ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ماڈل طرزِ انصاف
21 اکتوبر 2019 2019-10-21

سعادت حسن منٹو ہمارے ادب کی ایک متنازع شخصیت تھے جب ان پر فحش نگاری اور بد تہذیبی یا سماجی پردہ دری کا الزام لگتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ زندگی کو اس کی حقیقی شکل میں پیش کرنا چاہیے۔ ادبی تنازعات سے قطع نظر منٹو کے کچھ افسانے ہمارے معاشرے کی حقیقی تصویر کشی کرتے ہیں۔ آج ان کا ایک مشہور افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ بہت یاد آ رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ 70 سال بعد یہ افسانہ حقیقت کے روپ میں بحال ہو گیا ہے۔سمنٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگ ایک پاگل شخص بشن سنگھ کے گرد گھومتاہے۔ جو دیوانگی میں کبھی اپنے آپ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کہنے لگتا ہے کیونکہ وہ ٹوبہ کا رہنے والا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تبدیلیوں کے تبادلے کے پاگل خانے کے باسیوں کے تبادلے کی تجویز پیش ہوتی ہے تو بشن سنگھ انڈیا جانے سے انکار کر دیتا ہے ۔ بشن سنگھ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی ہی زبان میں تواتر کے ساتھ ایسے الفاظ بولتا چلا جاتا ہے جن کا کوئی مفہوم نہیں بشن سنگھ کا یہ جملہ ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’ اوپڑ دی گڑ گڑدی انیکسی دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دُر مٹنے منہ ‘‘

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک وکیل نے اپنی بیوی کا جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوایا جب وہ سرٹیفکیٹ تصدیق کے لیے محکمہ ہیلتھ کے متعلقہ اہل کار کے پاس آیا تو اس نے جعلسازی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ لاقانون وکلاء ملک بھر میں کینگرو کورٹس لگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انہیں جب یہ خطرہ ہوا کہ اس جعلسازی میں وکیل صاحب اور ان کی زوجہ مقدمہ پر فراڈ کا کیس درج ہو سکتا ہے اور انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے تو وکلاء نے فیصلہ کیا کہ جب سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلتا ہو تو انگلی ٹیڑھی کرنا نا گزیر ہے چنانچہ متعلقہ دو ملازمین کو ایک جھوٹا کیس بنا کر ہتھکڑیاں لگوا کر جیل بھجوا دیا گیا۔ یہاں یہ کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے۔ محکمہ صحت پولیس اور عدالت سب کو پتہ تھا کہ ان اہل کاروں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ بار سے ٹکرے۔ ضلعی انتظامیہ جس میں ڈپٹی کمشنر محسن رشید اور ڈی پی اور شعیب قریشی شامل ہیں جب اہل کاروں کے ساتھ ظلم زیادتی اور نا انصافی کی وجہ سے ان صاحبان جبہ و دستار کو اپنے ضمیر کا بوجھ نا قابل برداشت محسوس ہونے لگا تو انہوں نے مداخلت کا فیصلہ کای مگر آگے ڈسٹرکٹ بار تھی۔ آگے آگ اور پیچھے کھائی والی صورت حال میں در میانی راہ نگالی گئی۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کسی سرکاری افسر کا کوئی معاملہ ایم پی اے یا ایم این اے کے ساتھ ہوتا ہے تو رفع دفع کرنے کے لیے ڈی سی اور کمشنر صاحبان متعلقہ افسر کو مذکورہ ایم پی اے کے ڈیرے پر بھیج دیتے ہیں وہاں معافی تلافی ہوتی ہے ۔ ایم پی اے صاحب کی مجروح انا کی تسکینی کے بعد افسر کو ضلع میں رہنے کا پروانہ جاری ہو جاتا ہے۔ اس کیس میں ڈی سی صاحب اور ڈی پی او صاحب کی مشکل یہ تھی کہ کوئی ایسا ڈیرہ یا آستانہ نظر نہیں آتا تھا۔ جہاں سجدہ ریز ہو کر معافی کی بھیک مانگی جا سکے۔ ہماری بیورو کریسی جگاڑ لگانے کی ماہر ہے۔ دفعتاً انہیں خیال آیا کہ ڈسٹرکٹ بار سے بڑا ڈیرہ یا آستانہ تو پورے شہر میں نہیں ملتا۔ کیوں نہ وہاں جا کر قسمت آزمائی جائے۔ بیک چینل ڈپلومیسی نے اپنا کام دکھایا اور ڈسٹرکٹ بار ٹوبہ کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ اگر ملزمان جن کو جعلی کیس میں اندر کروایا گیا تھا ڈسٹرکٹ بار آ کر معافی مانگ لیں تو کیس واپس ہو جائے گا۔ ڈسٹرکٹ بار ٹوبہ میں جو کینگرو کورٹ لگائی گئی اس میں ڈی سی ٹوبہ اور ڈی پی او ٹوبہ وکلاء کے منت ترلے کے لیے بقلم خود تشریف لے گئے ۔ جس کی ویڈیو فوٹیج تمام چینل زیر نشر ہو چکی ہے ۔ قدیم قبائلی انصاف میں ایک روایت یہ تھی کہ جرگہ قاتل کو سزا دینے کے لیے اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈسٹرکٹ بار کا بھی ایسا ہی سین تھا۔ پولیس ملزم کو ہتھ کڑی لگا کر مدعی کے ڈیرے یعنی ڈسٹرکٹ بار لے کر آئی اور اُسے وکلاء کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے اُسے کہا گیا کہ وہ معافی مانگے۔

ملزم کو ہتھکڑی سمیت بار کی عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ فیض احمد فیض پر بغاوت اور غداری کے مقدمے والا سین تھا جس کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ :

پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوان ہوس ہیں

بیٹھے ہیں ذی العدل گناہ گار کھڑے ہیں

ہاں جرمِ وفا دیکھئے کس کس پہ ہو ثابت

وہ سارے خطا کار سردار کھڑے ہیں

ملزم سے کہلوایا گیا کہ جو کچھ ہوا ہے مجھے اس پر افسوس ہے ۔ پیچھے سے غصے تکبر اور طاقت کے نشے سے بھری آواز آتی ہے کہ یہ بھی کہو کہ میں اس پر معافی مانگتا ہوں۔ حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ پھر دوسرا ملزم آتا ہے وہ اپنی معافی نامے کے آخر میں کہتا ہے کہ ہم وکلاء اور بار سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتے۔ غصے سے بھری ہوئی ایک اور آواز بلند ہوتی ہے کہ آپ ( وکلاء سے جھگڑا) کر بھی نہیں سکتے۔

ملزمان کی عبرت ناک اور ذلت آمیز معافی کے بعد سنا ہے کہ ان کی توبہ قبول ہو گئی ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا منظر ڈی سی اور ڈی پی او کے لیے شرمناک میڈیا کے لیے حیرت ناک اور قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کے لیے خطرناک تھا۔ آج تک ہم نے بیورو کریسی کو سیاسی قیادت کے آگے سجدہ ریز ہوتے تو دیکھا تھا البتہ یہ منظر نیا نیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ ایک بے گناہ ملزم جو جھوٹے مقدمے میں پھنسا ہوا تھا اُسے چھڑانے کے لیے اتنا زور اگر کیس کی از سرِ نو تفتیش یا عدالتی انصاف کی بازیابی پر لگتی تو وہ ملزم میرٹ پر بھی رہا ہو سکتے تھے۔ انہیں وکلاء کے سامنے گڑ گڑانے کی ضرورت نہ تھی۔ ریاستی طاقت کے ان مقامی سر چشموں نے ریاستی بزدلی کی وہ مثال قائم کی ہے جو بیورو کریسی کی نا اہلی میں ایک Precedent یا سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ طاقتور کے سامنے دم دبانا اور کمزور پر جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا ہماری بیورو کریسی اور پولیس کا شعار ہے۔ ناقِص طرزِ حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو فطری طور پر سیاستدانوں کو الزام دیا جاتا ہے۔جبکہ اس کے اصل ذمہ داران بیورو کریٹ ہیں جو سیاستدانوں کے لیے ہی ہر کرپشن کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اس افسوسناک واقعہ کے بعد اب ہم سعادت حسن منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کیریکٹر بشن سنگھ کی طرف واپس چلتے ہیں۔ بشن سنگھ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی موجودہ ضلعی انتظامیہ دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کا رویہ انسانی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ ڈسٹرکٹ بار میں لگنے والی عدالت کے شور میں ہمارے کانوں میں بشن سنگھ کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ ’’ اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکسی دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دُر فٹے منہ‘‘

جب بے اصول لوگ زمانے پہ چھا گئے

زندہ رہے گا کون اصولوں کے ساتھ ساتھ


ای پیپر