چند رپورٹیں
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

ایک نہیں کئی رپورٹیں سامنے ہیں۔اقتصادی مہارت کا دعوی تو بہت بڑی بات ہے۔ ایسی ہمت بھی کبھی نہیں کی۔ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا محدود عقل اور اوسط ذہانت کے سبب کبھی سمجھ نہیں آیا۔ لیکن سامنے کاغذ پر لکھے اعداد و شمار سمجھنے کی نہ سہی۔ لیکن پڑھنے کی استعداد ضرور ہے۔ مقامی، بین الاقوامی اقتصادی، مالیاتی اداروں کی تجزیاتی رپورٹیں سامنے ہیں۔ کئی بین الاقوامی جرائد اور اخبارات میں شائع شدہ خبریں بھی نظر سے گزریں۔ کہیں سے کوئی خبر ایسی نہیں جس کو پڑھ کر اطمینان کی سانس لی جائے۔ اوپر سے وزرائے کرام ہیں کہ کنفیوژن میں مسلسل اضافے کا سبب ہیں۔ ایک ہی موضوع پر چار وزرا ہیں تو چاروں کے بیانات بالکل مختلف ہیں۔ ایک کی سمت مشرق تو دوسرے کی مغرب۔ بجائے اس کے ابر آلود مطلع صاف ہو جائے۔کنفیوڑن مزیدبڑھ جاتی ہے۔ کبھی چین کی طرف سفر تو کبھی سعودی عرب کی جانب سامان سفر باندھ لینے کی تیاریاں۔ کبھی اوور سیز پاکستانیوں سے غربت اور تنگ دستی کا بوجھ بانٹ لینے کی اپیل تو کبھی آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب مراجعت کی فضیلت کیلئے پراپگینڈہ مشینری کی ڈبل شفٹ میں ڈیوٹی۔معاملہ اعرابی کے اس اونٹ کی مانند ہے جس کے متعلق آخری وقت تک پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس کروٹ بیٹھے گا۔معلوم اس وقت ہوتا ہے جب سوار نیچے جا گرتا ہے۔ اس سے پہلے کہ خبر تذبب کا شکار سوار اچانک زمین پر جا گرے۔ چاروں جانب سے بجتی ہوئی گھنٹیوں کو سن لینا ہی بہتر ہو گا۔ ملکی و غیر ملکی مالیاتی اداروں کی رپورٹوں کو پڑھ کر لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا ہے کہ مالی سال 2018۔19 میں معاشی ترقی کی شرح نمو میں 6.2 فی صد اضافے کا ہدف پورا نہیں ہو گا۔ جو کہ بنیادی بینچ مارک ہے۔ اس سے کم شرح نمو مالیاتی مسائل میں نہ صرف اضافہ کر ے گی بلکہ اس کے نتیجہ میں پاکستان کی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی کمی آئے گی۔ سٹیٹ بنک کے مالیاتی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ رواں مالی سال میں شرح نمو 4.7 فیصد سے 5.2 فیصد تک رہے گی۔ اگر ان عوامل کو سامنے رکھا جائے نئے مالی سال میں مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ سٹاک ایکسچینج مزید تنزلی کا شکار ہو گی۔ اگر کبھی سٹاک ایکسچینج میں حصص کا کاروبا ر وقتی طور پر بڑھا بھی تو اس میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔ جو کہ حصص کے کاروبار کیلئے ضرررساں رہے گا۔ غیر یقینی پن کاروبار حصص کیلئے زہر قاتل ہے۔ سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے حوالے سے معاصر انگریزی روزنامہ نے لکھا ہے کہ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے اسی دور انیے کے مقابلے میں ڈائریکٹ فارن انوسٹمنٹ میں 42 فی صد کمی آئی ہے۔ سال رواں کے اسی عرصہ میں جولائی تا ستمبر چار سو انتالیس اشاریہ پانچ ملین کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی۔ جبکہ سال گزشتہ میں اسی عرصہ کے دوران سات سو پینسٹھ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری ایسے وقت میں کم ہوئی ہے جب ہمارے ملک کو ایک ایک ڈالر کی ضرورت ہے۔ چونکہ غیر ملکی زرع مبادلہ کے ذ خائر نہایت تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ انگریزی اخبار کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس 14.6 بلین ڈالر کے مجموعی زر مبادلہ ذخائر موجود ہیں۔ لہٰذا ہمارے وزیر داخلہ قرض اورمدد کی تلاش کیلئے مختلف سمتوں میں تانک جھانک کر رہے ہیں۔22 اکتوبر کو جب یہ سطور آپ کے سامنے ہونگی تو وزیر اعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ اپنے دوسرے دورہ سعودی عرب کیلئے سامان سفر باندھ رہے ہونگے۔ مختصر عرصہ میں دوسرا دورہ سعودی عرب اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے اقتصادی حلقوں میں کیسی افرا تفری ہے۔ وزیر اعظم چند روز سعودی عرب میں قیام کے بعد واپس آئینگے، چند روز سانس لیکر ان کو ایک مرتبہ پھر نومبر کے پہلے ہفتہ میں چین جانا ہو گا۔جہاں سے کسی اچھی خبر کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری میں مقامی عناصر کے کردار کو دیکھا جائے تو مجموعی کمی 63 فیصد بنتی ہے۔ گویا مقامی اور غیر ملکی دونوں طرح کے سرمایہ کار وں کی جانب سے انوسٹمنٹ میں حوصلہ شکنی کا رجحان ہے۔ ہمارے ملک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا شیئر ہولڈر گزشتہ چند سالوں سے چین ہے۔ چین کے بعد جو ممالک وطن عزیز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان میں برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،سویٹزر لینڈ، جاپان وغیرہ نمایاں مما لک ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ کی پیش گوئی کرتے ہوئے سٹیٹ بنک نے کہا ہے کہ جی ڈی بی کی شرح میں متوقع اضافہ نہ ہوا تو صنعتی شعبہ سست روی کا شکار ہو گا۔ زرعی شعبہ کی کار کردگی پچھلے سال سے بھی کم رہے گی۔ اس وقت اگر اکانومی کو سہارا مل رہا ہے تو وہ غیر ملکی تر سیلات در ہیں۔ ابھی جمعتہ المبارک کی رات ہی گیس کی قیمتوں میں کمر توڑ اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ہے۔ سٹیٹ بنک کی سہ ماہی رپورٹ کو چند لمحوں کیلئے فراموش کر دیں۔ اقوام متحدہ کے ہیومن ڈویلپمنٹ ادارے کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور مقامی اردو، انگریزی اخبارات میں خبریں ہیں کہ معاشرہ میں مطالعہ کی عادت نہیں رہی۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔ بین الاقوامی ادارے نے189 ممالک میں ہیو من ڈویلپمنٹ کی صورتحال پر رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ کن شواہد کی بنیاد پر مرتب کی گئی۔ ہمیں معلوم نہیں لیکن اگر یہ رپورٹ غلط ہے تو اس کو چیلنج کیا جا نا چاہیے۔ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو مقام شرم ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف دو یا تین ممالک پاکستان سے نیچے ہیں۔ایران اس رپورٹ کے مطابق 60ویں نمبر پر ہے۔ سری لنکا 76 ویں نمبر پر ہے۔ بھارت 130 ویں، بنگلہ دیش 136 ویں، نیپال 149 نمبر پر ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہماری تقریبا 30 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ جبکہ انڈیا میں بائیس فیصد کے قریب ہے۔افغانستان میں یہ شرح 36 فیصد ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح ہم سے کم ہے۔ ایک طرف یہ رپورٹیں ہیں تو دوسری جانب نئے پاکستان کی نئی نویلی حکومت کے اقدامات ہیں۔ حال ہی میں وفاقی بجٹ کو از سر نو پیش کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں بہت بڑی کٹوتی کی ہے۔ پنجاب حکومت نے چند روز پہلے اگلے آٹھ ماہ کا ضمنی بجٹ پیش کیا ہے۔ جس میں صحت اور تعلیم کے لئے محتص بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ میٹرو بسوں کے کرایوں میں کمی۔ کئی محکمے، ادارے بند کرنے کی اطلاعات، تشویش ناک ہے۔

پاکستان نیا ہو یا پرانا۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرے۔ ان کی تکالیف میں کمی کیلئے اقدامات کرے۔ان کو پہلے سے حاصل ریلیف میں اضافے کیلئے اقدامات کرے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے دنیا میں غربت بڑھ رہی ہے۔خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی حکومت اگر سیاسی محاز آرائی سے وقت نکال کر انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ گھر میں لڑائی ہو اہل خانہ بر سر بیکار ہوں تو سرمایہ کاری توکیا بھولا بھٹکا مہمان بھی رُخ نہیں کرتا۔


ای پیپر