’ریڈلائن‘
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

اسے شومئ قسمت کہئے یا کچھ ۔۔ لیکن لگ یوں رہا ہے کہ تلخیء حالات کا نوحہ جب لکھنے والا لکھے گاتو زاروقطار۔۔ رو رو ۔۔کے لکھے گا ۔۔ وہ لکھے گا کہ جس وقت مملکت خداداد پاکستان کے صحافی، تجزیہ کار، کالم نگار اور اینکرپرسنز۔۔ پاکستان میں پانی کے ممکنہ بحران پر طبع آزمائی کرتے ہوئے۔۔ اپنے ڈیموں کا بھارت سے تقابلی جائزہ کر رہے تھے ، ڈیم بناو مہم عروج پر تھی ، ڈالر کی قدر بڑھ رہی تھی اور روپیہ اپنی قدر کھو رہا تھا۔ عین اسی وقت ۔۔’پاکستان‘۔۔ اپنی سات لاکھ چھیانوے ہزار چھیانوے مربع کلومیٹر پر محیط سلطنت کے اُفق پرایک بہت بڑی ، سماجی ، تکنیکی اور اخلاقی ’جنگ ‘ہار رہا تھا اوریہ وہ ہار تھی جس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑا(خاکم بدہن)۔۔ ہمار ے ملک میں بحث چل رہی ہے کہ مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے ۔۔ نواز، شہباز اور مریم نواز کے پاس کیا آپشن ہیں ۔۔ عمران خان بشری بی بی کی وجہ سے وزیر اعظم بنے یا کسی اور وجہ سے ۔۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو منہ کی کیوں کھانا پڑی ۔۔ ابوظہبی میں محمد عباس کی تباہ کن باولنگ نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کے پرخچے کیسے اڑائے ۔۔ تجاوزات کے خلاف حکومتی کریک ڈاون اصلی ہے یا دکھاوا ۔۔ دیامیر بھاشا ڈیم بن بھی پائے گا یا نہیں ۔۔ جوانی پھر نہیں آنی ٹو جیسی فلمیں ’لالی ووڈ‘کوکدھر لے جارہی ہیں۔۔فواد حسن فواد واقعی وعدہ معاف گواہ بنے ہیں یا بنائے گئے ہیں ۔۔نومنتخب کابینہ اورحکومت کتنے دن چل پائے گی ۔۔ آصف علی زرداری بھی نیب کے رگڑے میں ائیں گے یا نہیں ۔۔ ثانیہ مرزا اپنے بچے کا کیا نام رکھیں گی ۔۔ اور ٹِک ٹاک کے میوزیکل چیلنج میں کس نے کس کو مات دی۔۔ ان ساری اہم خبروں کے بیچ ہم ریاست مخالف تیزی سے پروان چڑھتے نظریے اور’ اینٹی اسٹیٹ بیانئے‘ کی مقبولیت کو قطعی طور پر نظر انداز کرچکے ہیں۔۔اور گزشتہ کئی سال سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔۔شاید پاکستان بطور ریاست ہماری ترجیحات میں شامل نہیں یا ہم قوم کونیوز چینلز پر تفریحی ٹوپی ڈرامہ دکھانے اور فیس بک ، ٹوئیٹر ، انسٹاگرام سمیت سوشل میڈیا پراپنے مادر پدر آزاد ،ریاست مخالف نظریات سے بھرپور بیا نیے کے شتر بے مہار کوسرپٹ دوڑانے میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں رہا کہ ہم کہاں ہار رہے ہیں۔۔کیوں ہار رہے ہیں اور کس وجہ سے ہار رہے ہیں ۔۔حقائق ہم پر آشکار ہونا شروع ہو جائیں گے اگر ہم یہ ماننا شروع کر دیں کہ جنگیں محض توپوں اور گولوں سے لڑنے کا زمانہ پُرانا ہو چکا ۔۔اور اگر پرانا نہ بھی ہوا ہو تو بھی کوئی ریاست ۔۔بنا عوام کی اخلاقی حمایت کے جنگیں لڑنے اور جیتنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ پوری دنیا میں ریاستوں کی امیج بلڈنگ اور برانڈنگ کے لئے کئی کئی دہائیاں لگا دی جاتی ہیں ، پورے پورے تھنک ٹینکس(Think Tanks)

سالہا سال اپنے وژن اور ذہنی استعداد کا تیل جلاتے ہیں تب کہیں جاکے ریاستوں کے لئے سفارتی اور اخلاقی جنگوں کے محاذ جیتنے کے لئے میدان سجانا ممکن ہوپاتا ہے ۔ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں اپنی ریاست سے پیار نہیں ، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ریاست اور حکومت کے درمیان موجود سرخ لکیر یعنی ریڈ لائن یعنی خطرے کی دبیز سی لکیر کا اندازہ نہیں ہے۔ہم جو سوچتے ہیں وہ ہمارا نکتہ نظر ہوسکتا ہے لیکن جب ہم اس نکتہ نظر کو سوشل میڈیا پر آگے بڑھاتے ہیں تو اس opinion کے ذریعے اذہان سازی کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ اس نکتے کی کوئی سرحد نہیں رہتی ۔کیونکہ سوشل میڈیا ۔۔۔مباحثی مرکز ہے تو چھوٹی سی بات پر بحث چڑھ جاتی ہے ۔کچھ لوگ حق میں جب کہ کچھ اختلاف میں رائے دیتے ہیں ، نتیجہ تو کچھ نہیں نکلتا لیکن اثرات بڑے سنگین مرتب ہوتے ہیں ۔یہ تطہیری عمل قدرے سست اور بھیانک ہوتا ہے۔اس سے قوموں کی من پسند رائے کے ذریعے مہماتی اذہان سازی اور من پسند بیانیے تقویت پاتے ہیں ۔چند ایک لوگوں کے ترجیحی نکات پرمبنی جملے اپنا اثرچھوڑتے چلے جاتے ہیں ، اثرات کا پھیلاو بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ Opinion ڈویلوپ ہوتی چلی جاتی ہے اور ادارے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اس بحث کامقصد سمجھنے سے قبل ہمیں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ حکومت اور ریاست میں کیا فرق ہے اور ان دونوں کے بیچ موجود خطرے کی سرخ لکیر یعنی ریڈ لائن کو عبور کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے ۔جمہوری نظام میں ریاست اور حکومت لازم و ملزوم ہیں ۔ ریاست ہوگی تو ہی حکومت قائم ہوپائے گی ۔ ہٹلر کے مطابق عام اصطلاح میں ’ریاست‘ اس جغرافیائی حدود اور اس میں موجود افراد کی تعدادکانام ہے جس کے ذریعے کسی خطے کی حداور آبادی کے نظم و نسق کا تعین کیا جاسکے۔

A State is defined area with certain boundary limit and number of people i-e Population living under descpline. ( Hitler )

جبکہ جمہوری نظام میں حکومتوں کے رجحان کے حامی ونٹسن چرچل (Wintson Churchill)کہتے ہیں کہ حکومت کسی ریاست میں مقیم لوگوں میں سے چنے ہوئے اس گروہ کا نام ہے جو ریاست کے نظم ونسق کو ایک خاص مدت کے لئے برقرار رکھنے اورجمہورکے مسائل کے خاتمے اور وسائل کو بروئے کار لانے کی ضامن ہوتی ہے ۔

تیسری دنیا کے ممالک بشمول پاکستان ، بھارت ، ایران ، افغانستان ، بنگلہ دیش ، مالدیپ اور نیپال میں ریاست کا تصور۔۔ ان کی جغرافیائی حدود اور اس حدود کی رکھوالی کی ضامن اس سیکیورٹی ادارے یعنی فوج کا نام ہے جو نہ صرف اس جغرافیائی حدودیعنی ریاست کا بنیادی جزو کہلاتی ہے بلکہ حکومتوں کے قیام کے لئے قوت نافذہ یعنی مرکز مائل قوت یعنی Centripital Frorceکا بھی کام کرتی ہے۔ ریاست کا تصور خطے کے جغرافیائی حالات اور معروضیت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ جس طرح کے خطے میں ہم رہتے ہیں ۔ ہمیشہ جنگ کے سائے ہم پر منڈلاتے رہتے ہیں ۔ ایسے خطے میں واقع سات لاکھ چھیانوے ہزار چھانوے مربع کلومیٹر پر محیط ریاست میں فوج کا لازم جزو ہوناناگزیر ہوجاتا ہے۔ فوج ریاست کا مضبوط ستون ہے اور ریاست کو بالادست رکھتی ہے۔ منتخب کردہ حکومتوں کا دست راست بنتی ہے اور لوگوں کے تحفظ کی ضامن کہلاتی ہے۔جبکہ حکومت انتخابات کے ذریعے منتخب کردہ نمائندوں کا نام ہے جو ریاست کو چلانے اور قواعد وضوابط پر عمل کراتے ہوئے کو ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم آج تک ریاست اور حکومت کے درمیان فرق کو سمجھ نہیں پائے۔ شاید ہمارے ہاں آمریت کا زیادہ غلبہ رہا ہے اس لئے ہم فوج کو بطور ادارہ کسی منتخب حکومت کے متوازی لاکھڑا کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر تیزی سے پروان چڑھتے فوج مخالف بیانیے کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ فوج اور سیاستدان ایک ہی میدان میں کھیلنے والی دوٹیمیں ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے خطے میں رائج ریاستی نظام میں فوج اس میدان پر نظم ونسق کے استحکام اور نفاذ کا حصہ ہوتی ہے جہاں اپوزیشن اور حکومت کھیل رہے ہوتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن امپائر کا کردار ادا کرتا ہے۔جس دن ہم یہ فرق سمجھ گئے ہمیں ریڈ لائن کا احساس ہوجائے گا اور ہم بے جا تنقید کے ذریعے ریاست مخالف یعنی فوج مخالف بیانیے سے اجتناب کرنے لگیں گے۔ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اپنے مفادات کے اہداف مکمل نہ ہونے پر سیخ پا سیاست دانوں نے بھی لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ یعنی ریاست کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ دنیا و مافیا سے ماورا۔۔ جنابِ نہال ہاشمی اور ان کے قائد کے حالیہ بے تکے بیانات آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔موصوف کہتے ہیں کہ ایسے ٹینکوں اور ایٹم بم کا کیا کرناکہ ہم ایک انچ تک آگے نہیں بڑھ سکے ۔ویسے نہال ہاشمی سے ایسے بھونڈے بیانات ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ بیانات دیتے وقت موصوف یا تو مدہوش ہوتے ہیں یا انہیں ریڈ لائن کراس کرنے کا بہت شوق ہے۔ موصوف کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ فوج کا کام کسی کے خطے پر قبضہ کر کے حدود اربع میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ اپنی حدود یعنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے اسے ڈیفنس فورس کا نام دیا جاتا ہے اور شاید اسی لئے اس کی وزارت کا نام وزارت دفاع ہوتا ہے۔ دنیا میں کہیں ایسی فوج یا فوج کی ایسی کوئی وزارت نہیں جسے وزارت خانہ جنگی یا وزارت قبضہ گیری کا نام دیا جاتا ہو یاجس کے ذریعے اس ریاست کی فوج دوسرے ممالک کی حدود پر قابض ہوتی چلی جائیں ۔نہال ہاشمی جیسے سیاسی سائنسدانوں کے وجدان ہی کا ثمر ہے کہ ریاست مخالف بیانیے کے حامی لوگوں کو اپنی فوج پر جملے کسنے کا موقع ملتا ہے۔مین اسٹریم میڈیا ہو ، سوشل میڈیا ۔۔ یا ۔۔ کوئی اور پلیٹ فارم ۔۔ میری ناقص رائے میں تنقید سے پہلے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ کہیں آپ حکومت اور ریاست کے درمیان فرق پر مبنی اس دبیز لائن یعنی ریڈلائن کو عبور تو نہیں کر رہے ۔ کہیں آپ کی اس چھوٹی سی حرکت سے آپ کے ادارے تو کمزور نہیں ہورہے ۔اور تنقید ضرور کیجئے ۔ تنقید مثبت عمل ہے ۔ لیکن دوسروں کی محبت میں اپنی فوج سے نفرت کے ایجنڈے کو رد کیجئے۔ دشمن آپ کی فوج کو آپ کے ذریعے کمزور کراکے آپ کے اپنے ہاتھوں سے آپ کی ریاست کوتہس نہس کرانا چاہتا ہے۔ اس ریڈ لائن کو سمجھئے ۔کیونکہ اگر یہ ریڈلائن بار بار عبورہوتی رہی تو ہماری ریاست خاکم بدہن ’ریڈ زون‘ بھی بن سکتی ہے ۔ نہیں یقین آتا تو ان ممالک کو دیکھئے جن کے پاس مضبوط دفاع ، یعنی مضبوط ریاست ، یعنی مضبوط فوجی ادار ہ نہیں۔


ای پیپر