بیاد عشق چراغاں
21 اکتوبر 2020 2020-10-21

گاڑی تیزی سے ماڈل ٹاﺅن کی لہورنگ عمارت کی سمت بھاگی چلی جارہی تھی 18اکتوبر کی خوبصورت شام منہاج القرآن کے چالیسویں یوم تاسیس کی خوبصورت محفل تھی دعوت خطاب تھی یوں تو میں پہلے بھی وہاں کی بیبیوں کی انتہائی مہذب تربیت کی وجہ سے ضرورجاتی تھی مگر ماڈل ٹاﺅن کے لہورنگ واقعے کے بعد اس شہادت میں رچی فضا سے تعلق کبھی نہیں ٹوٹا اور پھر جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے پانچ ہزار موضوعات پر مشتمل قرآنی انسیکلوپیڈیا کی افتتاحی تقریب میں مدعو کیا تو دل اس معجزاتی کرشماتی کام پر مسرت سے لبریز ہو گیا.... بے تحاشہ غلط تلفظ اور لب ولہجے والے سیاست دانوں میں اتنا عمدہ مدلل اور درست تلفظ سے بولنے والا عالم منفرد لگتا ہے ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر صاحب نے اپنے نپے تلے لہجے میں فکری بنیاد والا خطاب کیا جس میں لفظ کھوکھلے نہیں تھے پرمعانی تھے ایسے خطاب جس میں لفظ خود بول رہے ہوں بہت متاثر کرتا ہے انہوں نے چاردہائیوں پر مشتمل اس سفر کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کئی رازوں اور مقبولیت کے داﺅد پیچ پر گفتگو کی کہا کہ یہ بہت آسان راستہ تھا کہ میں نوجوانوں کو حوروں اور جنت کی بشارتیں پہنچا کر دہشت گردی پر مائل کرلیتا مگر میں نے بین المسالک اور بین المذاہب راستہ اختیارکیاجبکہ تاریخ سیاست گواہ ہے کہ مو¿قف کی شدت پسندی کے بغیر اتنی دنیا کو محض معتدل رویوں پر مائل کرسکنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ 

صفت تضاد کا عمل دخل اتنا ہے کہ لوگ اپنے لیڈر مذہبی پیشوا اور فرقے کو اولیت دینے کے لیے مقابل فرقے اور مسلک کو بُرا بھلا کہنا انتہائی ضروری سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ وہ راستہ ہے جس میں آپ بے تحاشہ الزام تراشی کرتے کرتے ایسے بہتان بھی لگائے جاتے ہیں کہ آپ خود بھی دنگ رہ جاتے ہیں، مگر ذات کی دھجیاں اڑواکر عرفان ذات کا سفرطے کرنا ذلت بھرے راستوں سے گزرکر بلندی تلک پہنچنا منزل کی اشد ضرورت ہے محض اشخاص نہیں تھکتے بلکہ تھکے ہوئے قدموں سے راستے بھی تھک جایا کرتے ہیں بقول عدم ....

میں تھک جاتا ہوں لیکن آہِ مایوسی نہیں بھرتا

کہ اس سے راہ گزاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے 

میں نے تین چار دہائیوں میں جن لوگوں کو منزل کے قریب دیکھا وہ خصوصی اوصاف رکھتے ہیں ان میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ شامل ہیں اچھے اور بُرے کہنے کا بھی میں نے اس لیے تردد کیا کہ بات عام فہم ہو حالانکہ یہ تقسیم انتہائی مشکل ہے اور مختلف اوقات میں مختلف رنگ کے پیراہن اوڑھ لیتی ہے ایسا آسان نہیں کسی کو بُرا یا انتہائی اچھا کہہ دینا ان دونوں اوصاف کے درمیان بیسیوں مقام آتے ہیں.... جن لوگوں نے ادارے بنائے بڑی بڑی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بنائیں اگر تو وہ پچھلی پیڑھی سے امیرترین چلے آرہے تھے تب توکوئی حیرت نہیں مگر اگر انہوں نے انہی دو تین دہائیوں میں عزت شہرت مقام کمایا (کرنسی بھی اس کی کمزور صورت ہے) جو ہم سب کو بھی میسر آئیں.... تو بات سوچنے والی ہے کہ اکثریت ہم سے بھی بدتر ہے جو اپنی ناکامیوں کا الزام اپنی کاہلی، کم صلاحیت ، اور تدبیر کو دینے کی بجائے اپنی بیوی (وائس ورثہ خاوند) معاشرے اور اردگرد کو دیتے ہیں، ذاتی صورت میں مجھے تو پہلے اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کو چھلنی میں چھاننا پڑتا ہے کبھی کی کامیابی بعدازاں ناکامی بن کر گلے پڑی ہوتی ہے اور کسی وقت کا ناکام ہوجانا بعدازاں انتہائی سودمند ثابت ہو جاتا ہے.... زندگی کی ترتیب سمجھ آنے کے بعد گرہیں کھلنے کا وقت ہوتا ہے.... 

اِک گنڈھ سلجی دل بہہ گئی 

میں نہاتی دھوتی رہ گئی 

صوفیوں کے ہاں پورا فلسفہ حیات ایسے ہی چھوٹے چھوٹے دومصرعوں میں سما جایا کرتا ہے، انسان ترشاہوا نگینہ بن جاتا ہے تو خریدار نہیں رہتا آنکھ دید کے قابل ہوتی ہے تو منظر نہیں رہتا ،تمنا اور تکمیل کے لمحے میں بہت تفاوت ہے.... یہ کبھی ایک ساتھ نہیں ہوتے جیسے سچے عشق کے متوالے کبھی نہیں مل سکتے ندی کے دوکناروں کی طرح ہمراہ چلتے ہیں، متوازی دل دھڑکتے ہیں مگر وجودیت انہیں الگ الگ ساحلوں پر رواں رکھتی ہے محبت فضاﺅں میں پڑی ہوئی گرہوں جیسی ہے یہی گرہ جب دل میں پڑجاتی ہے تو تمام کاوشیں بیکار ہوجاتی ہے طبعی حقائق بھی یہی ہیں دل کی نازک رگوں میں گرہیں پڑنے لگیں تو انہیں کھولے بغیر اطراف سے بائی پاس سڑک کے ”ٹوئے“جیسی رگ لگائی جاتی ہے کہ گرہ نے نہیں کھلنا لہٰذا سانس کو سائیڈ سے جگہ دی جاتی ہے اور وہ بلا کج جو گرہ ڈال دیتی ہے تمام عمر قائم رہتی ہے کہ اسے تو کھلنا ہی نہیں ....

اسے تو رکنا نہیں تھا کہ وہ محبت تھی 

مرے مزاج کاحصہ تھا میری وحشت تھی 

مجھے چالیسویں یوم تاسیس پر غار حرا یاد آتی رہی چالیس برس کا چلہ تربیت کے لیے کس قدر اہم ہے کہ یہ آگے آنے والے تمام تر عمارت کو سچائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے اک ریاضت ہے ایک انکشاف کا لمحہ ہے جو چالیس برس تک انتظار میں منجمد رہا کہ سچ کی رونمائی کا وقت مقرر ہے۔ 

محبت سرشت لوگوں کے لیے نفرت کی فصلیں اُگانا مشکل ہوتا ہے اسی طرح نفرت کی سرزمینوں پر محبت کی پرورش بہت مشکل ہوتی ہے ....

وہاں ایک گوشہ¿ حدود کی تعمیر ہورہی ہے جہاں تصوف کے حقیقی معانی ومفاہیم پر کام ہوگا کہ اس کی جو تعبیریں آج کل کی جارہی ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی ہردوسرابندااور خاتون خود کو صوفی کہلا رہے ہیں حالانکہ بے نیازی ہم سب کو چھو کر نہیں گزری کئی لوگ اس کی روح کو پس پشت ڈال کر گنجلاکے الفاظ کا دفینہ بنادیتے ہیں .... 

اوروح ہی روح ہے جسم نہیں 

اک واءدے وچ ہی کُھل جاوے

اے ایڈا سوکھا اسم نہیں

صوفیوں کا اشنان سمندروں سے ہوتا ہے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سجدہ کرتے ہیں پوری کائنات اُن کے روبرو ہوتی ہے اپنی سانسوں کا چرخہ کات کر اپنے حصے کی عمر کا سوت کاتنا اپنے رزق کی فصل اُگانا ہرکسی کے بس کا نہیں ان لوگوں کا شادیاں نہ کرنا اور پکے کوٹھے نہ بنانا موہ مایا سے(صفحہ نمبر3 پربقیہ نمبر1)

 پرہیز ہی نہیں دنیا کی حقیقت کو سمجھ جانا ہے .... 

گھنے جنگلوں کی گھپاﺅں میں زندگی کے راز کشید کرنے کے لیے عمدہ غذا اور ترک خواہش طویل چلے اور تنہائی کے چاند سب گہرے تجربے سے کشید ہونے والے شہد کے معاون ہیں ....

 سادھوﺅں کے روزوشب زندگی بھرے شہروں سے دور گہرے اندھیروں میں آرزوﺅں کی ارتھی اُتارتے ہیں کتنا نروان ہے کتنا سکون فریج ٹی وی گاڑی خرید کر خوش ہونے والا کیا جانے؟.... جس سستی خوشی کے پیچھے انسان نارنجی رنگ بن کر دوڑرہے ہیں وہ تو ایک لبریز مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتی جمال احسانی کی عمدہ غزل ملاحظہ ہو 

ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاﺅں کی 

آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاﺅں کی

 آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینے لگے

 ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراﺅں کی

 اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا 

پھر کبھی لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دُعاﺅں کی 

ڈار سے بچھڑا ہوا کبوت شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب 

آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے آدھی دولت چھاﺅں کی 

اس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال 

ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاﺅں کی 


ای پیپر