بہتری یا تنزلی؟
21 اکتوبر 2019 2019-10-21

رات گئے حاکم وقت کی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ٹویٹ نے ہل چل مچا دی۔ رنگ برنگی بیک گراونڈ کے ساتھ جلی حروف میں تحریر کردہ اعداد شمار میں معاشی صورتحال میں بہتری کی نوید تھی۔ بات جب اعلی ترین سطح سے کی گئی ہو تو شک کی کیا گنجائش ؟ اور اگر کوئی گنجائش ہو بھی تو ہما شما کی کیا مجال کہ اس پر سوال اٹھا سکے۔ حکمرانوں کی ہر بات حرف آخر ہوتی ہے۔ ٹویٹ میں مژدہ جانفزا سناتے ہوے معاشی صورتحال میں بہتری کی اطلاع دی گئی تھی۔ وہ بھی رات گئے۔ خوشی سے دیر تک نیند آنکھوں سے دور رہی۔ پہلے تو سوچا معیشت میں بہتری کی خوشخبری سے فوری طور فائدہ اٹھایا جائے۔ اور جیب میں موجود تمام جمع پونجی کے عوض گھر کا سودا سلف خرید لیا جائے۔ کیا معلوم کب اگلے موڑ پر معیشت پھر غوطہ کھا جائے اور ہم ایسے ہمیشہ کے متذبذب ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ پھر سوچا رات اپنا نصف سے زیادہ سفر طے کر چکی اس وقت کون سی مارکیٹ کھلی ہوگی۔ لہٰذا اپنی بے صبری کو یخ پانی ترپلا کر رام کیا۔اور جاری کردہ اعدادوشمار کو پھر سے خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ تاکہ کہیں کوئی گستاخ اعتراض اٹھائے اور خواہ مخواہ تنقید کا نشتر چلانے کی کوشش کرے۔تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ یعنی وہی چھ ماہ کیلئے مثبت خبریں دینے کی رضاکارانہ ڈیوٹی کو پورا کیا جاسکے۔خبر کیا تھی ؟ جناب حاکم وقت نے اپنے الفاظ میں بتایا تھا کہ غیر ملکی ترسیلات کے حجم میں سترہ فیصد اضافہ ہوچکا۔ اگرچہ یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ اس اضافہ کا روپے کی گرتی ہوئی قدر سے کتنا تعلق ہے۔یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کتنے ہزار پاکستانی گزشتہ ایک سال میں ملک میں ذرائع روز گار نہ ہونے کہ وجہ سے بیرون ملک سدھار گئے۔ کیونکہ ہم نے تو سنا تھا تبدیلی کا گجر بجتے ہی صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ غیرملکی بھی پاسپورٹ ہاتھوں میں لیے نوکری کی تلاش میں پاکستان پہنچیں گے۔ وہ تو بھلا ہو مشیر خزانہ کا جنہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ بیرون ممالک تلاش معاش کیلئے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا۔ ملک کے اندر روزگار ہوتو باہر جانے کو کس کا دل کرتا ہے۔ دوسری خبر تھی کہ ایکسپورٹ میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یا حیرت یہ راتوں رات کیا ہو گیا۔ خبریں تو آرہی تھیں کہ بڑی بڑی صنعتوں کا پہیہ سست روی کا شکار ہے۔پھر کیا چیز ایکسپورٹ ہورہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے چند روز میں ان برآمدی اشیاء کا سراغ مل جائے۔ ایسا ہوا تو قارئین کو ضرور اعتماد میں لیا جائے گا۔ پکا وعدہ۔ ایک اور خوشخبری تھی کہ درآمدات میں اٹھارہ فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ مبارک ہو خوشی کی بات ہے۔ ذرا وضاحت ہوجاتی کہ کون سی اشیاء کی درآمد میں کمی واقع ہوئی ہے تو ہم کم علموں کے علم میں اضافہ ہوجاتا۔بہر حال دیر آید درست آید۔ اہل پاکستان نے خود انحصاری سیکھ لی ہے تو اس سے بہتر کیا بات ہوسکتی ہے۔ مشیر خزانہ واشنگٹن میں ہی اور اپنے سابق باسز آئی ایم ایف اوردیگر اداروں کو پاک وطن کی معاشی حالت کے متعلق برینفنگز دے رہے ہیں۔ لہٰذا وہ نہایت مصروف ہوں گے۔ ،شاید اخبار پڑھنے کی فرصت بھی نہ ہو۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وال سٹریٹ جنرل کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ ان کی نظر سے گزری ہوگی۔ ان کے شعبۂ تعلقات عامہ نے ان کو اخبار کا تراشہ فائل میں لگا کر بھجوایا ہوگا۔ آج کل تو واٹس ایپ کے ذریعے ہر طرح کا مواد پلک جھپکتے میں موصول کنندہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ یہ رپورٹ بڑی طویل ہے۔ مثبت خبریں دینے کا رضاکار بھی ہوں۔ لہٰذا مختصر کروں گا۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں متوسط طبقہ تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ان کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستانی معیشت جمود کا شکار ہوچکی۔ نواسی فیصد عوام کی رائے ہے کہ معاشی و مجموعی حالات خراب ہورہے ہیں۔شرح سود تیرہ فیصد ہوچکی۔ اور مہنگائی میں راکٹ کی سی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ وال سٹریٹ جنرل نے معروف ماہر معاشیات حفیظ پاشا کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے دو سال میں مزید بیس لاکھ افراد بیروز گاری کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ اس رپورٹ سے قبل ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ جاری کی گئی۔ اپوزیشن کے احتساب میں مشغول فیصلہ سازوں نے تک یہ رپورٹ پہنچی یا نہیں۔ اس کم علم کو ہر گز معلوم نہیں۔ لیکن یہ رپورٹ الارمنگ ہے۔ ایک سو اکتالیس ممالک کی درجہ بندی میں کمزوری کے لحاظ سے پاکستان ایک سو دسویں نمبر پر آپہنچا ہے۔ پہلے پاکستان ایک سو ساتویں نمبر پر تھا۔ تین درجے کی گراوٹ کے بعد اب میرا ملک جنوبی ایشیا میں سب سے نچلے درجے پر ہے۔ نیپال ، سری لنکا بنگلہ دیش ہم سے بہت اچھی پوزیشن پر ہیں۔ اس رپورٹ کی تیاری کیلئے جن بارہ انڈیکیٹر کو معیار بنایا گیا۔ ان میں سے سات میں پاکستان کا درجہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تنزلی کا شکار ہوا۔ جبکہ چار میں بہتری ہوئی۔ دو ہزار اٹھارہ میں کرپشن کی درجہ بندی میں پاکستان ننانوے جبکہ امسال تنزلی کا شکار ہوتے ہوے ایک سو ایک نمبر پر آگیا ہے۔چلیں ورلڈ اکنامک فورم کو بھول جائیں اور آئی ایم ایف ورلڈ اکنامک آوٹ لک رپورٹ کو پڑھ لیں۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستانی معیشت سست روی کا شکار رہے گی۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اور برقرار رہے گی۔ البتہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی آئے گی۔تجزیاتی رپورٹ کہتی ہے کہ بیروزگاری میں چھ فیصد ، مہنگائی کی شرح میں تیرہ فیصد اور شرح ترقی دو اعشاریہ فیصد رہے گی۔ ایک طرف یہ رپورٹیں اور دوسری جانب سائنس ٹیکنالوجی کے وزیر کا یہ انکشاف کہ چار سو حکومتی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ ایک ہزار سے زاہد یوٹیلٹی سٹور بند کیے جارہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں دو ہزار ملازمین روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔

خبر ہے کہ جناب وزیر اعظم نے بالآخر مہنگائی کا نوٹس لیا ہے او ر اس عفریت کے خاتمے کیلئے تجاویز مانگ لی ہیں۔ حالانکہ حکمران تو فیصلے کرتے ہیں۔ حکومتی زعماء کا دعوی ہے کہ معیشت بہتر ہورہی ہے۔ لیکن شاید ان کا دعویٰ مارکیٹ تک نہیں پہنچا۔ جہاں مہینے کے اختتام پر تاجر برادری دو روزہ شٹرڈاون کا فیصلہ کر چکی۔ حکومتی دعووں پر یقین نہ کروں تو مشکل۔ کروں تو مارکیٹ نہیں مانتی ،جہاں گرانی کا جن چکراتا پھرتا ہے۔ حکومت اور مارکیٹ ایک پیج پر آجائے تو ہم بے کس کنزیومر کی زندگی آسان ہوجائے۔ کشمکش اضطراب اور جھنجھلاہٹ سے تو نجات ملے۔


ای پیپر