ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور…؟
21 ستمبر 2020 (11:13) 2020-09-21

حکومت کے سروے کودیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریںبہہ رہی ہیںکوئی شہری بھوکا نہیں سوتا امن وامان کی صورتحال یہ ہے کہ لوگ دکانیں کھلی چھوڑکرنماز کیلئے چلے جاتے ہیں چوری چکاری ختم ہو کر رہ گئی ہے تھانے دارلا امن اور پولیس عوام کی خادم بن گئی ہے کوئی پریشانی ملک میں رہ نہیں گئی ہرطرف چین ہی چین ہے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابرہے حقیقی معنوں میں پاکستان ریاست مدینہ بن گیا ہے اللہ اللہ خیر سلا؟حقائق کو دیکھیں تو حکمران اور ان کے وزیر مشیرزمین وآسمان کے قلابے ملا رہے ہیں جبکہ لوگ سکتے میں ہیں مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے؟ عوام کا پیٹ اعدادو شمار سے بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح میں بے پناہ اضافے کے نفسیاتی پہلو کو بھی نظرانداز کردینا بے وقوفی ہو گی، نفسیاتی مسائل کی جڑیں کہیں نہ کہیں مہنگائی اور بے روزگاری سے جڑی ہیں،حکمران ہیں کہ ماننے کو تیار نہیں،مختلف سروے اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ غیر منصفانہ نظام، بدعنوانی، اقربا پروری کی وجہ سے ملک دوراہے پر کھڑا ہے۔

بیچ کے خود کو بھی خوشیاں نہ خریدی جائیں

تیری دنیا میں نہ ایسی کبھی مہنگائی ہو

تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کی کمی اور پاکستان میں اضافے سے محنت کش طبقہ کو زندہ درگور کردیا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہادوسری طرف سرکارمہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے آج اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں مارکیٹ میں بھنڈی توری 100روپے کلوگھیا کدو 120 روپے کلوشملہ مرچ 200 روپے کلو کریلے 120 روپے کلو شلجم 120 روپے کلو آلو 60 روپے کلو پیاز 70 روپے کلو گوبھی 120 روپے کلو لیموں 150 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں جبکہ آٹا مارکیٹ سے غائب ہے چکی آٹا تقریباً 80 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے گھی، کوکنگ آئل، چینی، دالوں کے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں دودھ اور دہی کے نام پر کیمیکل بیچا جا رہا ہے،یوٹیلٹی سٹورز پر بھی ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ ہر چیزکے ریٹ عوام کو لوٹنے کیلئے ہیں، سرکار باتوں سے آگے نہیں بڑ ھ رہی وزیر،مشیر،ترجمان ٹھنڈے کمروں سے نکلنا گوارہ نہیں کرتے وزیر اعظم،وزیراعلٰی پنجاب عوام کا معیار زندگی بلندکرنے کے رات دن دعوے کر تے نہیں تھکتے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے مہنگائی کے مارے لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں پہلے لوگ کہتے تھے دووقت کی روٹی پوری کرنی مشکل ہے اب کہا جا رہا ہے کہ ایک وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہے۔

آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا

کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہو گا

 بڑھتی ہوئی مہنگائی سے آجکل بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اشیاء ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، الیکشن سے پہلے موجودہ حکومت نے کئی وعدے کئے جو وہ پورے نہ کر سکی، روز بروز مہنگائی میںاضافہ ہو رہا ہے اور تنخواہیں وہیں کی وہیںہیں جس سے عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے خاص کر نجی شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے وزیر اعطم عام آدمی کی تنخواہ میں گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں ،ہرچیز پر ٹیکس لگادیا گیا ہے مہنگائی سیلابی ریلے کی طرح عوام کو بہا کر لے جا رہی ہے اور اس میں وہ لوگ ڈوب رہے ہیں جن کے تیرنے کا کوئی امکان نہیں،جب تبدیلی سرکار اقتدار میں آئی تب مالیاتی پھیلاؤ قابو میںتھا اس کے بعدمالیاتی پھیلائو بے قابو ہوا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا،قرض کی شرح دو سالوں میں پچھلے دس سالوں سے بھی بڑھ گئی ہے، اس کے باوجودملک میں معیشت کی بہتری کا ڈھنڈوراپیٹا جا رہا ہے، مہنگائی کی جڑیں کاٹنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو پھر کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جو مہنگائی میں اضافے کا باعث ہیں،حکومت کا کہنا ہے کہ مہنگائی مافیاز اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہے تو پھر ایسی حکمرانی کا اللہ ہی حافظ ہے جو ان کونکیل نہ ڈال سکے،جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اعتراف کیاہے کہ ملک میں موجودہ صورتحال مشکل ہے لیکن معیشت کی بحالی اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات صحیح راہ پر گامزن ہیں، ان کے بقول موجودہ صورتحال مشکل ہے لیکن معیشت کی بحالی اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ہماری پالیسیاں صحیح راہ پر آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج ہر شخص مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے۔

مہنگائی ایک ایسا دہشت گرد، ایک ایسا بم، ایک ایسا مجرم جو نجانے روز کتنے ہی لوگوں کی جان لے لیتی ہے کتنوں کو زخمی کرتی ہے اور کتنے ہی لوگوں کو تمام عمر کے لئے معذور کر دیتی ہے اور مہنگائی کابم گرانے والے پارلیمنٹ میں بیٹھے بس دعوے ہی کرتے جا رہے ہیں، روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عوام کی گردن مروڑ کر رکھ دی ہے مگر حْکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کیوں کہ اس مہنگائی سے اْن پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، بجلی کے بلوں میں ہر مہینے اضافہ ہوتاجا رہا ہے کرونا کے نام پر ریلیف فراڈ اب بجلی بلوں میں اضافے سے بے نقاب ہو گیا ہے ، پٹرول بڑھ گیا ہے جو کہتے تھے کہ مہنگائی ہو جائے توسمجھیںکہ حکمران کرپٹ ہیںاب موجودہ حکمرانوآپ اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ آج عوام مہنگائی ، بد عنوانی ، رشوت ستانی ، بے روز گاری کا شکار ہیں مگر ابھی تک پاکستان کے حکمرانوں کو قوم کے مفاد کا خیال نہیں ، وہ اپنی بلٹ پروف گاڑیوں میں گھوم رہے اور عیش کر رہے ہیں مگر عوام کی بد حالی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے

ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور


ای پیپر