گیم چینجر۔۔۔۔۔۔۔۔آل پارٹیز کانفرنس
21 ستمبر 2020 (11:15) 2020-09-21

جب سینٹ کے اجلاس میں فیٹف بل پر حکومت کو شکست ہو کئی تو تو وزیر اعظم عمران خان نے یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی تھی کہ اپوزیشن نے بل کو مسترد کر کے پاکستان کے مفادات کو گہرا گھائو لگایا ہے ،اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے پر اعتماد لہجے میں یہ بھی کہا کہ ہم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کرا لیں گے۔ایسا دعویٰ انہوں نے کیوں کیا؟۔ پارلیمنٹ کی گنتی کے حساب کتاب سے اپوزیشن اکثریت میں تھی۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ حکومت نے اپوزیشن پر بھاری ہونے کے لیے اپنے پاس متبادل منصوبہ بنا رکھا تھا، اس منصوبے کے ہوم ورک کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی مدد گار بھی ہو گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس جس عجلت میں بلایا گیا ،اور اپوزیشن کو تیاری کا مناسب وقت بھی نہیں ملا۔ اپوزیشن کے دعوے کے مطابق اس کے ارکان کی تعداد پھر بھی زیادہ تھی۔اپوزیشن کے اصرار کے باوجود سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بولنے نہ دیا۔مطالبے کے باوجود نہ دوبارہ گنتی کرائی اور نہ اپوزیشن ارکان کو الگ الگ کرکے گنا گیا۔حکومت نے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود سینیٹ سے مسترد کئے گئے تمام بل منظور کرا لئے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی ارکان کی مجموعی تعداد 216 ہے جن میں سے 200 اجلاس میں شریک جبکہ 16 غیر حاضر تھے۔مشترکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی مجموعی تعداد 226 ہے جن میں سے 190 ارکان نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی اور 36 غیر حاضر رہے۔  اپوزیشن کی طرف سے نشانہ سپیکر صاحب تھے۔ سابق سپیکر ایاز صادق نے ہائوس میں کھڑے ہوکر کر کہا جو کچھ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران جو کچھ ہوتا ہے ان کا دل یہاں آنے کو نہیں کرتا۔ سپیکر تو پارلیمنٹ کا محافظ ہوتا ہے پھر ایسے خیالات کیوں سامنے آرہے ہیں۔ اپوزیشن نے ان پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ جو ہونا تھا ہو چکا۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو شکست دیدی اور اپنی وکٹری تقریر میں وہ نواز شریف خاندان کو نہیں بھولے اور ان کے والدین کا نام لے کے وزیر اعظم صاحب نے گوالمنڈی سے سائیکلوں کی دوکان تک گئے۔ اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں بدلی اس پر حکومت نے جشن منایا۔ بنتا بھی تھا کہ انہوں نے سیاست کی بازی جیتی تھی۔اپوزیشن کی آل پاکستان پارٹیز کانفرنس جس کیلئے کہا جارہا تھا کہ اب اس میں کیا نکلے گا ایک وزیر تو پارلیمنٹ میں اپنی کامیابی پر اتنا تکبر میں آئے کہ انہوں نے اپوزیشن کی کہانی ختم ہونے کا بیان داغ کر وزیر اعظم سے خوب داد وصول کی۔ مگر ایک بیان سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایسا داغا کہ اپوزیشن کی اے پی سی جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس میں سے ن سے شین نکلے گی۔ نواز شریف نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اے پی سی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ نواز شریف جن کے عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔ انہوں نے طویل خاموشی کو توڑتے ہوئے لندن سے جو اعلان کیا اس کا ردعمل بھی حکومت کی جانب سے شدید آیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی نواز شریف اور زرداری کو نشانے پر رکھا اورکہا کہ یہ اے پی سی ملزمان کا اجتماع ہے۔ مگر ملزمان کا اجتماع تو بھاری پڑ گیا حکومت پر۔ ایک دن پہلے پوری وفاقی حکومت سکتے میں نظر آئی۔ اس اے پی میں حکومت کے لیے کئی سوال ہیں اب حکو مت کو ٹف ٹائم ملے گا جو فیصلے اے پی سی میں ہوئے ہیں اس سے حکومت کو اب دبائو میں کام کرنا پڑے گا۔

اے پی سی ایک تاریخی مگر نتیجہ خیز سیاسی اجتماع بنا جماعت اسلامی کے علاوہ اس میں پندرہ جماعتیں شریک ہوئیں ۔یہ اے پی سی اپوزیشن کا بڑا پلیٹ فارم بنے گا۔ مرکز نگاہ مریم بھی رہی ۔ حقیقت ہے کہ یہ سارا کچھ قدرت کا کھیل ہے۔حکومت کے غیر جمہوری طرزعمل نے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونے پر اکسایا۔ نواز شریف اور زرداری کی شرکت اور خطاب کے فیصلہ نے کانفرنس میں جان ڈال دی، میاں نواز شریف نے طویل عرصے کے بعد ہائی پروفائل فورم پر سیاسی خطاب کیا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کا خطاب بھی 

اہمیت کا حامل بن گیا۔ اس سے پہلے نواز شریف نے اپنا ٹوئٹر اکائونٹ بنا لیا اور اپنا پہلا ٹویٹ بھی کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ فالوورز کی تعداد دو دن میں لاکھوں تک جا پہنچی ہے۔حکومت کی جانب سے نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھیجے جانے کے بعد نواز شریف کا اے پی سی سے خطاب ان کا پاکستانی سیاست میں بڑا قدم ثابت ہوا۔ نواز شریف نے خطاب میں پاکستان کی مشکلات کا حوالہ دیا اور انہوں نے اے پی سی کے انعقاد کو فیصلہ کن موڑ بھی قرار دیا۔ انہوں نے سب سے اہم بات اپنے خطاب میں یہ کی "ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں، آج نہیں تو کب کریں گے، مولانا کی سوچ سے میں متفق ہوں۔" نواز شریف نے بڑی گہری بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے نظریے سے متفق ہونے کا مطلب صاف ہے کہ حکومت کو اب برداشت نہیں کیا جائے  گا۔ مولانا فضل الرحمان نواز شریف کو 2013 کے انتخاب کے بعد کہہ رہے تھے کہ اقلیتی پارٹی پی ٹی آئی کو کے پی کے کی حکومت نہ دی جائے مگر نواز شریف نے ان کی بات نہ مانی۔ دوسری بار اسلام آباد دھرنا بھی دو بڑی جماعتوں کی عدم شرکت کی وجہ سے ناکام ہوا تھا۔ اپنے خطاب میں نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے وعدے کو بھی دہرایا " پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں" نواز شریف نے حکومت کی کرپشن۔ بنی گالہ پر سوالات اٹھائے۔کہ حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، یہ ان میں کامیاب نہیں ہو گی، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں۔سب سے اہم بات شہباز شریف نے 2018کے الیکشن میں دھاندلی پر پوری روشنی ڈالی۔ اب شہباز شریف نے ووٹ کو عزت دو پر بات کی اور انہوں نے زور دے کر سلیکٹڈ وزیر اعظم کا طعنہ دیا۔اے پی سی میں آصف زرداری نے کہا کہ خوشی ہے کہ ہماری بیٹی مریم نواز بھی یہاں ہیں، مریم قوم کی بیٹی ہیں، انہوں نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ 18 ویں ترمیم آئین کے گرد دیوار ہے جس سے کوئی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، اے پی سی کی کامیابی کا سہرا آپ سب کے سر ہے، ہم نے دیکھا انہوں نے کیا تکلیف برداشت کی، ہم سمجھ سکتے ہیں۔وہاں بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی خوش خبر سنائی وہاں انہوں نے ایک تحریک چلانے اور عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان بھی کیا۔ آگے چل کے اس کے فیصلے میں گیم چینجر ثابت ہو ں گے اس کا سارا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جو اصولی طور پر چاہتی تھیں کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے تاکہ یہ عوام کے سامنے پوری طرح ایکسپوز ہو سکے مگر حکومت اپنی گڈ گورننس کی بجائے اپوزیشن کو فنا کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ میڈیا پر بھرپور مہم چلانے کے باوجود شین اور نون کا جواز اور آثار پیدا نہیں ہو سکے۔ اب نواز شریف کا یہ نعرہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘اپوزیشن کا نعرہ بن گیا ہے۔اب بڑا اتحاد کمزور حکومت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اب مسلم لیگ ق کا انتظار ہے۔


ای پیپر