اسلامی شناخت بحال کیجئے
21 ستمبر 2019 2019-09-21

آج دنیا یو ٹرنی، ٹویٹری حکمرانوں کی دنیا ہے۔ یکا یک، اچانک ٹویٹر پر عالمی حالات کس رخ مڑ جائیں، کچھ خبر نہیں۔ ٹرمپ کی ٹویٹ نے آخری تفاصیل تک امن معاہدہ طے ہو جانے کے بعد، ایک سال کی بھاگ دوڑ، خبروں کی دنیا میں اتھل پتھل کے بعد اچانک سبھی کچھ الٹ کر رکھ دیا۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین، مہنگی ترین، ناکام ترین جنگ ، جو وسائل کے اعتبار سے ناقابلِ یقین حد تک کمزور ترین فریق سے لڑی گئی، با عزت تصفیے سے پھر محروم رہ گئی۔ امن معاہدہ امریکہ کی ضرورت اور مجبوری تھی، طالبان کی نہیں۔ جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہ تھی۔ چنانچہ طالبان نے ہمہ گیر، بھر پور حملے، حساس ترین علاقوں میں جاری رکھے۔ کابل بھی محفوظ نہ تھا ۔ یہ جنگ امریکی ٹیکس دہند گان کی جیب سے روزانہ 19 کروڑ 18 لاکھ ڈالر وصول کر رہی ہے۔ جس پر ٹرمپ جنر بز ہو کر امن معاہدے پر کمر بستہ ہوا تھا ۔ لیکن اب تو امریکہ کے گلے میں پھنسی چھچوندر نما یہ دھوم دھڑ کے سے نیٹو بارات کے ہمراہ اترنے والی جنگ نہ اگلے بن پڑ رہی ہے نہ نگلے۔ امن معاہدے کی منسوخی پر ایک طالب کی گرجتی برستی تقریر دیکھی جا سکتی ہے سوشل میڈیا پر‘ ۔ تم 20 سال کی تیاری سے آئے تھے ہم مسلمان 100 سال تم سے لڑ سکتے ہیں۔ تم 50 فوجی مروا سکتے ہو، تو ہم لاکھ شہید کروانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ میدان تو اب گرم ہوا ہے ۔ اصل جنگ تو اب شروع ہوئی ہے۔ ابھی تک تو ہم تجریہ ہی کر رہے تھے۔ اللہ تمہیں ایک مرتبہ پھر میدان میں لائے۔ ہمارے پاس وہ مجاہد ہیں جنہوں نے روس کے ٹکڑے کیے۔ ان کی کھوپڑیاں پڑی ہیں۔ برطانیہ کو شکست دی، ان کی کھوپڑیاں پڑی ہیں۔ تمہیں شکست دی تمہارے بھی فوجیوں کی کھوپڑیاں پڑی ہیں۔ ’یہ تقریر جس زبان و بیان اور بدن بولی سے عبارت ہے وہ فی نفسہ ہوا کا رخ بتانے کو کافی ہے۔ امریکی عزائم ایک طرف بھارت کو تھپکی دے کر مسلم کشمیر پر چیرہ دستی کا سامان کر رہے ہیں۔ ادھر نیتن یاہو بھی غرب اردن ہڑپ کرنے کا اعلان کر رہا ہے امریکی آشیر باد سے۔ ایسے میں طالبان کا سخت مؤقف اور ثابت قدمی امریکہ کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ غزوۂ ہند پر طالبان کی پرچھائیں مستقبل میں جھانکنے والی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ کشمیر کا واحد حل جہاد ہے ۔ لاکھ نظریں چرائیں، حقیقت تو یہی ہے۔ ھُو الحل ! اسی پر بند باندھنے کی فکر حکومت کا مخمصہ ہے۔ افغانستان کی فضاء جس سے دہک رہی ہے ۔ آزاد کشمیر سے جس کا پکار اٹھ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر جس کا منتظر ہے۔ عالمی طاقتوں کی غنڈہ گردی جو عالم اسلام پر مسلط ہے، اس سے نمٹنے کے لیے بر سر زمین جو شجاعت اور عملاً زبان و بیان کی مضبوطی اور قطعیت درکار ہے، طالبان اس کا شاندار مظہر ہیں۔ الجزیرۃ پر سہیل شاہین، ترجمان طالبان کا انٹرویودو ٹوک ہے۔اشرف غنی کے نمائندے نے مذاکرات ختم ہو جانے پر طالبان پر طنز کیا تھا کہ آپ کا امریکہ سے ہنی مون ختم ہو گیا ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ترجمان طالبان نے حقائق سامنے رکھ دیئے۔ ہم افغانستان میں ہر جگہ موجود ہیں۔ 70 فی صد افغان سر زمین ہمارے پاس ہے۔ کابل ایئر پورٹ صدارتی محل سے چند کلو میٹر دور ہے ۔ مگر وہ ہیلی کاپٹر سے ایئر پورٹ جاتے ہیں۔ ( زمینی راستہ اختیار نہیں کر سکتے طالبان کے خوف سے ) تو پھر ہنی مون کس کا ختم ہوا۔ ؟ ہم کابل میں غالب حیثیت میں ہیں۔ این جی اوز بھی کابل کے اندر نقل و حرکت کرنے یا دوسرے صوبوں میں جانے کے لیے ہماری اجازت اور مدد کی محتاج ہیں۔ تو پھر ہنی مون کس کا ختم ہوا ! یہ ستم ظریفی اپنی جگہ کہ یہی بات زلمے خلیل زاد، اشرف غنی کو پہلے کہہ چکے تھے کہ ’ڈاکٹر صاحب ! مان جائیں۔ آپ کو شکست ہو چکی ہے ۔ اربوں ڈالر کی امدار کے با وجود آپ کے سپاہی صدارتی محل کا دفاع بھی نہیں کر سکتے‘ سو طالبان مضبوط تر ہیں۔ ان کے آگے ٹرمپ کی ٹوئٹیاں کیا ٹہریں گی۔ اس عالمی تناظر میں عمران خان امریکہ جا رہے ہیں۔ اب تک کشمیر کے لیے بیان بازی، سفارت کاری کی چلت پھرت کے با وجود ہم کشمیر پر فیصلہ واپس لینا تو درکنار، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کرفیو، قید و بند، جبرو تشدد، بھوک اور خوف تک سے نجات نہ دلوا سکے۔ مظاہروں، تقریروں سے عالمی قضیئے حل ہوا کرتے تو عراق پر ملین مارچ تو ضرب المثل تھے۔ دنیا نے زور لگا ڈالا مگر امریکہ نے حملہ کر کے عراق کو تاخت و تاراج کیا۔ عراق کو سر تا سر اجاڑ کر افراتفری کی نذر کر کے ایران کی جھولی میں ڈال کر رخصت ہوا۔ تقاریر کی گونج، جلائے گئے پتلوں کی راکھ عراقیوں کو سکھ کا ایک دن نہ دے سکی۔ یہ نرے جمہوری ڈرامے ہیں۔ اور کچھ بھی نہیں۔ حال تو ہمارا یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کے جلسے کے دن میوزیکل کنسرٹ بھی ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کی مظلومیت پر بھی نیرو کی بانسری بج اٹھی ! ادھر پاکستان آرٹس کونسل بھی مقبوضہ کشمیر پر ڈرامے پر فارم کر رہی ہے۔ نہ جانے وزیر اعظم آزاد کشمیر پھر بھی اتنے جذباتی بیان کیوں دے رہے ہیں کہ : ’ میرے بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ عورتیں صبح دروازہ کھولتی ہیں کہ پاکستان کب آئے گا۔ آپ ڈالروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ڈالر چبا کر کھائیں گے آپ ؟ کشمیری وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر اور دورے کا انتظار کر لیں۔ حکومت شدید مخمصے میں یوں ہے کہ کشمیر جہاد طلب ہے اور ملکی فضائیں ہوائیں گزشتہ 18 سالوں میں روشن خیالیوں، ماڈریشن کی رنگینیوں میں غرق کر دی گئیں۔ یہ سیاسی ایشو ہے۔ ’امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے‘ ۔ جیسے سبق مسلسل پڑھائے جا رہے ہیں ۔ شاہد آفریدی کے کشمیر پر بیانات پر بھارت کو آگ لگ گئی۔ مسلمان قوم کو کرکٹ پر سر گرم رکھا گیا ۔ ناچ رنگ، چیئر گرلز سے آلودہ کرکٹ رائج کی۔ مسلمان نو جوانوں کے جذبات کی گرمی چوکوں چھکوں، ناچنے گانے کی نذر ہو۔ تجاوز نہ کرے۔ شراب و شباب کی طرف جائے، جوش جہاد ازلی ابدی دشمن ہمسائے کے خلاف سر نہ اٹھائے۔ مودی تو بی جے پی کے لشکر اٹھا کر ہندو توا بھڑ کائیں۔ (آگرہ میں مسلم کش فسادات میں جنونی حملہ آور ہجوم نے مسلم املاک اور دکانیں نذر آتش کر دیں) مگر مسلمان خصوصاً پاکستان کے، صرف کرکٹ کی پچ سنواریں! پاکستان تو یوں بھی اپنی شناخت کھو دینے کے جس راستے پر پرویز مشرف کے ہاتھوں چلایا گیا۔ روشن خیالی کے نام پر حرص و ہوس کے گھنے جنگلات کی درندگی اب اسے درپیش ہے۔ قصور کے نام کے ساتھ لرزہ خیز و حشت بھرے واقعات وابستہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ 7 ماہ میں تقریباً 200 واقعات کی خبریں ہیں۔ اب تین بچوں کا اغوا اور ایسا ہی وحشیانہ قتل معاشرتی ابتری کا ایکسرے ہے۔ اسلام آباد میں کم عمر بچی گھر کے سامنے سے اٹھائی، روندی گئی۔ اس سے بڑھ کر اذیت ناک 13/14 سالہ بچی کا اپنے ہم عمر فیس بک بوائے فرینڈ کے ہمراہ بقول اس کے، سیرو تفریح پر رات کے وقت تین دن کے لیے نکل جانا ہے۔ راولپنڈی ، مری ، سوات سے سیر سپاٹا کر کے خاندان ، محلہ، شہر ، پولیس کو شدید ابتری میں مبتلا کر کے، میڈیا میں نشر ہو کر لوٹی۔ اتنی کم عمری میں یہ مہم جوئی ؟ اپنے مستقبل میں کانٹے بونے اور خاندان کو زندہ در گور کر دینے کے ایسے ہولناک واقعات ہمارے اخلاقی ، ایمانی ، تربیتی بحران کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر ہری پور میں شرافت و نجابت طلب خاندانوں کی مشاورت سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے سرکاری سکولوں میں طالبات کو با پردہ ہونے کا حکم نامہ جاری کیا۔ اس پر حقوق ہائے عریانی و فحاشی کے لیے ( بر سر روز گار ) بر سر پیکار این جی اوز، شوبزیوں اور مخصوص اینکروں نے طوفان بد تمیزی برپا کر دیا۔ ( گھبرا سٹپٹا کر انصافیے یہ بھی بھول گئے کہ ان کے ہاں تو خاتون ِ اول بھی با پردہ ہیں۔) لبرل بھڑوں ، بھونڈوں کا چھتہ چھڑ گیا۔ اور یوں یہ حکم نامہ فوری واپس لینے کی ہدایت وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کی۔ حتیٰ کہ ڈی ای او سے وضاحت طلب کی گئی کہ آخر کوئی مائی کا لال بچیوں کو اوڑھنے ڈھانپنے کا ( قرآنی ) حکم کیسے دے سکتا ہے ! چھوٹی عمروں میں مخلوط تعلیم کا زہر، رات گئے تک اکیڈمیاں، کم لباسی ، بیہودہ لباسی کی کالی سکرینوں پر تشہیر۔ بے محابہ آزادی، خود سری پورا نظام زندگی آلودہ کیے دے رہی ہے۔ متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی۔ یہ کس کا فرادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی ! آج اچھے بھلے شرفاء کے گھرانے آزمائشوں میں لپیٹے جا رہے ہیں۔جس تشویش کا مظہرہری پور کا واقعہ ہے ۔ قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا بد ترین بھونچالوں کی زد میں آیا ملک بے دین، اقدار سے تہی دامن، ترقی کی آڑ میں بے حیائی کی ترویج پر کمر بستہ، ڈالر خور اقلیت کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟ یا کشمیر کی آزادی سے پہلے ہمں اس شکنجے سے آزاد ہو کر ایمانی اقدار، وقار، حیا اور تقدس کی اسلامی شناخت کا بحال کرنا لازم ہے تاکہ ہم اعلیٰ مقاصد کے لیے جینے، مرنے کے لائق ہو سکیں ! کیونکہ: آزادیٔ افکار ہے ابلیس کی ایجاد


ای پیپر