کیا آئینی ترمیم بھوک مٹاسکتی ہے؟
21 اکتوبر 2019 2019-10-21

شہید بھٹو فائونڈیشن کے زیر اہتما م اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،جس کا مو ضوع تھا’’ ملک میں جمہوریت کو درپیش مشکلات ‘‘ ۔ تقریب کے مہمان خصوصی تھے پیپلز پارٹی کے ممتاز رہنما سینٹرفرحت اللہ بابر۔فرحت اللہ بابرجب خطاب کر رہے تھے تو پوری محفل پر ایک سحر طاری تھا۔نرم ،شائستہ اور مدلل انداز بیان کی وجہ سے حاضرین پوری توجہ اور انہماک سے ان کو سننے پر مجبور تھے۔فرحت اللہ بابر نے سب سے پہلے ان اقدامات کا تذکرہ کیا جو پیپلز پارٹی نے 2008 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے اٹھا ئے تھے۔انھوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا کہ پیپلز پارٹی نے اس ترمیم کے ذریعے ایوان صدر سے اختیار لے کر پارلیمنٹ کو منتقل کر دئیے جس سے پارلیمنٹ بالادست ہوئی۔لیکن ساتھ ہی انھوں نے شکوہ کیا کہ جب مقتدر قوتوں کو معلوم ہو ا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب ایوان صدر سے جمہوریت پر شب خون مارنے کا دروازہ بند کر دیا گیاہے تو انھوںنے آئینی دفعات کا سہارا لے کر پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا اور پھر انہی دفعات کا استعمال کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم ہائوس اور سیاست سے بے دخل کیا ۔انھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ اس وقت ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جس کے مطابق ’’ وردی والا محب وطن اور بغیر وردی والا غدارہے ‘‘ ۔جب فرحت اللہ بابر خطاب کر رہے تھے جو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ اپنے جادو بیانی سے انھوں نے تمام حاضرین کے دل و دماغ میں اپنا بیانیہ اس انداز سے پھونک دیا ہے کہ اب کوئی بھی ان سے اختلاف نہیں کر سکے گا۔لیکن جب سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا تو میری یہ غلط فہمی دور ہوگئی اور میرے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا صرف آئینی ترمیم سے کسی کی بھوک مٹ سکتی ہے؟ کیا صرف دستوری ترمیم سے کسی ریاست کی عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات مل سکتی ہے؟ میں یہ سب کچھ سوچ رہا تھا کہ فرحت اللہ بابر سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ماضی میں سیاست دان ہی آمروں کے آلہ کار بنے رہے ؟اس سوال کے جواب میں فرحت اللہ بابر نے تسلیم کیا کہ حقیقت یہی ہے کہ ماضی میں سیاست دانوں نے آمروں کا ساتھ دیا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اس لئے کہ میثاق جمہوریت میں اس کا سدباب کر دیا گیا ہے۔اسی سوال کا دوسراحصہ پیپلز پارٹی کا صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کافیصلہ تھا لیکن اس حصے کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیااس لئے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا جمہوریت کو ایک خطرہ مورثی سیاست نہیں تو اس سوال کا جواب بھی وہ گول کر گئے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جمہوری استحکام کے لئے ضروری نہیں کہ حکمران کارکردگی دکھائیں تب عوام ان کا ساتھ دیگی؟سوال کرنے والے نے ترکی کے صدر طیب اردوان کو مثال کے طور پر پیش کیا ۔فرحت اللہ بابر نے تسلیم کیا کہ ہاں سیاسی جماعتوں پر عوام کا عدم اعتماد بھی ایک خطرہ ہے۔جب تک حکومتیں کارکردگی نہیں دکھائیں گی عوام کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد بحال نہیں ہو گا۔انھوں نے دورہ ترکی کا حوالہ دیا کہ ہم نے ترک صدر طیب اردوان سے سوال کیا تھا کہ آپ فوج کو سیاست سے بے دخل کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے تو ان کا جواب تھا کہ یہ ایک طویل عمل ہے آپ کے ہاں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے لیکن آپ جلدی نہ کریں ۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ جب حکومت میں تھے تو آپ نے فوج کے بجٹ کو کم کیوں نہیں کیا ؟ فرحت اللہ بابر نے جواب دیا کہ پہلے فوج کے بجٹ کے بارے میں ایک لائن لکھ کر اس کے مصرف کے بارے میں بتا یا جاتا لیکن ہم نے اب ان کو پابند کیا ہے کہ وہ تمام تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں اور اب وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔لیکن ساتھ ہی انھوں نے شکایت بھی کی کہ ارکان پارلیمنٹ فوج کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات پرسوال اٹھانے سے اب بھی گریز کر تے ہیں۔

فرحت اللہ بابر نے اس تقریب میں ان تمام آئینی اقدامات کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا جو پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے اٹھا ئے تھے۔فرحت اللہ بابر کے خطاب میں سب سے اہم نکتہ یہی تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ ملک میں جمہوریت کے لئے سب بڑا خطرہ ہے،لیکن جب حا ضرین نے سوالات کئے تو اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ عام آدمی کی سوچ یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ خود سیاسی جماعتیں اور سیاست دان ہیں اس لئے کہ جب ان کو اقتدار مل جاتا ہے تو یہ کارکردگی نہیں دکھا سکتے ۔جب یہ حزب اختلاف میں ہو تے ہیں تو پھررات کی تاریکی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے تر دید کی کہ انھوں نے کبھی بھی رات کی تاریکی میں اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کی لیکن اس بات کی تصدیق بھی کی کہ رات کے اندھرے میں وہ اپنے گھر کے روشن ڈرائنگ روم میں زبردستی آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ ملاقات کرنے پر مجبور ہو تے ہیں۔تقریب سے خطاب میں فرحت اللہ بابر اگر ایک طرف آئینی اصلاحات کا تذکرہ کر رہے تھے تو دوسری طرف حاضرین کے سوالات سے معلوم ہو رہا تھا کہ ان کو آئینی اصلاحات سے کو ئی غرض نہیں ۔ان کو روزگار چاہئے۔رہنے کے لئے چھت کی ضرورت ہے۔ بچوں کے لئے تعلیمی ادارے چاہئیں۔بیماروں کے لئے ہسپتال ہونے چاہئیں۔ملک میں امن و امان کے لئے وہ سوال پوچھ رہے تھے۔ انصاف کے لئے آزاد عدلیہ کا مطالبہ کر رہے تھے۔سانس لینے کے لئے صاف ستھرا ماحول ان کا مطالبہ تھا۔اپنے خطاب میں فرحت اللہ بابر نے حا ضرین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم نے ملک میں جمہوری استحکام کے لئے دستور کو غلاظتوں سے پاک کیا لیکن حاضرین اپنے سوالوں سے ان کو جواب دے رہے تھے کہ ہمیں آپ کے آئینی اصلاحات سے کوئی سروکار نہیں ہمیں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں دیں تب ہم سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں پر اعتماد کریں گے۔اس تقریب میں سب سے اہم بات شہیدبھٹوفائونڈیشن کے عہدے دار جناب آصف خان کا یہ جملہ تھا کہ ’’اس طرح کی تقریبات تسلسل کے ساتھ ہونی چاہئیں‘‘۔ میں اس جملے کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں اس لئے کہ اس طرح کی تقریبات میں مقررین کے خطابات کے بعد سوالوں سے ان کو نتائج اخذ کرنے میں آسانی ہوگی کہ حکومت ،سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی ترجیحات کیا ہیں اور عوام ان سے کیا چاہتی ہے۔


ای پیپر