خدارا کان کنو ں کی جانب بھی نظر کر یں
21 ستمبر 2020 (11:15) 2020-09-21

نہ مد عی نہ شہا دت حسا ب پا ک ہوا 

یہ خو نِ خا ک نشیانا ںتھا رزقِ خا ک ہوا 

ٖفیض احمد فیض کے اس شعر کی دل دہلا دینے وا لی تعبیر خیبر پختونخوا ہ کے ضلع مہمند میں پہا ڑی تو دہ گر نے کے نتیجے میں با ئیس مز دو رو ں کی ہلا کت کے سلسلے میں سا منے آ ئی ہے۔ مقام افسوس ہے کہ پاکستان میں کان کنی کا شعبہ اٹھارہویں صدی کے طور طریقوں پر ہی کام کررہا ہے ، لہٰذا حادثات کے رونما ہونے کا تسلسل برقرار ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روز کا معمول کہا جاسکتا ہے۔ مختلف معدنیات مثلاً نمک، کوئلہ اور جپسم کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کی حالات سخت مشقت کے باوجود انتہائی پسماندہ ہیں اور نہایت قلیل اجرت سے جڑے ہونے کی وجہ سے گھمبیر مسائل کا شکار بھی ہیں۔ ایسا کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں کانوںکے مالکان بااثر ہوتے ہیں، ان کو کان کنوں کی ترقی اور ان کی صحت و سلامتی سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ کان کن، کانوں میں میتھین گیس کے جمع ہوجانے، کان کے بیٹھ جانے، کان میں ہوا کا دبائو کم ہوجانے، آگ لگنے، زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ حقائق اور اعداد و شمار صرف بلوچستان کے ہیں۔ ایک بڑی تعداد ان مزدوروں کی بھی ہے جن کو کان کا ٹھیکیدار اس کا قانون کے مطابق ریکارڈ بنائے بغیر دیہاڑی دار مزدور کے طور پر صرف سستی لیبر کے حصول کے لیے کام پر بھیج دیتاہے۔ ایسا ورکر اگر حادثے میں مارا جائے تو اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ کان کے حادثات میں جو مزدور زخمی ہوجاتے ہیں ان کی زیادہ تعداد زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتی ہے۔پنجاب کے ضلع سرگودھا میں جہاں پہاڑیوں کو توڑ کر بجری بنانے کے لیے پتھر حاصل کیا جاتا ہے اس شعبہ میں سینکڑوں مزدور پہاڑیوں سے گر کر یا پہاڑیوں کے پتھروں کے نیچے آ کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کا تعلق زیادہ تر ضلع سوات، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخواہ کے دور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اور جب یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ برقرار رکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ کانوں کے اندر رونما ہونے والے حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ تین سے سات ہزار فٹ کی گہرائی میں جا کر کام کرنے والے کانکن، کان میں اڑنے والی گرد، ہوا کے کم دبائو اور کام کی سختی کی وجہ سے ٹی بی، دمہ، پٹھوں کی مختلف بیماریوں کے علاوہ خارش اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں کانوں سے مال گدھوں 

پر لاد کر کان سے باہر لایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بھی ایسی کان نہیں جس آپ کھڑے ہو کر کان کے اندر جا سکیں۔ کان کنوں کو دوران کام پینے کے 

لیے صا ف  پانی تک میسر نہیں ہوتا جس کی سپلائی قانون کے مطابق ضروری ہے۔ کان کن دوران کام گندا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شعبہ ملک کی کل آمدنی میں 3 سے 5 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ محنت کش وابستہ ہیں، اس شعبے کو ترقی دے کر قومی آمدن میں اس کے حصہ کو بہت مناسب حد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا کون کرے اور کیوں کرے؟ایک جانب تو پاکستان میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو کسی بھی قسم کے حقوق حاصل نہیں ہیں بلکہ وہ بے چارے تو مائنز یعنی قبروں میں مزدوری کرکے روٹی روزی کماتے ہیں لیکن دوسری جانب لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں دنیا نے انسان دوستی، ہمت و جرأت کا عجب نظارہ دیکھا۔ وہ بھی اڑسٹھ دن تک۔ کان میں بتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور پچاسی فیصد نمی تھی جب کارکنوں کو زندہ بچانے کے لیے چھ سو میٹر سے زیادہ تک امدادی کیپسول بنایا گیا تھا، جس کے ذریعے ان کو خوراک فراہم کی جاتی تھی۔ جائے وقوع پر موجود دو ممالک کے صدور نے حصہ لیا بلکہ ٹیلی فون کے ذریعے صدر اوباما اور وزیراعظم کیمرون سمیت کئی عالمی شخصیات بھی شامل رہیں۔ یعنی کان کن کو بحفاظت نکالنے کا ایسا مشن تھا جو دنیا میں آج ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چلی کی حکومت اور ذمہ دار اہلکاروں نے امدادی مشن تخلیق کیا اور بعد میں جس انداز میں اس کی بظاہر انتہائی معمولی و غیرمعمولی جزیات پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس سارے عمل کو ہم انسانیت کی معراج سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو کان میں اس کا ریکارڈ مکمل کیے بغیر نہ بھیجا جائے۔ ٹھیکیدار کے نمائندے قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر کان کے علاقہ میں ایک ڈسپنسری ہو جس میں ڈاکٹر سمیت تمام سہولیات موجود ہوں، اس کا قیام ضروری ہے۔ ان سہولیات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ایمبولینس جو کسی بھی ایمرجنسی میں مزدوروں کو جلد از جلد ہسپتال تک پہنچائے، اس کا دور تک کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس شعبے میں کان کنوں کی صحت وسلامتی کا زیادہ تر دارومدار محکمہ کان کنی کے انسپکٹر کا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کانوں کے لیز ہولڈرز کان کنوں کو کان میں کام کرنے کے لیے ان کی حفاظت کا تمام سامان ان کو بہم پہنچارہے ہیں یا نہیں۔ اول تو محکمہ کے پاس انسپکٹرز کی مطلوبہ تعداد ہی نہیں ہے کہ وہ تمام کام بخوبی سرانجام دے سکیں۔ انسپکٹر حضرات دور دراز اور پرخطر علاقوں میں جا کر انسپیکشن کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ بلوچستان کی کانوں میں موجود میتھین گیس کی وجہ سے سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ کانوں میں اس مہلک گیس کی نشان دہی کرنے والے انڈیکیٹرز لگائے جائیں۔ ایک انڈیکیٹر کی مارکیٹ میںقیمت 25 ہزار روپے ہے لیکن کوئی لیز ہولڈر یہ انڈکیٹر لگانے کو تیار نہیں اور متعلقہ محکمے اس پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کان سے کوئلہ وغیرہ نکالنے کے لیے مزدوری کا تعین ریٹ کے حساب سے ہوتا ہے۔ جتنا مال نکالو گے اتنی مزدوری ملے گی۔ اس تمام مزدوری کا حساب لیز ہولڈر یا ٹھکیدار کے کار خاص جمعدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ آج تک کوئی بھی کان کن اپنی محنت کی پوری اجرت ان جمعداروں سے حاصل نہیں کرسکا ماسوائے ان علاقوں کے جہاں کان کنوں کی مضبوط یونینز موجود ہیں۔انگریز دور میں کھیوڑہ کے مقام پر ایک بڑی کان کا منصوبہ بنایا گیا اور مختلف جگہوں سے لوگوں کو اکٹھا کرکے کان کا کام مائننگ میتھڈ سے شروع کیا گیا تاکہ جگہ جگہ سے کھدائی کے ذریعے وقت اور طاقت کے ضیاع کو روکا جاسکے نیز کم سے کم اخراجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔ کم اجرت اور سخت محنت و مشقت سے ان لوگوں کی زندگیاں نہایت تلخ وبدمزہ تھیں حالانکہ یہ لوگ پورے جہاں کو لذت دہن پہنچانے میں سرگرم عمل تھے۔ 1930ء سے قبل ان مزدوروں کو پیداوار کا ٹارگٹ دے دیا جاتا تھا اور نمک کی کانوں کو باہر سے تالا لگادیا جاتا۔ جب تک کوئی فرد ٹارگٹ پورا نہ کرپاتا اس کو گھر جانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اس کے علاوہ 1937ء میں کھیوڑہ نمک کان پر جیل بھی بنائی گئی جس میں ملک کے کونے کونے سے قیدیوں کو رکھا گیا اور ان سے بھی بیگار لی جاتی رہی آخر 1930ء میں کان نمک کے ان محنت کشوں کی یونین بنائی گئی اور عورتوں پر بچوں کے کام سے رہائی ہوپائی۔ آج بھی ان معدنی مزدوروں کے حالات نہایت دگرگوں ہیں اور ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ استحصالی رویے سے ان سے بیگار لی جا رہی ہے۔ کان کنوں کے دکھ، مصائب و آلام بیان کرنے سے قاصر ہے، حالیہ سانحہ قومی نوعیت کا ہے، قلم کیسے بیان کرسکتا ہے کہ زمین کے اندر ہزاروں فٹ نیچے کام کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ زندہ درگور ہوجاتے ہیں۔ اس بات سے کسی طور پر انکار ممکن نہیں ہے کہ کان کنی دنیا کا قدیم ترین پیشہ ہے۔ تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ترقی میں کان کنی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ امریکہ سے لے کر یورپ تک تمام ممالک کی ترقی کی بنیادیں کان کنوں کی لاشوں پر ہی رکھی گئی ہیں۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ پاکستان میں کان کنی کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کا جو سفاکانہ اور بے رحمانہ استحصال جاری و ساری ہے وہ اسی تسلسل کا حصہ ہے جو نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہا ہے۔ 


ای پیپر