اقتصا د ی دشو ا ر یو ں سے نکلنے کی ر ا ہ
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

اپنے دو تا ز ہ ہو نے والے غیر ملکی دو ر و ں کے تنا ظر میں وز یرِ ا عظم عمر ا ن خا ن نے عند یہ دیا ہے کہ شا ید اب ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جا نا پڑے۔ خدا ا ن کی زبا ن مبا ر ک کر ے تا ہم اس وقت و طنِ عز یز جس ا قتصا د ی وشو ا ر یو ں سے دو چا ر ہے اس پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک نہ ختم ہونے والی بحث چل پڑی ہے، ایک طرف آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج، دوسرے معاملات میں کھربوں کے قرضوں کی بازگشت، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، گردشی قرضے، ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ، رہائشی سکیم، نجکاری کا دباؤ، بجلی ، گیس، سی این جی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا شدہ مہنگائی کا طوفان، ایسے مشکل چیلنجز ہیں جن سے حکومتی اقتصادی ماہرین متضاد اعداد و شمار کے چکر اور بحران سے نکلنے کے محض اعلانات پر انحصار کر رہے ہیں۔ البتہ صورتحال کے ایک روشن پہلو پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کی جائیداد والوں کو نوٹس جاری کریئے ہیں، لوٹی ہوئی دولت پاکستان میں واپس لانے کے لیے برطانیہ سے رابطہ کیا جارہا ہے۔ نیا پاکستان بن رہا ہے، عوام ٹیکس دے کراس کا حصہ بنیں ۔ اس کے ساتھ ہی ایک بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا جو بھی پروگرام ہوگا، پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے۔ کشکول سے جان چھڑانی ہے تو برآمدات کو بڑھانا پڑے گا ۔ پھر حسب رو ا یا ت اپنی حکو مت کی پا لیسیو ں کا ڈھو ل پیٹتے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود غریبوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ پھر ما ضی کے پیچھے چپھتے ہو ئے و ہی پر انا بیا ن جا ری کیا کہ کہ ن لیگ نے 5 سال میں ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا۔الزامات کی تکرار غالباً حکومتی جارحانہ اندازِ فکر کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔اس سے تو یہی با ت سمجھ میں آ تی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اس عمر سمیت تقریباً پی ٹی آئی کے تمام پالیسی ساز، سنجیدہ وزراء اور ماہرین معاشیات ملکی معیشت کی اصل ڈائنامکس کی نفسیاتی دلدل سے باہر نہیں نکلے۔ جبکہ ن لیگ پر ہر خرابی کی ذمے داری ڈالنے کی مستقل روش نے عوام اور اپوزیشن کو ردّ عمل پر بھی مجبور کردیا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے اقدامات کی وجہ سے بال بال قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ دنیا کے سامنے کشکول لیے پھر رہا ہوں، کوئی ڈالر نہیں دیتا، ڈالر چھاپ نہیں سکتے۔ اوگرا، نیپرا گیس اور بجلی کے نرخ متعین کرتے ہیں، اگر گیس کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو کئی کمپنیاں بند ہوجائیں گی۔ گیس خسارہ 154 ارب روپے ہے، بیل آؤٹ ناگزیر ہے۔ وہ اعتراف کرچکے ہیں کہ 2008ء میں نوید قمر کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو نوید قمر کا قصور نہیں تھا بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کا قصور تھا۔ جب 2013 میں اسحاق ڈار آئی ایم ایف کے پاس گئے تو اسحا ق ڈار کا قصور نہیں تھا بلکہ پیپلز پارٹی کا قصور تھا۔ 2018ء میں آئی ایم ایف کے پس جانا تحریک انصاف کا قصور نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا قصور ہے۔ یوں یہ سلسلہ چلتے چلتے قیام پاکستان تک پہنچ جائے گا۔ ادھر اپوزیشن کا اعتراض یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے معاشی، زمینی حقائق کا ادراک کرنے میں کافی دیر لگائی۔ عوام آج بھی ریلیف کے منتظر ہیں جبکہ حکومت ان کے لیے مہنگائی اور ٹیکسوں کے نئے دروازے کھولنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اس ساری صورتحال کا بہترین ازالہ ٹھوس معاشی روڈ میپ کی تیاری سے ہی ممکن ہے۔ جو ہوا سو ہوا، اب عالمی صورتحال اور ملک کو درپیش داخلی سیاسی، سماجی اور معاشی بھنور سے نکالنے کے لیے الزام تراشی اور کردار کشی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ دیکھا چاہیے کہ دوست ملک کس حد تک مدد کے لیے تیار ہیں۔ ان کے ساتھ سنجیدہ نوعیت کا مکالمہ کیا جائے تاکہ بحرانی کیفیت سے باہر نکلنے کی کوئی راہ سامنے آسکے۔ ایک بنیادی تضاد کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ گلہ کہ دنیا میں کشکول اٹھا کر پھر نے کی نوبت کیوں آئی، اپنا جگہ در ست ،لیکن ان کی حکو مت کو اس کا ا درا ک عوا م سے لمبے چو ڑے وعد ے کر نے سے پہلے ہو نا چا ہیے تھا۔ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت تاثر دیتی ہے کہ نئے اتحادی پاکستان سے تعلقات کی تجدید پر مائل ہیں، روس اور چین سمیت خطے کے دیگر ممالک کے نئے بلاک کی تشکیل کے قصے ہیں تو امریکا اور یورپ سے ڈالر کیسے ملیں گے اور چین اور روس سے ڈالروں کی توقعات پر ملکی معیشت کتنا انحصار کرے گی۔ تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ پاک چین دوستی ایک اٹل حقیقت ہے، مگر سی پیک پر نظر ثانی کا شوشہ چھوڑنے والوں نے پاکستان کے معاشی بحران کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ چین محتاط ہوگیا ہے اس کے رابطوں میں تیزی بے معنی نہیں ہے۔ اسے چینی قیادت کی پاکستان کے عوام سے گہری محبت کا صلہ کہیے کہ چین نے سی پیک قرضوں کو پاکستان کے بحران کی وجہ قرار دینے کے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی قرضے اتنے زیادہ نہیں کہ معاشی بحران پیدا ہوجائے۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کے حل کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کے لیے آئی ایم ایف کی مدد و معاونت کریں۔دو سر ی جا نب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاک چین زرعی تعاون کے تحت فصلوں کی پیداوار بڑھانے، تجربے اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ، بیج و پودوں کی حفاظت و بیماریوں پر قابو پانے جیسے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ مختلف پراڈکٹس کی ویلیو ایڈیسن، ڈیری، لائیوسٹاک اور فشریز میں مارکیٹنگ پر توجہ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے نائب وزیر برائے زراعت ماآئے گو سے ملاقات میں کیا۔ فریقین نے زرعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک جامع طریقہ کار اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے کثیر جہتی معاشی مسائل کے حل کے لیے دور ر َس اقدامات اٹھائے جائیں۔عوام کو نئی حکومت سے بے پناہ توقعات تھیں۔ حکومت کہتی تو ہے کہ وہ ملک کے خوشحال اور بالادست طبقے پر معاشی دباؤ ڈالے گی جبکہ غریبوں پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مہنگائی میں ہوشربا اضافے نے سفید پوش طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے ملازم پیشہ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی میں اضافہ تو نہیں ہوا بلکہ ان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ ادھر نجی شعبہ جامد ہوگیا ہے، کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور مسلسل بے روزگاری کا شکار ہیں، نئی حکومت کے پالیسی سازوں کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے، کئی کئی سو ایکڑوں کے فارم ہاؤسز میں رہنے والے، ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ بڑے بڑے قبائلی عمائدین اور سردار جن کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، ان پر کسی کی نظر نہیں پڑ رہی۔ یہی حال طاقتور اور بڑے زمینداروں کا ہے۔ یہ لوگ سینکڑوں ہزاروں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں لیکن ٹیکس اول تو ہے نہیں، اگر ہے بھی تو بہت معمولی نوعیت کا۔ فلاحی ادارے بھی ٹیکسوں سے باہر ہیں جبکہ ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کا طرزِ زندگی شاہانہ ہے، نئی حکومت کو ان طبقات سے ٹیکس لینے کے عمل کے با ر ے میں محتا ط روئیے کی ضر ور ت ہے۔


ای پیپر