تقسیم
21 ستمبر 2019 2019-09-21

شیر کے منہ کو انسان کا خون لگ جائے تو وہ جنگل کے بجائے انسانی بستیوںکو اپنی شکار گاہ بنا لیتا ہے۔ گورے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جو انتشار کا شکار، آپس میں لڑتے اور اعتماد کے فقدان سے گزرتے مسلم ممالک کو زیر کرنے کے لیے مسلسل شکار گاہ کے پرسکون ہونے کا انتظار کررہا ہے۔ برصغیر پر حکمرانی کی یادیں عراق، افغانستان اور شام پر حکمرانی کی ناکام کوششوں کی شکل میں سامنے آرہی ہیں۔ گورا اوپر سے تو میٹھا میٹھا بولتا ہے اور شیرینی سے بھرا ہوا ملتا بھی ہے لیکن اندر سے وہ آج بھی بکھرے ہوئے لوگوں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ خود ہی جنگ کا ماحول پیدا کرتا ہے اور خود ہی بگل بجا کر چڑھائی کردیتا ہے۔اور جب حالات سازگار نہ ہوسکیں تو 18سال بعد امن مذاکرات کا آغاز بھی خود ہی کردیتا ہے۔ چند سال قبل، دنیا بھر کی اہم شخصیات کی خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے والی وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ سابق امریکی وزیرخارجہ کی 1700 ایسی ای میلز موجود ہیں جن سے واضح طورپریہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے شام اور عراق میں داعش اورالقاعدہ کو بڑی تعداد میں اسلحہ فراہم کیا۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

گورے کی خواہش کے عین مطابق مشرق وسطیٰ میں بھی اس وقت ہیجان کی کیفیت ہے، ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے اور خطے کے رہنے والے خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ شام کی بات کریں تو اس ملک کے کئی شہر بارود سے ملیا میٹ کردیئے گئے، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، لاکھوں لوگ یا تو بارود کی نذر ہوگئے اور جو بچ گئے وہ مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ لیکن اب بھی یہاں کے رہنے والے دھماکوں کی گونج میں ہی سوتے ہیں۔نئے اسلحے کا استعمال کرنا بھی ہے، سیکھنا بھی ہے اور سکھانا بھی ہے۔ تو اس کے لیے یمن سے بہتر کون سی جگہ ہوسکتی ہے۔ حکمرانی کے نشے میں مبہوت لوگوں کی وجہ سے یہاں کے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ یہاں ملیشیاو¿ں کی آپسی جنگ اور مختلف ممالک کی مشترکہ کارروائیوں نے بدترین انسانی بحران پیدا کردیا ہے۔

امریکہ کی ایران کو بھی دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری تھیں کہ اسی دوران سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔ ہفتے کے روز سعودی تیل تنصیبات پر ڈرونز اور کروز میزائلوں سے حملے کیے گئے۔ بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں جہاں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ متاثر ہوا وہیں کمپنی کی نصف پیداوار معطل ہو گئی اور تیل کی عالمی رسد میں بھی کمی آئی۔ یمنی باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول بھی کرلی۔ لیکن امریکہ اور سعودیہ کہاں ماننے والے تھے کیونکہ گریٹ گیم میں یمن کہیں بھی شامل نہیں۔ سعودی وزارت دفاع کے حکام نے دو روز قبل ایک پریس کانفرنس میں کچھ ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ملبے کی نمائش کی اور دعویٰ کیا کہ تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے میں ایران ملوث ہے۔ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ تنصیبات پر 18 ڈرونز اور سات کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا اور وہ یمن کی جانب سے نہیں داغے گئے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملہ شمال کی جانب سے کیا گیا اور بلاشبہ اس کی مدد ایران نے ہی کی ہے۔ حالانکہ آرامکو کی آئل ریفائنری اور دیگر حساس مقامات کی سکیورٹی کی ذمہ داری بہترین اینٹی ایئر کرافٹ گنوں سے لیس امریکی مہیا کیے گئے اسلحے کے ذریعے ہی کی جارہی تھی۔ کوئی یہ تو پوچھے کہ سکیورٹی سسٹم کا سوئچ آف عین حملے کے وقت کیوں گیا تھا؟ یا تو پھر سیکورٹی سسٹم ہی اتنا نازک تھا۔ کم از کم اتنی تفتیش کے بعد ہی کسی فریق پر الزام لگایا جاتا تو بہتر تھا۔ مگر یہاں حملے سے پہلے ہی حملہ آور کی نشاندہی کرنے والے امریکہ کو اس بار ایران کا پتہ کیسے چل گیا؟ یعنی ایران ہی مجرم ہے اس بات کا فیصلہ پہلے کہیں ہوچکا تھا۔ حالانکہ آرامکو کی آئل ریفائنری پر حملے سے دنیا بھر کی معاشی پابندیوں کا شکار ایران کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں تھا۔ میری سمجھ سے باہر ہے وہ ایسی بے وقوفی کیوں کرنے جارہا تھا؟ اس نازک صورتحال میں امریکہ ایک فریق کی حیثیت سے سامنے ابھر کر آیا ہے۔ امریکہ نے کھلے الفاظ میں ایران پر الزام لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف کارروائی کا شوشہ چھوڑ دیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی بدھ کو سعودی عرب پہنچے اور ان حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سعوی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے نہ صرف حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام لگایا بلکہ سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کو’جنگی اقدام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور امریکہ اس حق کی حمایت کرتا ہے۔ ظاہری بات ہے حمایت کرے گا تو اسلحے کی منڈی کھلی رہے گی۔ چاہے بکنا والا اسلحہ جس پر مرضی چل جائے۔ امریکی خفیہ اداروں کی چالوں کو چلنے میں امریکی میڈیا بھی پیش پیش رہتا ہے اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی چینل CBS News نے تو امریکی ذمہ داران کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی منظوری دی تھی۔ اس سب صورتحال پر ایران نے بھی سخت ردعمل دیا۔ جمعرات کو امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہا ایران پر کسی بھی حملے کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک انتہائی سنجیدہ بیان دے رہے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی عسکری تنازع میں الجھنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے۔ دونوں اطراف سے اتنے سخت بیانات کے بعد دنیا بھر میں شدید تشویش پھیلی ہوئی ہے کہ آخر کیا ہونے جارہا ہے۔ مسلم امہ کو سمجھنا ہوگا کہ دوست کون ہے اور دشمن کون کیونکہ گورے کو کیا غرض ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ اس کا دکھاوا بے غرض، لہجہ ہمدرد اور بیانیہ صرف اپنے غرض کا رہا ہے۔ یہ تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ہماری بے سمجھی کو کیسے Cashکرتا ہے۔


ای پیپر