپس گھوم پھر کر اسی جگہ پر آکر رک جاتا۔ تھک ہار کر اس نے گاڑی کا انجن بند کردیا اورماتھا پکڑ کرخضر راہ کا انتظار کنے لگا۔ حسب معمول جی او آر، باہرسے ویران وسنسان ، لیکن اندر سے جگ مگارہی تھی۔ دور دورتک کوئی راہ گیر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔مگر اچانک پیچھے سے بظاہر ایک سنجیدہ اور معتبر شخص” اندر رہنے والے مکینوں“ کی طرح میرے دوست کی گاڑی کے پاس آکر رُک گیا۔ میرے دوست نے اندھیرے اورویرانی میں اس کا وجود غنیمت جانا اور اس سے اپنی منزل کا پتا پوچھنے لگا ، جواب میں اس نے کہا کہ آپ اگر مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیں تو میں آپ کو وہاں تک پہنچا دوں گا۔ شریف النفس افسر نے نہایت خوش دلی سے اپنے برابر والی سیٹ پر اسے بٹھا لیا۔گاڑی سٹارٹ کی اور اجنبی کی رہنمائی میں مطلوبہ پتا ڈھونڈنا شروع کردیا۔

پانچ دس منٹ ، آدھے گھنٹے میں تبدیل ہوگئے۔ ہمارے متین اور بردبار دوست کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرنے شروع ہوگئے۔ لیکن اس کے راہ نما نے اپنا رویہ نہیں بدلا اور اسی طرح رعب، دبدبے کے ساتھ کبھی گاڑی کو اُدھر اور کبھی ادھر لے جانے کا کہتا رہا۔ آخر کار اس نے گاڑی کو ایک سائیڈ پر کھڑا کرنے کو کہا۔

گاڑی رکتے ہی وہ باہر نکلا اور نہایت اعتماد لیکن لاپروائی سے کہنے لگا بھائی صاحب برا مت مانیے گا جس جگہ پر آپ نے مجھے گاڑی پہ بٹھایا تھا بالکل اُس کے سامنے والی جگہ وہ جگہ تھی، جس کو آپ اتنی دیر سے ڈھونڈ رہے ہیں ،اور اس کے ساتھ ہی وہ دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے غائب ہوگیا۔

مجھے اپنی یہ بپتا اور داستانِ غم سناتے ہوئے، جو کہ بالکل صحیح واقعہ ہے، میرا دیرینہ دوست کبھی تو غصے سے لال پیلا ہوجاتا اور کبھی کھکھلا کر ہنس پڑتا اور کہتا دیکھو یار، کتنی عمدگی اور خوبصورتی سے وہ شخص مجھے بے وقوف بنا کر چلا گیا۔ میں نے جواب دیا، بھائی جیسے تمہارے ساتھ ہوا، اللہ کسی کے ساتھ ایسا نہ کرے۔ لیکن تم نے جو اپنی بپتا سنائی ہے ،یہ تو ہماری پوری قوم کی آپ بیتی ہے ۔ قدرت کا یہ مذاق ہمارے اعمال کی وجہ سے خاصے عرصے سے جاری ہے۔ کیونکہ جس طرح کامزاج ،عادات اور اطوار اور قوم کا چال چلن ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ویسے ہی حاکم مقرر کردیتا ہے۔ ہر آمر اور ڈکٹیٹر کئی سال کی حکمرانی کے بعد کہتا ہے ، معاف کیجئے ، دراصل ”جمہوریت“ ہی آپ کی منزل ہے، اب جمہوریت جانے اور آپ جانیں۔ قارئین یہ نام کی” جمہوریت “جیسی امریکہ اور یورپ میں ہے ، میری جمہوریت سے مراد عوام کی ”اکثریت “ کا کردار ہے۔

امریکہ اور بھارت میں اناو¿نسر، سر پہ دوپٹہ نہیں لیتی، پاکستان میں بھی نہیں اوڑھتی حتیٰ کہ پنجابی، سندھی یا بلوچی اور پشتو میں خبریں پڑھنے والا نیوز کاسٹر تھری پیس سوٹ پہن کر خبریں نہیں پڑھ رہا ہوتا؟

تو پھر کس کلچر اور کس اقدار کی ہم بات کرتے ہیں؟ کیا پاکستانی خاتون نے امریکہ میں مقابلہ¿ حسن نہیں جیتا تھا؟ پاکستان میں ڈریس شوز کے نام پر نیم عریاں نمائش عام نہیں ہوگئی؟ کیا فلمی صفحات پر کبھی مائرہ خان کبھی علی ظفر وغیرہ کے اور کبھی وینا ملک ، میرا کے سکینڈلز کی بھر مار نہیں ہوتی۔کیا راہ چلتے یا خاص طورپر بازاروں اور شاپنگ سنٹرز میں جوانوں اور نوجوانوں کی طرح ادھیڑ عمر ہٹے کٹے آدمی بھی آپ کو نیکروں میں نہیں ملتے؟

پاکستان میں کونسی ایسی بات ہے کہ جس کی وجہ سے ہماری پہچان ہو کہ ہم مسلم معاشرے کے باسی ہیں، دنیا کے کتنے ملک ہیں جنہوں نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ لیکن انہوں نے کیبل اور ڈش جیسی خرافات کی کبھی اجازت نہیں دی ۔ ہمارے معاشرے میں یہ زہر باقاعدہ سرکاری اجازت سے سرایت کرگیا ہے اور آئے روز ”پیمرا“ کے ساتھ” مقابلہ¿ مکے بازی“ہوتا رہتا ہے۔

ہماری یہ اخلاق و لباس کی ترقی ”اِٹلی“ اور امریکہ کی ترقی سے کیا کم ہے ۔ اندرون علاقے کی لڑکیاں بھی جینز اور Sleev Less کپڑے پہنتی ہیں۔ اِٹلی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہاں کی عورت ایک سگریٹ کی ڈبیا کے عوض بک جاتی ہے۔

قارئین آپ یقین کریں، میں زندگی میں کبھی اٹلی نہیں گیا، مگر میرے کچھ دوست انسانی شکار کیلئے اٹلی اور پاکستانی نژاد اٹلی کے شہری جانوروں کے شکار کے لئے پاکستان آتے ہیں۔ میرا یہ کالم لکھنے کا مقصد تخریبی نہیں تعمیری ہے۔ میری محض اتنی سی گزارش ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی تہذیب و تمدن اور اقدار میں فرق رکھنا لازم ہے۔ وگرنہ امریکہ اور پاکستان میں رہنا ایک جیسا ہوتا جارہا ہے۔

ہماے اسلاف تو یہ تھے کہ حضرت عمرؓ اپنی وجہات اور طاقت میں بھی بینظیرتھے، لیکن خلافت کا” بھار“ اٹھانے کے لئے ان کے جسم کی ہڈیاں نظرآتی تھیں ،اور احساس ذمہ داری او رآخرت کے خوف نے ان کا یہ حال کردیا تھا۔

جب کہ ہمارے ہاں یہ صورت حال ہے کہ حضرت قائداعظمؒ کے بعد اقتدار میں آتے وقت حکمرانوں کی ہڈیاں نکلی ہوتی ہیں۔(واضح رہے

کہ یہ مشرف دور میں مشرف کو کہا تھا) مگر کچھ عرصے کے بعد کپڑے کھلے کرانے پڑتے ہیں۔

ایک دفعہ جوش ملیح آبادی سے کسی نے کہا تھا کہ تمہارا فلاں قریبی شخص مر گیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا تھا کہ جب تک اوپر والا زندہ ہے یہ لوگ ایسے ہی مرتے رہیں گے۔

میں کہتا ہوں کہ ہمارے ”اوپر والے“ جب تک زندہ رہیں گے غریب ایسے ہی مرتے رہیں گے، عوام کو حکمران سیدھا کرسکتے ہیں ،اور حکمرانوں کو صرف خدا۔ میں نے اسی لئے یہ کہا تھا کہ ووٹ کو عزت دو نہیں، بلکہ عزت کو ووٹ دو کا مقصد یہ ہے کہ ووٹ اُس کو دیا کریں جو آپ کی عزت کرے۔

انگریزوں نے صدیوں ہم پہ حکمرانی کرنے کے بعد ہر قوم اور ذات برادری کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کو کیسے زیر تسلط یعنی قابو میں کیا جاسکتا ہے ۔بلوچوں کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا کہ انہیں صرف اورصرف عزت دو ،یہ عزت کے بھوکے ہوتے ہیں ،اور عزت پہ بک جاتے ہیں۔

قارئین ! حالیہ سینٹ الیکشن میں ہر بلوچی سینیٹرز نے کہا ،کہ ہمیں عزت نہیں دی گئی تھی۔ لہٰذا ہم نے تنگ آکر یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ویسے قارئین، سینٹ کس مرض کی دوا ہے، محض نقالی ریاست ہائے متحدہ ہے۔ سینٹ کو توڑ دینا چاہیے کیونکہ یہ تو یوں دلوں کو توڑنے کا سبب بن رہی ہے!!


ای پیپر