عشق حسین ؓ
21 ستمبر 2018 2018-09-21

میں نے تو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا کہ کوئی بھی بزرگ خواہ اُس کا مسلک تو دور کی بات ہے، غیر مذہب بدھ ، ہندو، سکھ بھی یوم عاشورہ پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور عیسائیت تو ایسا مذہب ہے جس کی اپنی کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور اُن کی آمد کے بارے میں واضح اشارات اور نشانیاں ملتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ شام کے بارے میں جب وہ چھوٹے تھے تو راہب نے وہ تمام نشانیاں دیکھ کر آپ کو پہچان لیا، اور حضرت حسین ؓ کے سر مبارک کو جب ظالم یزید کے پاس لے کر جا رہے تھے، تو عیسائی پادری کا عقیدت و احترام کے ساتھ سر مبارک کا دھونا، خوشبو لگانا، اور زیر خطیر خرچ کر کے ایک رات کے لئے اپنے پاس رکھنا، اس بات کی دلیل ہے کہ عیسائیوں کو ہمارے نبی محترم کے بارے میں اگر مکمل نہ مُسمی کسی حد تک علم و آگہی ضرور حاصل تھی۔

جیسا کہ میں نے اپنے ابتدائیہ میں عرض کیا ہے کہ ہر مسلمان مسلک سے ماورا ہو کر احترام حسین ؓ ابن علی ؓ، اور یاد نواسہِ رسول کی وجہ سے محرم کا چاند نظر آتے ہی بے کل بے ہمہ و با ہمہ و بے نظیر بن کر بے ہمتا اور بیابان گرو بلکہ خود کو بیامان مرگ کا باسی بنا لیا ہے، کیونکہ نبی آخر زماں محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے باوجود کہ میرے اہلِ بیت ، یعنی خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کریں۔ حتیٰ کہ حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں فرمایا کہ میں حسین ؓ سے ہوں اور حسین ؓ مجھ سے ہیں۔ جن کو ہم اہل بیت اور پنجتن پاک کہتے ہیں، حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم ، حضرت علی ، بی بی فاطمہ الزہرا، حضرت امام حسن ؓاور حضرت حسین ؓ ۔

حضرت عثمان علی ہجویری ؒ سے لے کر صوفی برکت علی ؒ تک سبھی بزرگان دین نے سانحہ کربلا پر اپنے خون جگر سے دِل نگار کی بے اختیار ہُو کر جو عکاسی کی ہے، وہ الفاظ قابل کشید ہیں۔ عشق جب اپنے امام کے حضور میں نیاز مندانہ خراج عقیدت پیش کرنے کے بے مثل منظر پہ حاضر ہوا، کہرام مچ گیا، زمین و آسمان کی طابیں ٹوٹنے لگیں، ہوش و حواس کھو بیٹھا تھر تھرا کر پوچھا یہ کیا؟

ندا آئی کائنات کے پروردگار کے حبیبِ اقدس و اکمل ، اکرم و اجمل ، طیب و اطہر روحی فدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے لخت جگر شہزادہ کونین ؓ کے جسدِ اطہر کا لاشہ ہے۔ جسے شہادت کے بعد گھوڑوں کی ٹاپوں سے رُوندا گیا

ایک عرض پھر کی یہ کِس نے کیا؟

پھر ندا آئی یہ قصہ ِ کفار کا نہیں ، حضور اقدس کے اُمتیوں کا ہے۔

اُن کی اِس تکرار نے کہ شہزادہ کونین کے قتل میں جلدی کرو، جمعے کی نماز قضا نہ ہو، عشق کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، قبا نوچ کر تار تار کر ڈالی پامالِ ناز نے مُنہ پر راکھ ملی، سر پر خاک ڈالی ایک دِلزور مرثیہ پڑھا، اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اِس منظر کو نظروں میں یُوں سمیٹ لیا، کہ پھر کبھی اِس کو نظروں سے اُوجھل نہیں ہونے دیا۔

جب شامِ غریباں کے حضور غلامانہ خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہوا آپے سے باہر ہوگیا، حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اُس نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا، اُس کے سامنے ریت کے ذروں پر حُسن و عشق اور وفا و جفا کی داستان کا انوکھا باب خون سے لکھا ہوا تھا، سہمی ہوئی مقدس جانیں بوستانِ رسول کے کملائے ہوئے پھول ، گنج شہیداں کے کٹے ہوئے اعضاء، جلے ہوئے خیمے دُھواں چھوڑتی طنابیں ، لُٹا ہوا خانوادہِ رسول، بے بسی و بے کسی کے عالم میں جگر بند بتول ؓ حسین ؓ کا سر قلم ، جسم برہنہ ، لاشہ روندا ہوا، اہل بیت رسیوں میں جکڑے ہوئے، خاک و خون میں نہایا ہوا عشق ، دہشتِ غربت میں سربُریدہ، پیشوائےِ دین، ساقی کوثر کا تشنہ لب نواسہ ، سبط پیغمبر کا گھوڑوں سے رُوندا ہوا وجود اطہر ہر طرف گھمبیر اُداسی ، ایک وحشت خیز خاموشی، ایک الم ناک کرب، یہ درد ناک منظر اُس سے دیکھا نہ گیا، ہوش و حواس کھو بیٹھا، خوں کے آنسو رو دیا، بسمل کی طرح تڑپا، مذبوح کیطرح لوٹا، پھر یکایک اُس نے اَمارت کی عِمارت کی انیٹ انیٹ کر دی، لذت کا جام توڑ دیا، زینت کا عمامہ زمین پر دے مارا، راحت کا ترانہ بند کر دیا، عشرت کا رباب توڑ دیا، شہرت کی قبا تار تار کر دی۔

شامِ غریباں کے محبوبوں کی خاک پاسر میں ڈالی، ندامت کی قبا اُوڑھی، ملامت کی گڈری پہنی، صبر کا کاسہ تھاما، اور ایسا روپوش ہوا کہ پھر کبھی ، کسی روپ میں پرگھٹ نہ ہوا۔ اِس منظر کو کبھی نظروں سے اُوجھل نہ ہونے دیا اور حیات اُلدنیا کی منزل اِسی منظر کی پیشوائی میں طے کی۔

قارئین.... آج پھر جمعہ ہے ، یا الٰہی میرے وطن کی خیر ہو، اُمت مسلمہ کے مقدر ، کو مَکدر دینے والی یہود وہنود ، موجودہ دور کی طاقتیں قیصر و کسریٰ ، گنبد خضریٰ پہ نقب لگانے کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کی سر کوبی کیلئے کسی سلطان کی نہیں.... صلاح الدین کے ظہور کی منتظر ہیں کیونکہ ایام آلام کی تاریخ تیرے کلمہ گو مُسلمانوں پہ بار بار آتی ہے مگر ذوالجلال ولاکرام، تو تو گواہ ہے، کہ تو واحد بتول ؓ جیسی ہستی بھی ایک ہے، اور حسین ؓ ابنِ علیؓ بھی ایک ہے، جن کی وجہ سے تیرا نام زندہ ہے، اور ہم زندہ ہیں شیرِ خدا، کا شیر حسین ؓ

بشر تو کیا فرشتوں سے نہ ایسی بندگی ہوگی

حُسین ؓ ابن علی ؓ آئینگے دُنیا دیکھتی ہو گی

ہمارے خون کے بدلے میں اُمت بخش دے یا رب

خدا سے حشر میں یہ التجا شبیر ؓ کی ہوگی

آخر میں مولانا طارق جمیل صاحب سے سُنا ہوا ایک واقعہ ایمان تازہ کرنے کیلئے قارئین سُن لیں واقعہ کربلا کے تین سو سال بعد اہل بیت کی عزت و عفت مآب بی بی اپنے بچوں سمیت ہجرت پر مجبور ہوئیں، کیونکہ تنگ دستی کے باوجود سید ہونے کی وجہ سے وہ کسی سے صدقہ خیرات لینے پر تیار نہیں تھیں، ہمارے نبی محترم توکل کی انتہا دیکھیں کہ انہوں نے اپنی اہل بیت اور قیامت تک کیلئے اُن کی اُولاد پر پابندی لگا دی کہ وہ ذکوة ، صدقہ خیرات نہیں لے سکتی وہ بی بی ہجرت کر کے دوسرے ملک چلی گئیں، معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ شہر میں ایک عیسائی اور ایک مسلمان خاصے صاحب حیثیت ہیں، وہ یہ سوچ کر کہ پہلے مسلمان سے مِلنا چاہئے، وہ جب اُس کے پاس پہنچیں تو مسلمان نے اُن سے اہل بیت ہونیکا ثبوت مانگا، جو اُن کے پاس نہیں تھا، مجبور ہو کر پھر وہ عیسائی سے ملیں اور اپنا تعارف کرایا کہ میں اہل بیت میں سے یعنی اُولادِ رسول ہوں، تو اُنہوں نے نہایت گرمجوشی سے استبقال کیا، اپنی بیوی کو بلایا، اور بچوں کو نہایت پیارو احترام سے گھر لے گئے، رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان اور عیسائی کو خواب میں ملے، اور مسلمان پر سخت غصے کا اظہار فرمایا کہ جب میری بیٹی تمہارے پاس آئی، تو تم نے ثبوت مانگنے شروع کر دیئے، اور عیسائی کو نہایت تپاک سے ملے اس پر بہت خوش ہوئے، حضور جنت کے محل میں کھڑے تھے، جو نہایت خوبصورت اور قابل دید تھا۔ عیسائی سے فرمایا کہ یہ اب تمہارا ہے، عیسائی نے کلمہ پڑھا اور اہل بیت کی قدر افزائی کے صلے میں وہ مُسلمان ہوگیا۔

قائین ، اب اِس بحث میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ شہادت حسین ؓ کے ذمہ دار کِس مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟ میرے خیال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت بی بی عائشہ ؓ کے درمیان جنگ جمل کرانے والے منافقین ہی اس کے ذمہ دار تھے۔ جن کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان .... جب یزید ثانی مرزا غلام احمد قادیانی حُرمتِ رسول پر نعوذ بااللہ زبان درازی کر رہا تھا۔ اُس وقت کروڑوں مسلمانوں کا ایمان کہاں تھا؟ کیا نواسہِ رسول کو شہید کرنیوالے مسلمانوں کا ایمان ، اور آج کے مسلمانوں کے ایقان میں کچھ فرق ہے؟ شام ، فلسطین ، عراق ، افغانستان، ایران، سعودیہ کی جنگ کس سے ہے؟ بقول مظفر علی شاہ

ہر جہت سے شاہ کو پرکھا گیا

کربلا تھا امتحان ایمان کا

جان مال و نسل در راہ خدا

مرحبا اے پیکر صبر و وفا

با عمل نفسیر تھی معراج کی

کربلا سے قافلہ چلتا ہوا

نواسہِ رسول سر اقدس اور اسیرانِ اہل بیت کو دربار یزیدی میں پیش کرنیکا سیاہ داغ نہ تو قیامت تک دُھویا جاسکتا ہے نہ بھلایا جاسکتا ہے.... روزِ محشر مسلمان اپنے دین اور ایمان کی پہچان کیسے کرائیں گے؟


ای پیپر