سزاوار
21 ستمبر 2020 (11:12) 2020-09-21

یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم والدین کے ہمراہ ایئر فورس رفیقی بیس پر 80 کی دہائی میں مقیم تھے،اس کے بیس کمانڈر حکیم اللہ تھے انھوں نے فیمیلیز کے لئے ورائٹی پروگرام کا انعقاد کروایا، معروف کامیڈین امان اللہ مرحوم نے بہترین پر فارمنس پر بھر پور دادحاصل کی، مارشل لاء عہد میں انھوں نے ایک جگت سنائی کہ تین دوست جہاز میں سفر کر رہے تھے،سب نے ہاتھ باہر نکالتے ہوئے فضائی ملک کا اندازہ لگانا تھا ،دو کے بعد تیسرے نے کہا مر گئے پاکستان ہے،دونوں نے پوچھا کیسے اس نے کہاکسی نے میری گھڑی اتار لی ہے۔

فنون لطیفہ سے وابستہ افراد جہاں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں وہاں وہ سماجی بگاڑ کی نشان دہی بھی کرتے ہیں،اگرچہ مثالی گورننس تو کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں دکھائی نہیں دیتی مگر وہ سرکاری ادارے جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے انکی خامیاں زیادہ نمایاں ہوتی ہے،جن میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے،جب بھی کوئی بڑا سانحہ رونماء ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس اور سیکورٹی ادارے ہی زیربحث آتے ہیں،ہرحکومت یہی بتاتی آئی ہے کہ ریفارمزکے ذریعہ پولیس کو عوام دوست بنایا جارہا ہے،تعلیم یافتہ افراد کی بھرتی سے پولیس کلچر کو بدلا اورسیاسی مداخلت سے پاک کیا جارہا ہے ،تاحال مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ در پیش ہے ۔

موٹر وے پر ریپ کے تازہ سانحہ نے ایک بار پھر پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ رات کی تاریکی میں اکیلی عورت کے سفر کی بابت سی پی او کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا گیا،لیکن باامر مجبوری کسی بھی شہری کو سفری ضرورت کا سامنا ہو سکتا ہے ، شاہراہوں کو محفوظ بنانا تو سرکار کی ذمہ داری ہے۔ماضی میںگڈز ٹرانسپورٹ پرڈکیتی سے تاجروں میں عدم تحفظ کا احساس  بڑھاتو شاہراہوں پر پولیس چوکیاں بنواکر لوٹ مار کی روک تھام کو یقینی بنایا تھا۔ فنڈز کی کمی اور دیگر مسائل نے ان پوسٹوں کو غیر فعال کر دیا ۔ ہماری غالب آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے،جہاں لوگ ایک دوسرے کے شناسا ہوتے ہیں، جرائم پیشہ کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے،،جب ایسے افراد کے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہے تو وہ شہروں کارخ کرتے ہیں جہاں مافیاز انھیں پناہ دیتے ہیں،کسی زمانہ میں ان افراد کے بھی کچھ راہنماء اصول ہوا کرتے تھے ایک تو یہ اپنے علاقہ میں چوری یا ڈکیتی نہ کرتے اور نہ ہی کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ،یہ شہروں سے دور بسیرا کرتے ،انھوں نے بعض قواعد از خود طے کر رکھے ہوتے ،اپنے دوست کے علاقہ میں بھی ڈکیتی کو برا جانا جاتا تھا، پورا سماج ہی اقدار اور روایات شکن ہوچکا ہے تو ان افراد سے کیا شکوہ، لیکن ان میں سے زیادہ تر اس نظام کے ستائے ہوئے افراد ہی جرم کی اس دنیا میں قدم رکھتے ،پھر اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ اس سے وآپسی ممکن نہیں ہوتی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تھانہ کی حدود میں ہر تھانیدار بستہ ب کے تمام افراد سے بخوبی آگا ہ ہوتا ہے وہی بعد ازاں ا نکے مخبر بنتے ہیں،ان کے ذریعہ سے وہ اپنے کام نکلواتے ہیں،دوسرا المیہ یہ ہے کہ عوام پولیس دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس نوع کے مجرم بارے مطلع کر بھی دیں تو انکو دشمنی مول لینے کے ساتھ ساتھ پیشی بھی بھگتنی پڑتی ہے،خود پولیس کے جرائم میں ملوث ہونے کی خبریں میڈیا پر آتی رہتی ہیں،پولیس کے خود کار نظام میں بعض شرفاء ملازم اپنے ’’پیٹی بھائیوں ‘‘کے ہاتھوں شدید اذیت اٹھاتے ہیں۔

 پولیس کے نظام کو جب تلک جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، اس ادارہ کا محاسبہ نہیں ہوتا، سنگین جرائم کی بڑھتی شرح سرمایہ کاری کے لئے بھی اچھا شگون نہیں ہے، البتہ جرائم کے دیگر اسباب کو نظر انداز کرنا بھی غفلت ہوگی، جس میں طبقاتی، سامراجی نظام،بے روزگاری، غیر تعلیم یافتہ سماج قابل ذکر ہیں، محض مجرم کو سزا دینا کافی نہیں انھیں بھی سزا وار قرار دیا جائے جن کے روئیے مجرم پیدا کر نے کے مرتکب ہوتے ہیں۔کیا مقتدر طبقات کو بھی بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے جو اس فرسودہ نظام کو اپنے مفادات کے لئے پروان چڑھاتے رہے، ادارہ میں سیاسی مداخلت کو اپنا حق سمجھتے رہے۔

خاتون کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کے بعدمجرم کے ساتھ اس بنیاد پر نرم گوشہ رکھنا اس سے بھی بڑا جرم ہے کہ سر عام پھانسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ،سنگین جرائم پر غیر فطری سزا کے اطلاق کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے،جن سزائوںکے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم واضع ہے اس میںلیت ولعل سے کام لینا حکم عدولی کے مترادف ہے۔اپوزیشن کی بجائے سرکارکو فنون لطیفہ سے متعلق لوگ جب آیئنہ دکھائیں تو سمجھ لیں صورت حال سنگین ہے۔


ای پیپر