شہادتوں پہ خوشی کی بجائے افسوس کیوں ہوا؟ 
21 اکتوبر 2020 2020-10-21

قارئین کرام، مجھے تھوڑی سی آپ کی توجہ چاہیے، کہ جمعرات گزشتہ کو دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان بلوچستان میں کیپٹن سمیت بیس جوان شہید کردیئے، شہادت کی یہ خبر سن کر آپ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ کو خوشی کی بجائے افسوس کیوں ہوا، اس کی وجہ میں آپ کو بعد میں بتاﺅں گا، پہلے خدارا میری اس دلیل کو سنیں، کہ رہبر کامل حضرت محمد مصطفیٰ کے ذریعے ہمیں اس سوال کا جواب ملا کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہونا چاہیے، زندگی کا مقصد انسانیت کی معراج تک رسائی ہے، کہ ہرانسان کی یہ کوشش ہونی چاہیے، کہ وہ مقام بلند حاصل کیا جائے، کہ جس کی زندگی کبھی ختم ہونے والی نہیں، اگر اس معراج انسانی تک رسائی کا ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، تو پتہ چلتا ہے، کہ یہ صرف اور صرف ایثار اور ”قربانی“ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ 

اگر ہم تاریخی حوالوں سے عقل استدلال ودلائل اور عشق وسرمستی کی داستانوں کو عقل وخرد کی سان پر پرکھیں کہ کسی بھی فرد یا قوم کا نام تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں مرقوم ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پس پشت قوم کے ہر مجاہد کا یہی جذبہ قربانی سرخی مائل مسکراہٹ ، کامیابی وکامرانی کی اوٹ سے جھکتا نظر آتا ہے دراصل ضرورت کے وقت مجاہد سے لے کر سالک تک جہاد میں شرکت کرتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نیت سے شریک نہ ہو کہ اس کو درجہ شہادت، صرف اور صرف رضائے رب کیلئے نہیں بلکہ ذاتی نام ونمود کے لیے ہو۔ 

وہ جہاد میں اپنی تلوار کو سیف اللہ، اپنے تیر کو سہم اللہ، اور اپنے سنان کو سنان اللہ سمجھے، اور ایسا سمجھنے کا لازمی نتیجہ بہادری ودلیری ہے کہ جب مجاہد مرنے کے ہی سر ہو جائے، تو پھر ان کے ہاتھوں سب کچھ ہی ممکن ہے، چاہے، تو اکیلے باب خیبر کو اکھاڑ دے اور عالم جوش میں مرحب جیسے جنگجو کو دوٹکڑے کرکے رکھ دے کہ جبرائیل امین آکر اس کی بہادری وجواں مردی کی تعریف کرے اور اگر کسی مرد نجاست کو دوران غسل کے اسے والہانہ میدان جنگ میں پہنچا کر صفوں کی صفیں الٹانے کی توفیق عطا فرمادے اور ہمارے حضور یہ دیکھیں کہ فرشتے اس کو غسل کرارہے ہیں اور نیچے جسد مبارک کا پانی ٹپک رہا ہو چاہے تو حضرت عمروبن جموعؓ ، جیسا معذور میدان جہاد میں یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے شوق شہادت میں سرشار ودیوانہ وار کہتا جائے کہ اے میرے رب ! میں تیری راہ پہ نکل پڑا ہوں، مجھے اب اپنے خاندان کی طرف نہ لوٹانا۔ توفیق خداوندی سے دوتین سو درہم کا مہنگا ترین کپڑا پہننے والے اور ناز کے پلے ہوئے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اس قدر ثابت قدم کردیا کہ دونوں بازو کٹوا لیے لیکن اسلام کا علم سینے سے لگائے رکھا حتیٰ کہ شہید ہوگئے لیکن اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیا بلکہ میرا ایمان اور یقین ہے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے تو اسلام کا جھنڈا بلوچستان میں بھی لہراتا رہے گا، وہ اس لیے کہ ہمارے اسلاف نے ہماری تربیت ہی کچھ اس طرح سے کی ہے، کہ راہ خدا میں حضورپر نور کے جدامجد نے ”عملی اسلام“ کی ابتدا اپنے بیٹے کی قربانی سے کی تھی، محبت الٰہی کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ انسان اپنی جان جیسی قیمتی شے کہ جس کی ایک سانس کی قیمت دنیا بھر کی دولت کے عوض بھی نہیں ہے، مگر خدا کے حضور عجزوانکساری کے ساتھ پیش کردے اور اس قربانی اور ایثار کے مشکل ترین امتحان میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ دونوں کامیاب وکامران رہے۔ 

یہ فیضان کرم تھا، یا کہ مکتب کی کرامت تھی 

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

اس کے بعد شوق شہادت لیے تنہا میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے اکیلے ہوکر بھی کفار سے بے جگری سے مقابلہ کرنے والے کہ جن پر ہم سب کے ماں باپ قربان ہوں، انہوں نے اپنے دندان مبارک کی شہادت کا لہو دین اسلام کا جہان آباد کرنے کے لیے بصدشوق واحترام اللہ سبحانہ وتعالیٰ پیش کردیا ، اور صرف یہی نہیں، حضور کا دنیا میں جتنا بڑا مقام ہے، اسی کی مناسبت سے اسی قدر بلند قربانی پیش کی، کہ اپنا پورا کنبہ حرمت اسلام اور مالک ملک کے جہان کی بقاءکے لیے خون میں نہلا دیا، اور تاریخ اسلام میں شہیداعظم کا دائمی رتبہ حاصل کرلیا، اور شاعر پکار اٹھے کہ 

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے 

اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد !

اے اللہ تیرافرمان ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ میں مومنوں کا امتحان جان ومال سے نہ لوں، میرے رب تو، توگواہ ہے، کہ تیرے حبیب کے صدقے حضرت اسماعیلؑ سے لے کر کشمیر وفلسطین اور اب بلوچستان تک ہم نے اپنی خاک وخون سے تیراجہان آباد رکھا ہوا ہے، ہم عددی برتری سے نہ کبھی مرعوب ہوئے، اور نہ کبھی خاطر میں لائے۔ 

اے مالک ہمیں اپنا روز الست کا وعدہ یاد ہے ہمیں اپنی توفیق خاص سے اس پر قائم رکھنا، اس قول پر تو ہمارا میجر عزیز بھٹی شہید ہوا، اور اسی قول پر ہمارے نوجوان راشد منہاس نے جان نچھاور کردی، اور اب کیپٹن عمر فاروق مرمٹا، اور ہفتے کے روز، لانس نائیک وسیم اللہ نے اپنی زندگی اپنے دین پہ نچھاور کردی۔ 

قارئین ، ہمیں اور ہمارے ہم وطنوں کو ان شہادتوں پہ خوشی کی بجائے افسوس اس لیے ہوتا ہے کہ یہ معصوم اپنے ہی وطن میں دشمن کے ”ایجنٹ ہم وطنوں“ کے ہاتھوں انجانے میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ 


ای پیپر