بنام اسلامی نظریاتی کونسل
21 اکتوبر 2019 2019-10-21

آپ صادق اور امین ہیں یہ جواب تھا تقریباً 1452سال پہلے مکہ کے کفار کا جب میرے آقا کریم نے اللہ کا پیغام سنانے سے پہلے اہل مکہ سے اپنے متعلق رائے مانگی گویا نظریہ اور کسی بھی قسم کا دعویٰ اور دعوت فکر دینے سے پہلے اپنے کردار کی تصدیق کا اصول دے دیا گیا میرا موضوع بنیادی طور پر کچھ دیگر نقاط ہیں یعنی القابات اور تعریف وغیرہ جیسے کوئی بھی قانون کی کتاب کھولیں تو پہلا باب Definition کا ہو گا کہ اس ایکٹ کے تحت فلاں لفظ کا مطلب کیا ہو گا پھر اس ایکٹ اور قانون میں آئندہ کسی بھی جگہ پر جب وہ الفاظ استعمال ہوں گے تو ان کے مطالب وہی لیے جائیں گے جو اس ایکٹ میں بتا دیئے گئے ہیں۔ اعمال صالح سے کوئی فقہ نہیں روکتی۔ ایمان کے بعد اعمال صالحہ ہیں البتہ کچھ باتیں بڑے دکھ کا باعث ہیں جو ہم تجاوز کر جاتے ہیں۔ الفاظ کے معانی تو آفاقی ہوتے ہیں کوئی بھی زبان ہو اس کے کسی ایک لفظ کو کئی معنی اور کیفیات کے بیان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مثلاً سمارٹ انگریزی لفظ ہے جس کو خوبرو نظر آنے پر بھی اور ناپسندیدہ ترین حد تک ہوشیاری دکھانے والے کو بھی سمارٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سطحی باتیں اور بحث ہے فی الحال تاریخ کے چند الفاظ ہیں جن کی بات ہو گی۔ آئین 1973ء آرٹیکل 63-62میں لکھے گئے صادق اور امین اور عدالتی فیصلوں، کالموں میں صادق اور امین کا اکٹھا لفظ سیدھا 1452 سال سے زائد ہمیں ان لازوال ساعتوں اور عظیم واقعہ کی طرف لے جاتا ہے جو سرکار کریم کی طرف سے اللہ کا پیغام سنانے سے پہلے کفار سے اپنے بارے رائے طلب کرنے پر کفار کا جواب آیا۔ صادق اور امین گویا اسلام کے ظہور اور اعلان نبوت سے پہلے ہی زمانہ جاہلیت میں بھی آقا کریم کا لقب تھا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایکٹ آف اسلام میں بھی کچھ تعریفات ہیں القابات ہیں لہٰذا صادق اور امین صرف آقا کریم کا لقب ہے پارلیمنٹ حکومت،عدلیہ اور لکھاریوں کو سوائے آقا کریم کے یہ الفاظ کسی لیے استعمال نہیں کرنے چاہیے۔ ان کی جگہ کوئی دوسرے متبادل الفاظ ہونے چاہئیں۔ اصحاب کہف کا قرآن عظیم میں ذکر ہے اس کے علاوہ گو کہ صحابی دوست اور ساتھی کے معانی میں آتا ہے لیکن یہ تعریف مخصوص ہے صرف ان خوش نصیبوں کے لیے جو سرکار کے زمانہ میں آقا کریم کی نبوت پر ایمان لائے اور سرکار کا دیدار کیا البتہ اویس کرنی کو یہ درجہ حاصل ہے کہ بن دیکھے صحابی قرار پائے۔ اسی طرح ’اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ہیں… ازواج مطہرات، آقا کی ازواج ہیں‘

یار غار، صرف حضرت ابو بکر صدیق ہیں (دیکھا گیا ہے کہ بیورو کریسی، سیاسی عہدیداروں و دیگر وہ لوگ جن کے آپس میں بہت تعلقات ہوں روزانہ شراب کی میز پر بیٹھے ہوں۔ منہ پھاڑ کر کہہ دیں گے کہ فلاں فلاں کا یار غار ہے۔ نہیں انسان کے بچے بنو۔ یہ تعریف صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ کے لیے ہے۔

اسی طرح دیگر تعریفات اور اور القابات اور الفاظ ہیں جو عام بول چال میں دینی ، تاریخی اور معاشرتی اعتبار سے مخصوص ہیں۔

میں اپنے بڑے بھائی اعظم بھائی کے ریسٹورنٹ گوجرانوالہ بروسٹ پر بیٹھا تھا کہ شیخ ظفر اقبال خوبصورت نوجوان چھوٹے بھائیوں کا درجہ رکھتے تھے آگئے ساتھ دو چار لڑکے بھی تھے۔ مجھے یاد ہے اُن دنوں طلباء تنظیم میں سر گرم تھے۔ میں نے دیکھ کر کہا کہ آپ ایک پاکباز نیک خاتون بیٹے، اور امید ہیں ان کی حسرتوں خوابوں کی تعبیر ہیں۔ حوالات اور جیل کی جالی میں سے انگلی ملانے کی صورت مت پیدا ہونے دینا اور اپنی والدہ کے پاس واپس لوٹ جائیں۔ لوگ آپ کو استعمال کریں گے اور جیل کو آپ کا مقدر بنا دیں گے۔ وہ دن گئے کہ پھر کوئی Activity نہ سنی …جنڈیالہ باغ والا کے شیخ ظفر اقبال پپو اب ایک مذہبی روحانی، صاحب تصوف، کشف و کمال صاحب مطالعہ، ایمان و کرامت اور صاحب مراقبہ شخصیت ہیں، با عمل عالم اور قابل تقلید ہستی بن چکے ہیں ان کا حلقہ نیابت بہت وسیع ہے۔ قرآن وسنت کے پابند ہیں پچھلے دنوں انہوں نے میسج بھیجا۔

’’سارے رواجوں سے برا رواج ، میت والے گھر کھانا لگتا ہے یقین کریں جنازہ اٹھنے کے بعد مرحوم کی بہو بیٹیاں آنکھوں کے گرد سیاہ پلکوں اور زرد رنگت کے ساتھ عورتوں میں چاولوں کی پلیٹیں تقسیم کرنے آتی ہیں تو معاشرتی بے حسی کا اس سے بڑا مطاہرہ اور کوئی نہیں ہو سکتا، اس پتھر دل روایت پر حد اور تف ہے جس کی زد میں اگر آتا بھی ہے تو کون؟؟ جس کا بھائی جس کی ماں جس کا باپ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا غرض یہ کہ میت کے گھر جا کر کھانا کھانا نہ صرف اخلاقی بلکہ مالی لحاظ سے بھی انتہائی تکلیف دہ ہے رواج ہے لیکن ہم نے اسے پرکھوں کی روایت سمجھ کر اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے‘‘۔

قبلہ شیخ صاحب نے مزید لکھا کہ ’’بھائی جان! ہمارے معاشرے میں مذہب کے نام پر کئی ظلم ہوتے ہیں جن میں سے ایک ظلم یہ بھی ہے، آپ مظلوم کی آواز بنیں روز محشر سیدنا شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی شفاعت فرمائیں گے، ان شاء اللہ‘‘

قبلہ حضرت ظفر اقبال شیخ کی بات درست ہے کہ مذہب کے نام پر ذاتی مفاد کے لیے ظلم ہوتے ہیں مجھے وطن عزیز میں مذہب کے نام پر سیاسی ظلم بھی یاد آ گئے جو آج تک جاری ہیں۔

اس حوالے سے عرض ہے کہ جناب حضرت جعفر طیارؓ کی شہادت کی خبر آئی تو میرے آقاؐ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا کہ جعفرؓ کے گھر والوں کے لیے کچھ کھانا بنا دیں وہ غم میں ہیں ۔ لہٰذا یہ روایت تو ملتی ہے کہ غم میں ڈوبے حضرت جعفر طیارؓ کے گھر والوں کے لیے سرکار کے اہل خانہ نے کھانا دیا نہ کہ پورے مدینے کو دعوت طعام دی گئی مگر آج ایسی رسومات نے موت زندگی سے مہنگی کر دی۔ دراصل ہم ہر سطح پر استیصال کرنے والے لوگ بن چکے ہیں سماجی، علمی، سیاسی، تجزیاتی قد کے کوڈے ٹی وی کی سکرین پر لوگوں کی رائے سازی نہیں باقاعدہ ورغلاتے ہوئے پائے جاتے ہیں حکمرانی کے حصول کے لیے ہم امریکہ، یورپ بیچتے بیچتے گرتی ہوئی ساکھ بچانے اور حکمرانی کی طوالت کے لیے ’’ریاست مدینہ‘‘ کی نام فروشی پر اتر آئے۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متوازی مذہبی سیاسی جماعتوں کے عسکری جتھے بن گئے جن کی وجہ سے آئندہ FATFکی طرف سے کیا مطالبہ آتا ہے تیار رہیں۔

میری اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست ہے کہ خلاف دین رسومات اور خصوصی القابات کے غلط استعمال کے خلاف حکومت کو قانون سازی کی ہدایت دے۔ خاتم النبیین آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والوں کو ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے دور میں غیر مسلم قرار دیا تھا۔ 27 رمضان المبارک یا 20 رمضان المبارک فتح مکہ کے دن کو ختم نبوت کے حوالے سے قومی تہوار کے طور پر عام تعطیل کرنے کی سفارش کی جائے تا کہ پوری دنیا کو علم ہو کہ آج پاکستان میں عام تعطیل ہے اس لیے کہ آقا کریم خاتم النبیین ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تا کہ منافقت ریا کاری کا نام بدل بدل کر ختم نبوت کے معاملے سے چھیڑ چھاڑ اور نقب لگانے کی مذموم حرکت کا تدارک کیا جائے۔


ای پیپر