علاج اس کا وہی…
21 ستمبر 2019 2019-09-21

گزشتہ روز طور خم کے بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خان بہادر وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر ببانگ دہل اعلان کیا ’کچھ بھی ہو جائے این آر او ہرگز نہیں دوں گا‘…سیاسی مبصرین اور صحافیوں کو تعجب ہوا گزشتہ ایک برس سے بار بار دہرائے جانے والے اس فقرے کی مالا طور خم کی سرحد پر بیٹھ کر جپنے کی کیا ضرورت تھی… لوگوں کے سن سن کر کان پک گئے ہیں… کیا ملک کو این آر او کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ در پیش نہیں یا وزیراعظم کے پاس عوام کے ساتھ کرنے کی نئی اور اچھوتی بات یا کارکردگی نہیں… یا ایسا ہے این آر او مانگنے والوں نے ہمارے خان بہادر کا گھیرا بہت تنگ کر رکھا ہے… اُن کی رات کی نیندیں چھین لی ہیں… ایک کے بعد دوسرا پیغام دے رہے ہیں … ہمیں این آر او عطا فرماد و ورنہ جینا دوبھر کر دیں گے… حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا… اس صورت حال میں عمران خان بیچارا کیا کرے… طلب کرنے والوں کو بار بار کیوں نہ کہے…ایسا غلط کام مجھ سے کسی صورت ہو نہ پائے گا… بار بار اس کا تقاضا کیوں کرتے ہو…جب یہ ساری باتیں نہیں ہو رہیں ، پھر وزیراعظم پاکستان پر کونسی افتاد آن پڑی ہے کہ اٹھتے بیٹھتے این آر او کے علاوہ کوئی موضوع نہیں سوجھتا… اور اہل قوم کے سامنے کہے چلے جا رہے ہیں …میں تمہیں ہرگز این آر او نہیں دوں گا… میرا دروازہ کیوںکھٹکھٹاتے ہو مجھ سے اتنی بڑی رعایت مانگتے ہو… پہلے اس طرح کی حرکتوں نے ملک کو کیا کم نقصان پہنچایا ہے… جو اب میرے پیچھے پڑ گئے ہو… دوسری جانب سے جواب آتا ہے کہ صاحب ہم نے کب آپ سے این آر او نام کی کوئی چیز مانگی ہے، اس کا تقاضا کیا ہے…جو رعایت ہم مانگ نہیں رہے ، آپ اسے کیوں ہمارے سروں پر تھوپے چلے جا رہے ہو…اور ذرا گریبان میں جھانک کر دیکھوکہ این آر او دے بھی سکتے ہو یا نہیں… اگر جواب نفی میں ہے تو اتنا ہی بتا دو ہماری جانب سے کون ہے جو تم سے مطالبہ کر رہا ہے… ایسے ڈھیٹ آدمی کو پکڑ کر جیل میں ڈالوجو ہمارے نام پر تم سے این آر او کی بھیک مانگتا ہے… یہ سوال اٹھائے جاتے ہیں تو وہاں سے خاموشی کا جواب آتا ہے… اس کے ساتھ ہی انوکھے وزیراعظم سے پوچھا جاتا ہے تم این آر او دینے کی پوزیشن میں بھی ہو یا نہیں… جواب ندارد… کچھ دن گزرجاتے ہیں وزیراعظم بہادر پھر وہی پرانا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں… آخر انہیں کیا مجبوری لاحق ہے… ماضی میں جنہوں نے این آر او دیا وہ جملہ ریاستی اختیارات کی مالک مارشل لائی حکومتیں تھیں… کسی کے سامنے جواب دہ نہ تھیں… جو جی میں آتا کر ڈالتی تھیں… عمران بہادر کی حالت یہ ہے پارلیمنٹ سے ایک بل نہیں منظور کروا سکتے، آرڈیننسوں کا سہارا لینا پڑا ہے… اس سے جو بدنامی حصے میں آتی ہے وہ الگ جبکہ خفیہ طور پر کوئی این آر او دیا نہیں جاتا… یوں اس رٹ کو لگانے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا قوم کو نہ ملک کو…نہ اس حکومت کو جس کے پاس اس کام کی طاقت ہے نہ اختیار ۔

جن کو این آر او دینا مقصود ہے ان کا احوال بھی سن لیجیے… ایک مؤقر اخبار کی تازہ ترین خبر میں کہا گیا ہے کہ معتبر اور اقتدار کے حقیقی طبقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیت کوٹ لکھپت جیل کے چار چکر لگا چکی ہے… میاں صاحب کو منوانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے… وہ این آر او نام کی کسی چیز پر راضی ہو جائیں، ڈیل کر لیں، ڈھیل پر سمجھوتہ کر لیں، ہماری جان چھوڑیں، جیل سے باہر نکل آئیں، غیر ملک میں چلے جائیں، ہم ہر ممکن سہولت دینے کے لیے تیار ہیں… بشرطیکہ اگلے چار سال کے لیے سیاست سے کنارہ کشی کر لیں… مگر وہ ایک اخبار نہیں، کئی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ ذرائع کے مطابق راضی نہیں ہو رہے… جیل کو رہائی پر ترجیح دے رہے ہیں… این آر او تو بہت دور کی بات ہے، آئین مملکت کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات سے کم کسی بات پہ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں… وکیل کے ذریعے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے کہ اسے میاں صاحب کے مقدمے میں مؤقف پیش کرنے کے لیے تین ماہ کی بحث درکار ہو گی…دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ موصوف اپنا دفاع مضبوط ہونے کے باوجود قید و بند کی صعوبتوں سے آزاد ہونے کے لیے بے چین نہیں ہوئے جا رہے… تو پھر سابق اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کے جیل میں پڑے رہنے سے پریشانی کس کو لاحق ہے… کون ان کی رہائی کے لیے بے چین ہوا جا رہا ہے… صیاد اپنے کیے پر ہی پشیمان کیوں نظر آ رہا ہے…جیل میں بیٹھا ایک آدمی کیسے اتنا طاقتور ثابت ہو رہا ہے… جو عمران کیا اقتدار کی مالک اصل قوتیں اسے باہر بھیجوا دینے کی بیتابی محسوس کر رہی ہیں… وجہ ظاہر ہے میاں صاحب کو میدان سیاست سے نکالے بغیر ان کا ’عمرانی‘ تجربہ ناکام ہو رہا ہے… ملکی سیاسیات کو استحکام نصیب نہیں ہو رہا… کرپشن کے جو الزام لگائے گئے تھے، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہو رہا… مودی کا یار ہونے کے جو طعنے اٹھتے بیٹھتے دیئے جاتے تھے، الٹے پڑتے نظر آ رہے ہیں… عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی منتیں کر ڈالیں ایک مرتبہ ہم سے بات تو کر لو، اس نے جواب میں ظلم و بربریت والا ایسا چھکا مارا ہے کہ کچھ بن نہیں پا رہا، سوائے واویلا مچانے کے اگلا قدم کیا اٹھائیں… اس پر مستزاد ویڈیو فلموں کی مصیبت آن پڑی ہے… جن کا فرانزک کرانے میں حکومت پس و پیش سے کام لے رہی ہے جبکہ برطانیہ کی دو شہرت یافتہ کمپنوں نے ان کے لفظ لفظ کی تصدیق کر دی ہے اور شہادت دی ہے کہ ان کی ایڈیٹنگ کی گئی ہے نہ کسی قسم کی تحریف و ترمیم سے کام لیا گیا ہے یعنی اصل ہیں… جس سے ثابت ہوتا ہے نواز شریف کے جج پر دباؤ ڈال کر کرپشن کے الزام میں سزا دلوائی گئی… اب عوام کے ووٹوں سے بار بار منتخب ہونے والا یہ شخص سزا دینے والی اصل قوت کے گلے میں اٹک کر بیٹھ گیا ہے… اس کے پاس سیاسی طاقت ہی نہیں اخلاقی قوت بھی آ گئی ہے جس کی بنا پر یار لوگوں کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیتا ہے… کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی پارٹی میں تفریق پیدا کی جائے… شہباز شریف صاحب سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ وہ بغاوت پر اتر آئیں یا دوسرا راستہ اختیار کر لیں… چھوٹا بھائی نرمی ضرور برتنا چاہتا ہے مگر بڑے کے مدمقابل آ کر نہیں… پارٹی کے اندر مؤقف بہرصورت بڑے میاں کا ہی مانا جائے گا… عمل بھی اسی پر ہو گا… یعنی جسے آپ نے این آر او پیش کرنا ہے… وہ اسے مسترد کر دینے کی پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں منفرد مثال قائم کر رہا ہے…

نواز شریف نحیف و ناتواں حالت میں جیل کے اندر بیٹھا سیاسی طور پر اتنا طاقتور ثابت نہ ہوتا اگر خان بہادر عمران نے حسن کارکردگی کا ایک بھی نمونہ پیش کیا ہوتا… معیشت کی گراوٹ دوسری بات ہے … خارجہ پالیسی کے میدان میں سخت درجے کی ناکامی اپنی جگہ ایک موضوع ہے… اس نے تو پولیس کے نظام میں معمولی درجے کی اصلاح کا جس کے بہت دعوے کرتا تھا ایک کارنامہ نہیں دکھایا… اس محکمے کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے… پچھلے دور میں قصور کا ایک واقعہ ہوا تھا… آسمان سر پر اٹھا لیا گیا… شہباز شریف انتظامیہ نے دن رات ایک کر کے اصل مجرم کا سراغ لگا لیا… اسے پکڑ کر قانون کے حوالے کر دیا… جہاں کیفر کردار کو پہنچا… اب اسی ضلع میں اس طرح کے شرمناک ترین چار واقعات ہوئے ہیں… پولیس سے کچھ بن پا رہا ہے نہ حکومت کی کارکردگی کا کوئی نمونہ سامنے آ رہا ہے… بیانات کا البتہ تانتا بندھا ہوا ہے… جن کی اصابت پر کوئی یقین نہیں کرتا… حکومت والے نہ عام لوگ جن کی تسلی کی خاطر یہ بیانات جاری کیے جاتے ہیں… پولیس افسروں کے تبادلوں کی جعلی کارروائیاں کی جا رہی ہیں… یعنی ایک کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے کو لا بٹھایا جاتا ہے… حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا… ادھر ڈینگی بخار ہے جس نے صوبہ پنجاب کیا پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں… اموات کی شرح روزبروز بڑھ رہی ہے… حکومت کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا… شہباز شریف جس کے بارے میں لچک دکھانے کی باتوں کا بہت شہرہ ہے… اس حالت زار کو دیکھ کر مسکراتے ہیں اور گویا ہوتے ہیں… یہ منہ اور مسور کی دال… تو صاحبو! اصل مسئلہ یہ نہیں… کون کس سے ڈیل کرے گا اور کس سے نہیں کرے گا… بنیادی ایشو یہ ہے کہ کنویں میں گرے کھوتے کو کیسے نکالا جائے جو مسلسل اس کے پانی کو گندا اور متعفن کیے جا رہا ہے… جب تک اسے نکال باہر نہیں پھینکا جاتا آپ نواز شریف کے ساتھ ڈیل کر بھی لیں یا شہباز شریف کو بڑے بھائی کے ساتھ بغاوت پر آمادہ کر لیں کچھ حاصل ہونے والا نہیں… اس بنیادی اور ضروری کام کے بغیر پاکستان کی کشتی ڈگمگاتی رہے گی… استحکام اس ملک کی سیاست کو ہرگز نصیب نہیں ہو گا… پہلے مارشل لاء لگا دیا جاتا تھا… آٹھ، دس اور گیارہ سالوں تک کے لیے فوجی راج قائم کر دیا جاتا تھا… اس سے کام نہیں چلا تو نیا تجربہ کیا گیا ہے… ایک پسندیدہ گھوڑے کو گاڑی کے آگے باندھ کر دوڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے… پیچھے چابک مارنے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو غیر آئینی طور پر اس ملک کے اقتدار کا مالک بنایا… کام تب چلا تھا نہ اب چل رہا ہے… ذمہ دار اس کا نواز شریف کو سمجھا جا رہا ہے… اس نے مگر آئین کے ساتھ وفاداری کی قسم کھا رکھی ہے… لہٰذا ٹس سے مس نہیں ہو رہا… یہ ہے وہ مقام جہاں ملک کی گاڑی آ کر پھنس گئی ہے … علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی…


ای پیپر