مستقبل کا سیاسی منظر نامہ
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

سیاسی حالات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کچھ نظر آرہا ہے؟ چار درویش بیٹھے ملکی حالات پر تبصرے فرما رہے تھیپانچواں گدڑی پوش ادھر آنکلا اس نے کچھ دیر’’ سیانوں ‘‘کی باتیں سنیں پھر سوال کیا کہ اندھیرے میں کچھ نظر آرہا ہے یا صرف ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہو؟ سرجھکائے ایک درویش نے کہا کہ گزشتہ دنوں کے ضمنی انتخابات کے غیر متوقع نتائج نے مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کی آؤٹ لائن واضح کردی ہے بقول شخصے ’’ہوا کا رخ بدلنے لگ گیا ہے۔‘‘ 2018ء کے عام انتخابات کے دوران طاری جنون مہنگائی کی پہلی قسط کے ساتھ ہی ہوا ہوگیا عوام کی خاصیبڑی تعداد (پانچ لاکھ سے زائد بندگان خدا) نے حکمران پارٹی سے منہ موڑ کر ن لیگ کو ووٹ دے دیے ان کے علاوہ بھی کروڑوں عوام نے سمجھ لیا کہ’’ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سناافسانہ تھا‘‘ حکمران پارٹی کے سارے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ گئے شکست کی وجہ کیا بنی؟ اندرونی اختلافات ،وزیروں مشیروں نے امیدواروں کی انتخابی مہم سے ہاتھ اٹھا لیے؟ یا نا تجربہ کاری؟ پانچ سال کے دوران صرف گالم گلوچ ،کنٹینر سے نیچے اترتے تو حالات کا تجربہ ہوتا کسی بھی بڑے نے یہ نہ کہا کہ مہنگائی سے عوام ہل گئے ہیں بچوں کے دودھ، موبائل فون اور الیکٹرانک سمیت 570 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے سے مکھن، شہد، پنیر، گندم سمیت سبھی اشیائے خورد و نوش مہنگی ہوگئیں ،دالیں، سبزیاں سبھی کی قیمتیں بڑھ گئیں بس روپے کی بے عزتی ہوگئی بے قدری برداشت نہ کرسکا اور اوندھے منہ گر گیا، ایشیا میں سب سے کم قدر و منزلت پاکستانی روپے کی ٹھہری، ڈالر بڑھا تو دنیا بھر کی اشیا مہنگی ہوگئین، جن کے گھر دانے ان کے ’کملے‘ (پاگل) بھی سیانے لیکن جن گھروں میں بھوک کے ڈیرے انہوں نے پی ٹی آئی کو درخور اعتناء نہ سمجھا عوام بھی بجلی گیس کی قیمتوں میں بار بار اضافہ سے جھنجلا گئے بجلی کے نرخوں میں 2016ء سے اضافہ اور دو سال کے واجبات کی قسطوں میں ادائیگی کا فیصلہ موخر کردیا گیا لیکن عوام کو مہنگائی کی تلوار سر پر لٹکتی محسوس ہوئی فائدہ ن لیگ کو ہوا، رفت گزشت، 100 دنوں کے بعد کیا ہوگا ؟ سیاسی پنڈت سر جوڑے بیٹھے ہین معاشی تباہ حالی نے سب کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے بقول وزیر خزانہ کشکول لے کر گھوم رہا ہوں ، فائدہ ؟آئی ایم ایف والے ہاتھ نہیں آرہے سعودی عرب اور چین کی طرف سے بھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا نہیں آیا فوری طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے بابا جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، درد ناک صداؤں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بھی دل نہیں پسیجے، طفل تسلیوں سے کیا ہوگا کس پر اعتبار کیا جائے؟ سچ پوچھیے تو عوام نے اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے چور چور کہنے سے کوئی چور نہیں بن جاتا چوری کے ثبوت دینے پڑتے ہیں یہ الگ منطق کہ آج کل چور کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے وہ تو فرد جرم عائد ہونے سے آخری سانس تک صحت جرم سے انکار کرتا رہے گا مال مسروقہ کہاں ہے گواہ کون ہیں جنہوں نے 300 ارب ڈالر چوری کرتے دیکھے چشم دید گواہ ضروری ہیں واجد ضیا نے بھی اپنی آنکھوں سے چوری ہوتے نہیں دیکھا کسی سے پوچھا کسی سے سنا، سنی سنائی باتوں پر فیصلہ، باہر حضرات گرامی 56 چینلوں پر چور چور کا ترانہ گانے میں مصروف ہیں ،گالیاں بھیرویں راگ کی صورت الگ مزہ دیتی ہیں ،کسی نے ٹوئٹ کیا کہ گالیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ گالم گلوچ کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر الگ وزارت قائم کی جانی چاہیے وزیر موجود ہیں،گالیاں دے کر بے مزہ نہ ہونے والوں کو گالیوں کا قلمدان سپرد کردیا جائے، ضمنی انتخابات عوام کا پہلا رد عمل، اسی تیزی سے جنون اترتا رہا تو’’دیکھنا ان اسمبلیوں‘‘ کو تم کہ ویراں ہوگئیں‘‘ سیاست پچھلے چار پانچ سالوں سے بازیچہ اطفال بن کر رہ گئی جن کی مسیں تک نہیں بھیگی تھیں وہ گالم گلوچ کرتے اسمبلیوں میں پہنچ گئے وزیر بھی بنا دیے گئے سوجھ بوجھ کا عنصر غائب، جنون، جذباتی پن اور کھیل کود اولین ترجیح، پورا ملک جیالوں، متوالوں اور بیٹ بلا گھمانے والے کھلاڑیوں مین بٹ کر رہ گیا ،جیالے بھٹو شہید کے عاشق، متوالے نواز شریف کی اداؤں پر فدا، دونوں طبقے گزشتہ نصف صدی کے آزمودہ، جنونی کھلاڑی عمران خان کے دعوؤں، وعدوں اور نعروں پر فریفتہ، تبدیلی کی راہ میں ریڈ کارپٹ بچھا دیا گیا یقین دہانی کہ ’’تیر پہ تیر چلاؤ، بیٹ پہ بیٹ گھماؤ تمہیں ڈر کس کا ہے۔‘‘ لیکن ضمنی انتخابات نے ن لیگ کو آکسیجن فراہم کردی مردہ رگوں میں جان پڑ گئی، لاہور کے قلعہ میں جو دراڑ پڑی تھی اسے بھر دیا گیا، گجرات کے چوہدری ووٹروں کے لیے حلوے کی دیگیں نہ چڑھاتے تو شائد دو سیٹیں بھی حاصل نہ کرسکتے، سیاسی جماعتین زوال پزیر ہیں،حیرت ہے کہ ق لیگ جو 2000ء میں حکمران پارٹی تھی صرف ایک شہر کی پارٹی بن کر رہ گئی آپس کی بات ہے 2000ء کے بعد ضد کر کے وزیر اعظم بنے اس دوران کیا تیر مارا لال مسجد اور اکبر بگٹی قتل کے سانحات پر افسوس یا مذمت تک نہ کر پائے آج تک ضمیر کچوکے لگا رہا ہوگا، ضمنی انتخابات میں ووٹر چوہدریوں کی بجائے حلوہ پوری سے متاثر ہوئے شنید ہے کہ 14 اکتوبر کو دن بھر حلوے کی دیگیں چولہوں پر رہیں حلوے کی بات چلی ہے تو ایک تاریخی واقعہ سنتے جائیے عربی کی کسی کتاب میں پڑھا تھا آج تک حافظہ میں محفوظ ہے ،کسی مملکت خداداد میں اقتدار کا بحران تھا کوئی حکمران اپنی میعاد پوری نہیں کر پاتا تھا بڑے طمطراق سے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے اقتدار سنبھالتا لیکن دو ڈھائی سال بعد ہی کسی نہ کسی الزام میں نکال دیا جاتا ہر پانچویں چھٹے سال بعد پھر آجاتا تھا تنگ آکر تا حیات نا اہل قرار دے دیا گیا تمام سیاسی جماعتوں نے اسے پی سی بلائی اور پے در پے کئی ملاقاتوں کے بعد طے کیا کہ آئندہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا سیاستدانوں میں پھوٹ ڈالنے فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں ملک افراتفری کا شکار ہوگیا ،ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھے کئی روز تک سر جوڑے بیٹھے رہے بالآخر طے پایا کہ علی الصبح شہر کے داخلی راستے سے آنے والے شخص کو حکمران بنا دیا جائے، راوی کہتا ہے کہ مملکت کے داخلی راستوں پر پولیس کو الرٹ کر دیا گیا دو تین روز بعد ایک گدڑی پوش فقیر فجر کے وقت شہر میں داخل ہوا پولیس والوں نے اسے پکڑ لیا حاضر کیا گیا وہ چلاتا رہا کہ مجھے کیوں پکڑا ،جواب ملا ہماری مرضی ملک چلانا ہے اس نے پوچھا میں نے کیا جرم کیا ؟جواب ملا جرم ضروری نہیں مفروضوں یا نظریہ ضرورت کے تحت بھی تو پکڑا جاسکتا ہے، وہ کیا کہتا خاموش ہوگیا راوی بیان کرتا ہے کہ اسے نہلا دھلا کر حکمران بنا دیا گیا خلعت فاخرہ پہنتے ہی اس کے طور طریقے بدل گئے حلف اٹھانے تک خاموش رہا لیکن حلف اٹھاتے ہی پہلا فرمان جاری کیا ’’حلوے کی دیگیں چڑھاؤ‘‘ حکم کی تعمیل ہوئی ملک بھر میں ایک ارب سے زائد حلوے کی دیگوں کا منصوبہ بنا لیا گیا حلق خدا حلوہ کھانے میں اتنی مصروف ہوگئی کہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات بھول گئی خزانہ خالی ہوگیا عوام نے سر اٹھا کر دیکھا تو ملک میں غربت عسرتاور تباہی کے سوا کچھ نہ تھا ،ایک درد مند وزیر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا کورنش بجا لایا بادشاہ سلامت کابینہ کے 35 وزیروں مشیروں کے ساتھ حلوہ کھانے میں مصروف تھے درد مند وزیر نے اطلاع دی کہ انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ اطلاع کے مطابق دشمن ملک پر حملہ کرنے والا ہے بادشاہ سلامت نے ہانک لگائی ’’حلوہ پکاؤ‘‘ درد مند وزیر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ،چند دن بعد اطلاع دی کہ دشمن نے حملہ کردیا ،وہی حکم ملا ’’حلوہ پکاؤ‘‘ وہ چلایا، عالی جاہ دشمن شہر میں داخل ہوگیا حکم ملا ’’حلوہ پکاؤ‘‘ تھوڑی دیر بعد ایک درباری بھاگتا ہوا آیا ’’ظل الٰہی آپ کا اقبال بلند ہو دشمن محل میں داخل ہوگیا بادشاہ سلامت خاموشی سے اٹھے خلوت گاہ میں داخل ہوئے خلعت فاخرہ اتاری اور گدڑی پہن کر دشمن کی صفوں سے گزرتے ہوئے شہر سے باہر نکل گئے شہر کے دروازے پر ایک پولیس اہلکار نے پہچان کر روکا بادشاہ سلامت آپ کہاں جا رہے ہیں گدڑی پوش نے شہر پر اچٹتی نظر ڈالی حلوے سے بھرا کشکول مضبوطی سے پکڑا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ حکمرانی کس کم بخت نے کرنی تھی حلوہ کھانا تھا جی بھر کے کھایا’’ اب تو جاتے ہیں میکدے سے میر، پھر ملیں گے اگر خدا لایا‘‘ پھر وہی سوال کہ مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ، کوئی آس امید؟ اللہ اس مملکت خداداد کی حفاظت کرے۔


ای پیپر