پارلیمنٹ، اپوزیشن اور نامردوں کا شہر
21 ستمبر 2020 (11:16) 2020-09-21

خلق خدا حیرت زدہ، انگشت بدنداں کہ سالہا سال کے تجربہ ساز، آزمودہ کار، سیاسی تھپیڑے کھا کھا کر ایوانوں میں پہنچنے والے غوطہ زن، ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے کرتب دکھانے والے بازیگر پہلی بار ایوانوں کا منہ دیکھنے والے نو خیز جوانوں، مسیں بھیگتے ہی رکن اسمبلی بننے والے نا تجربہ کار سیاستدانوں اور منہ پھٹ وزیروں مشیروں سے کیسے مار کھا گئے۔ حکومت زیادہ ذہین، چابک دست، فطین، (براہ کرم اسے ضرورت شعری کے تحت بھی ت سے نہ پڑھا جائے ورنہ فتنے کا ڈر ہوگا) اور عقل مند نکلی، اس نے چند دن سوچ بچار کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا اور اپوزیشن کو پچھاڑتے ہوئے نو دس بل منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ اپوزیشن اکثریت کے باوجود اقلیت کو بلوں کی منظوری سے نہ روک سکی۔ شاید پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ مشیر قانون ارکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر کھڑے ہو کر بل پیش کرتے رہے۔ اپوزیشن ارکان منہ تکتے رہ گئے۔ سچ بتائیں یہ جمہوریت یا پارلیمنٹ کی نہیں، بکھری بکھری ٹوٹی پھوٹی بلکہ ٹوٹی فروٹی اور بین کرتی اپوزیشن کی شکست ہے، خلق خدا کی حیرانی بجا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اہمیت مسلمہ، اپوزیشن ارکان کو بتا دیا گیا تھا کہ حاضری ضروری ہے مگر 52 ارکان غیر حاضر، ان میں 16 سرکاری ارکان ایوانوں میں نہ  پہنچ سکے اپوزیشن کے 36 ارکان کہاں غائب ہوگئے؟ چند ارکان بیرون ملک، کچھ نیب کے شکنجے کے خوف میں مبتلا مجبوری تسلیم مگر رات دن ٹی وی چینلوں پر تقریریں کرنے والے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان کہاں تھیَ؟ موقع پر موجود ہوتے تو محفل کا رنگ اور ہوتا ،حکمران فتح کے نقارے بجاتے ایوان سے رخصت نہ ہوتے اور اپوزیشن بلوں کی کاپیاں پھارتی اور شور مچاتی نظر نہ آتی۔ اپوزیشن دن کے اجالے میں کھلی آنکھوں سے دھوکہ کھا گئی، اپوزیشن کے سارے ارکان حاضر ہوتے تو کم و بیش 16 ووٹوں کی اکثریت سے بلوں کی منظوری میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ بعد از مرگ واویلا، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے اسپیکر سے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا جو نہیں مانا گیا، اب کیا کریں گے؟ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے یہی حشر ہوگا۔ عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔ وقت کے ضیاع اور ذہنی پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ غیر حاضر ارکان کی جواب طلبی ہونی چاہیے۔ مگر نہیں ہوگی گھر کا نقصان ہے غوطہ زن دوسری طرف پہنچ جائیں گے۔ کالی بھیڑوں کا پتا لگایا جانا چاہیے سیانے بیانے لوگوں کو ان کا پتا ہے وزیر اعظم کے انتخاب، سینیٹ انتخابات، چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور کئی دوسرے موقعوں پر یہی کچھ ہوا، اپنے دریدہ دامن کو پھیلانے سے کیا حاصل ہوگا، تلاش کیجیے ن لیگ کے 7 ارکان کو چھوڑ کر باقی کہاں رہ گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان کو کیا ہوا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کے 3 ارکان کہاں گئے اے این پی کے 2 ارکان کیوں نہ آسکے۔ ذہنوں میں کئی سوالات کلبلا رہے ہیں۔ مگر ’’یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے‘‘ کہ اپنے پنڈی والے شیخ صاحب چینلوں پر بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں کہ اپوزیشن ٹائیں ٹائیں فش، ن لیگ ن اور شین میں تقسیم، دسمبر سے پہلے دھڑے بن جائیں گے۔ حقائق تلخ ہیں بہت پہلے عرض کیا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان کی اکثریت ان کی اپنی نہیں کسی اور کی ہے ’’کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی‘‘ جن کے کہنے پر جماعتوں میں آئے ان سے رابطہ کیسے توڑیں، توڑنا بھی چاہیں تو 

ممکن نہیں جنہوں نے رسیاں تڑانے کی کوششیں کیں انہوں نے بھگتا ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ عشق کا امتحان اتنا آسان نہیں لمبی کھجور ہے چڑھنا اترنا مشکل، منظر و نظر جوہر ووہر سب غائب ہوجاتے ہیں ۔کسی نے کہا سب ملی بھگت ہے، یقین کرنا مشکل تاہم اتنا ضرور ہے کہ ارکان کی باگیں لیڈروں کے ہاتھ میں نہیں، ورنہ ایسے اہم مواقع پر غیر حاضری چہ معنی دارد؟ اب کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں حکومت سینیٹ میں اقلیت میں ہونے کے باعث اتنے دنوں قانون سازی نہ کرسکی آرڈی ننسوں پر گزارہ چل رہا تھا۔ مگر ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر لٹکنے لگی تو قانون سازی کی ضرورت پڑی، پرانے شکاری میدان میں اترے روزانہ ملاقاتوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مشورہ دیا، بخوبی جانتے تھے کہ اپوزیشن کی عددی اکثریت ہے مگر یقین دلایا گیا کہ جتنے آسکے اتنے ہی آئیں گے۔ چنانچہ اتنے ہی آئے باقی تبصرے اور تقریریں کرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے حکومت کے لیے کاروبار ریاست چلانا آسان ہوگیا۔ آئندہ بھی اسی طرح کہکشائوں سے گزر کر قانون سازی کرلی جائے گی۔ پتھروں سے گزرنا اپوزیشن کا مقدر ٹھہرا۔ ’’اک سلگتا، چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں، بات کرتے ہو یگا نہ کس امین آباد کی‘‘ حکومت مطمئن ہے کہ ایک کٹھن مرحلہ سے کامیابی کے ساتھ گزر گئی ،گزرتے گزرتے اپوزیشن پر غداری کا لیبل بھی لگا گئی اس داغ کو دھوتے کتنے سال لیں گے کم از کم 5 سال زیادہ سے زیادہ دس سال، توسیع ملتی رہی تو بینڈ باجے بجتے رہیں گے، اپوزیشن جماعتیں اس تمام عرصے میں آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد کرتی رہیں گی کتنے دنوں سے اے پی سی کا شور سن رہے تھے مولانا فضل الرحمان نے سمجھایا تھا کہ حلوہ تیار ہے جتنا کھا سکو کھا لو ورنہ حکومت کھا جائے گی ن لیگ کے شہباز شریف ہچکچاتے رہے کیا کریں بہو بیٹیاں تک نیب کی طلبی سے بچ نہیں سکیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے مگر ہو رہا ہے آصف زرداری پر جرم کی چادر تن گئی یعنی فرد جرم عائد ہوگئی۔ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ لندن تک پہنچ گئے یاروں کو اے پی سی کی پڑی ہے۔ نواز شریف پر یاد آیا عجیب بخت لے کر آئے ہیں۔ بقول انور شعور ’’ہوتے ہیں خوشگوار بھی ناخوشگوار بھی، حالات وواقعات سیاست کے کھیل میں، کچھ لیڈروں کی عمر گزرتی ہے اس طرح، دو سال اقتدار میں دس سال جیل میں‘‘ تمام حالات کے باوجود پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ’’حلوے کی دیگ‘‘ کا منہ کھول دیا۔ ان کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد ہوگئی دو روز قبل انہوں نے ٹیلیفون پر میاں نواز شریف سے بھی رابطہ کرلیا خیریت معلوم کی اور انہیں اے پی سی میں ورچوئل شرکت کی دعوت دے ڈالی۔ میاں صاحب بھی مہینوں سے سیاستدانوں کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے شرکت کی دعوت قبول کرلی۔ اے پی سی میں عوامی احتجاج سے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، جلسے جلوسوں کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر لانے کے ایجنڈے پر اتفاق، میثاق جمہوریت ٹائپ کا معاہدہ، ایجنڈے پر اتفاق پہلے بھی تھا عملدرآمد کی کیا صورت ہوگی؟ ساکت جھیل میں بھاری پتھر کون پھینکے گا وفاقی وزیر داخلہ اسے پتھر مارنے سے تعبیر کریں گے پہلے پتھروں کا فیصلہ نہیں ہوا، جیالے کتنے ہوں گے متوالے کتنی تعداد میں سڑکوں پر آئیں گے۔ امید کی کرن نظر آتی ہے؟ روشنی کی لکیر مولانا فضل الرحمان کی طرف جاتی ہے لیکن انہیں جھوٹی تسلیاں دے کر بھرے میلے کو اجاڑنے والے بھی تیار بیٹھے ہیں ایک انکوائری بند کر کے ریلیف دے دیا گیا حالانکہ قرضوں کی معافی کی دستاویزات قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اپنے آدمی ہیں آنکھوں کی شرم مارتی ہے۔ آخر حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے حکومت اور اپوزیشن میں حالیہ قانون سازی کے بعد کشیدگی میں بلا شبہ اضافہ ہوا ہے۔ اے پی سی اسی تناظر میں منعقد ہوگئی لیکن اے پی سی میں شریک جماعتوں میں شراکت عمل، وقت گزرنے کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ بقول شخصے ’’ہیں ساتھ ساتھ مگر فرق ہے مزاجوں میں‘ میرے قدم میری پرچھائیں سے نہیں ملتے‘‘ اپوزیشن گرم، نیب سرگرم، حالات کشیدہ حکومت اپنے سیانوں کی مدد سے گرم و سرد چشیدہ عوام مہنگائی اور زندگی کے مشکل حالات سے نمدیدہ، رنجیدہ، عوام مہنگائی اور اپنی جیبوں پر سرکاری لوٹ مار کی ’’زیادتی‘‘ برداشت کر گئے مگر روزانہ درجن بھر اجتماعی زیادتی کے واقعات ناقابل برداشت، یوں لگتا ہے کہ ’’بیٹھے ہوئے ہیں قیمتی صوفوں پہ بھیڑیے، جنگل کے لوگ شہر میں آباد ہوگئے‘‘ اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو ناکارہ بنانے کے قانون پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔ قانون بن گیا اور عملدرآمد شروع ہوا تو اللہ معاف کرے تین ساڑھے 3 کروڑ عابد اور شفقت سڑکوں پر تالیاں بجاتے پائے جائیں گے۔ ان کی آبادکاری اور روزگار فراہمی مسئلہ بنے گی لیکن سیانے کہتے ہیں کہ ان کے لیے گجر پورہ کے جنگلوں پر مشتمل نیا شہر آباد کیا جائے گا جہاں اجتماعی زیادتیوں والے مجرم’’ اجتماعی زندگی ‘‘گزار سکیں گے لیکن اس شہر کے قیام کے لیے پھر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا پڑے گا۔ 


ای پیپر