عدلیہ بھی اپنے دائرہ اختیار سے تجاوزنہ کرے:جسٹس فائز عیسیٰ
21 ستمبر 2019 (16:34) 2019-09-21

کراچی: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ پانے والوں پر آئین کی پاسداری لازم ہے، نہ کوئی جنگ لڑی نہ کسی عسکری قوت نے ہمیں ایک آزاد ملک دیا، آئین کی شق 199 اور شق (3)184 سے عدلیہ بنیادی حقوق پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے، اگر کوئی شخص، ادارہ بنیادی حقوق سے تجاوز کرے توعدلیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اسے روکے،جب جمہوریت کمزور ہوتی ہے، ایک شخص کی آواز عوام کی آواز کو دبا دیتی ہے تو دشمن فائدہ اٹھاتا ہے، عدلیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہ کرے، ملک کمزور اور ٹوٹ بھی سکتا ہے، جب جموہریت کمزور ہوتی ہے ایک شخص کی آواز عوام کی آواز کو دبا دیتی ہے ،پاکستان بننے کے بعد پہلے جنرل ایوب پھر یحییٰ خان آئے اور جمہوری طرز عمل کو نظر انداز کیا گیا، نتیجتاً ہم آدھے پاکستان سے محروم ہو گئے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی بی اے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 72سال پہلے آزادی حاصل کی نہ کوئی جنگ لڑی نہ کسی عسکری قوت نے ہمیں ایک آزاد ملک دیا، ایک سوچ اور نظریے پر یقین رکھنے والوں نے دوسرں کو قائل کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ناممکن ممکن میں تبدیل ہو گیا اور پاکستان کا قیام ایک معجزہ ہی سمجھیں، اس معجزے کو برقرار اور محفوظ رکھنے کیلئے عوام نے ایک طریقہ کار مہیا کر دیا ہے، اس طریقہ کار کو ہم آئین کہتے ہیں، جس کا پورا نام آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور آئین کا آغاز ایک مختصر تمہید سے ہوتا ہے، آئین میں واضح کہا گیا ہے کہ عوام نے یہ آزاد ملک حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے یہ واضح کہا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہو گا،آئین کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کو قائم رکھنا ایک فریضہ ہے، یہ طریقہ اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ عوام ظلم اور ستم سے محفوظ رہیں۔اگر ہم جمہوری اصولوں پر گامزن رہیں گے تو ہماری سالمیت برقرار رہے گی جبکہ تمہیں میں آزاد عدلیہ کا بھی بالخصوص ذکر ہے، آئین 1973میں مرتب کیا گیا، آئین کی تمہید 1949میں لیاقت علی خان اور اس وقت کی پارلیمان نے مرتب کی جبکہ آئین کے شروع ہی میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے یہ واضح کیا گیا ہے کہ بنیادی حقوق سے کوئی بھی عمل اور قانون متصادم نہیں ہو سکتا اور آج کی تقریب بھی ان بنیادی حقوق ہی سے متعلقہ ہے، آئین کی شق 199اور شق 184(3)سے عدلیہ بنیادی حقوق پر عملدرآمد یقینی بناتی ہے اگر کوئی شخص اور ادارہ بنیادی حقوق سے تجاوز کرے تو عدلیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اسے روکے جبکہ آئین پاکستان کی بنیاد تین ستونوں پر رکھی گئی ہے، تاریخ عکاسی کرتی ہے کہ ادارے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کریں تو لوگوں کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد پہلے جنرل ایوب پھر یحییٰ خان آئے اور جمہوری طرز عمل کو نظر انداز کیا گیا، نتیجتاً ہم آدھے پاکستان سے محروم ہو گئے، عدلیہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قانون پر عمل ہو اور کوئی حد سے تجاوز نہ کرے،جب ادارے اختیار سے تجاوز کرتے ہیں تو بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں اور ملک کمزور اور ٹوٹ بھی سکتا ہے، جب جموہریت کمزور ہوتی ہے ایک شخص کی آواز عوام کی آواز کو دبا دیتی ہے تو اس سے دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے ، ادارے اور ملک تب مضبوط ہوتے ہیں جب اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، کسی اور ادارے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے ادارے ہی کی بات کروں گا، وفاق اور چاروں صوبوں نے موبائل فون پر ٹیکس لگائے نامعلوم تحریری شکایت پر سپریم کورٹ نے شق 184(3)کے تحت ٹیکسز معطل کردیئے، موبائل ٹیکسوں کے خلاف حکم امتناعی کا جواز کیونکہ نہیں تھا ٹیکس بنیادی حقوق میں شامل نہیں، جس مدت میں سپریم کورٹ نے موبائل فون ٹیکسز معطل رکھے ملک کو 100ارب کا نقصان ہوا اور یہ 100ارب روپے اب اکٹھے نہیں کئے جا سکتے، اعلیٰ عدالتوں کا کام ے کہ وہ جو حکم جاری کر رہی ہیں وہ آئین اور قانون کے مطابق ہو، جو فیصلے آئین اور قانون کو نظر انداز کر کے کئے جاتے ہیں وہ دیرپا نہیں ہوتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر شپ لانے والے خوب جانتے تھے کہ وہ غیر آئینی قدم اٹھا رہے ہیں اور آمریت لانے والوں، آئین اور قانون کو ہمیشہ اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھا جبکہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ پانے والوں پر آئین کی پاسداری لازم ہے، وہ اس کا حلف اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت صدر، وزیراعظم، افواج پاکستان کے ہر افسر پر آئین کی پاسداری کرنا لازم ہے۔


ای پیپر