نئی حکومت :قبضہ گروپ کے خلاف موثر حوصلہ افزا کارروائی
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ لینڈ مافیا المعروف قبضہ گروپ نے ملک کے طول و عرض میں اپنے بے پناہ وسائل اور موثر سیاسی و سرکاری رسوخ کے باعث کھربوں کی سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔ قبضہ گروپ معاشرے میں متعدد سماجی و معاشی ناانصافیوں اور مظالم کے فروغ کا باعث بنے رہے ہیں ۔ ان گروپس کا طریق واردات انتہائی گھناؤنا وحشیانہ اور ظالمانہ ہے ۔ ہوس زر میں اندھا یہ گروپ اور اس کے اراکین معاشرے اور ریاست میں بے چینی ، اضطراب،غنڈہ گردی اورلاقانونیت پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔مقام افسوس ہے کہ مختلف منتخب و غیر منتخب حکومتوں کے ادوار میں انہیں عسکری و سول بیوروکریسی کی پشت پناہی بھی حاصل رہی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ سرکاری ، اوقاف اور متروکہ وقف املاک کی قیمتی جائیدادوں اور زمینوں پر کمزور ، غریب اور بے وسیلہ شہری قبضہ کرنا تو کجا ان کی جانب �آنکھ بھر کر دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کر سکتے۔

اگر پاکستان کے داخلی ریاستی نظام کی ریزہ کاری اور افراط زر کی بدولت قومی معیشت کے وجود کی شکست و ریخت کے المیے کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت ابھر کر اور نکھر کر سامنے آتی ہے کہ وطن عزیز میں رشوت ستانی ، بد عنوانی ، بے ضابطگی اور بے قاعدگی کے فروغ کی ابتدا متروکہ وقف املاک کی اراضی اور جائیدادوں کی جعلی کلیموں پر الاٹمنٹوں سے ہوئی ۔ اس اولین برائی کی بنیاد’’ مقامی مہاجروں ‘‘نے رکھی۔ اس امر کے واضح اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ بوگس کلیموں پر الاٹمنٹس حاصل کرنے والوں میں پاکستان کی بانی جماعت کے بعض کارکن اور اہنما بھی پیش پیش رہے۔طالع آزما اور مہم جو عناصرنے قیام پاکستان کواپنا معاشی سٹیٹس تبدیل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ اورسنہری موقع جا نا۔سانحے سے بھی بڑھ کرسانحہ یہ ہوا کہ اس سنگین جرم کی نشاندہی کو قانون سے معاونت ، ریاستی بہبود سے وفا اورحب الوطنی کا شہ کار تسلیم کرنے کے بجائے’’ خطائے بزرگاں گرفتن خطا ست ‘‘ کے مصداق دریدہ دہنی اورگستاخی کے جرائم کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔قائد اعظمؓ کی آنکھ بندہوتے ہی بوگس کلیموں اورمتروکہ وقف املاک کی لوٹ مارکے طوفان نے ضوابط وقواعد اورشرافت وشائستگی کے ہر بند کو توڑ کر رکھدیا۔ستم بالائے ستم یہ کہ’’ سخن ہائے گفتنی‘‘ محض اس لئے نوکِ قلم اور زبانِ خلق پر نہ آسکے کہ عناد وفساد کا در وا ہونے اورپردہ نشینوں کے چہروں پر پڑے احترام وتقدس کے نقاب چاک ہونے کا اندیشہ تھا۔ عہداعتراف میں اس امر کا اعتراف بھی انتہائی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں چند مستثنیات کو چھوڑکرمجموعی طورپرپرنٹ میڈیانے اپنا کردارکماحقہ فرض شناسی، مطلوبہ اخلاقی جرأت اور مثالی دیانتداری سے ادانہیں کیا۔کسی معاشرے اور مملکت کے ساتھ اس سے بڑھ کرزیادتی اورکیا ہوگی کہ اس کے رائے عامہ ساز ادارے اورارباب قلم وقرطاس 20 ویں صدی میں بھی کامیاب سیاسی تحریک کے دنیادار رہنماؤں اور ان کے چہیتوں کو محاکمے اورمحاسبے سے بالا مقدس روحانی شخصیات کا درجہ دینے پر اصرارکرنے لگیں۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ گذشتہ 56برسوں میں معاشرے اور مملکت کے اکثر بارسوخ شہریوں ( الا ماشا ء اللہ)نے جعلی کلیمو ں کی الاٹمنٹ کی بہتی گنگا میں نہ صرف یہ کہ ہاتھ دھوئے بلکہ جی بھر کر اشنان کیا ۔ عوامی مشاہدہ اس امر کی تائید کرتاہے کہ غیر قانونی اور ناجائز الاٹمنٹ کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد اور اراضی سرکاری اثر و رسوخ کے بل بوتے پرکوڑیوں کے بھاؤ خریدی جاتی اور بعد ازاں سونے کے بھاؤ فروخت کی جاتی ہے۔

وطن عزیز میں 1980ء کے بعد قبضہ گروپس کی چیرہ دستیوں اور سینہ زوریوں میں شرمناک حد تک اضافہ بتدریج معمول بن گیا ۔ اس پر طرہ یہ کہ 1985ء کے بعد اور تادم تحریر قائم ہونے والی اسمبلیوں کے اراکین کی ایک بڑی تعداد یا تو براہِ راست ’’ قبضہ مافیا ‘‘ کے گاڈ فادر ز پر مشتمل رہی ہے یا بالواسطہ ان کی فیض یافتہ اور سرپرست ہے۔اندریں حالات یہ نا ممکن تھا کہ قبضہ گردی کے جرائم اور وارداتوں میں کمی واقع ہوتی ۔ اس خوفناک ملی بھگت کانتیجہ یہ نکلا کہ یہ سنگین جرم آکاس بیل کی طرح پھیلتاگیا۔ گذشتہ اڑھائی عشروں میں سیکڑوں جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر راتوں رات لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے۔ اگر حکومت قبضہ گروپ کے خلاف سنجیدہ اور نتائج خیز کارروائی کرنے کے باب میں مخلص ہے تو اسے لا محدود جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے صرف اس امر کا جائزہ لینے کے لئے محب وطن ، ذمہ دار اور دیانت دار شہریوں پر مشتمل ایک انکوائر ی کمیشن قائم کرنا چاہیے کہ اس دوران ہر بڑے شہر میں سیکڑوں لوگ کیونکربھاری بھر کم بنک کھاتوں ، عالیشان تجارتی پلازوں ، شاندار رہائشی گھروں اور بیش قیمت لگژری گاڑیوں کے مالک بن گئے ۔ عوامی حلقوں کی خواہش ہے کہ اس مجوزہ انکوائری کمیشن میں بے خوف صحافیوں ،اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ ججوں، فرض شناس افسروں، محب وطن سیاستدانوں،بے لوث منتخب نمائندوں، بے باک علما ، دیانتدار سماجی ورکروں اور بے داغ سیاسی کارکنوں کو بھی بلا امتیاز شامل کیا جائے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معمولی سی تگ و دو اور کوشش کے بعد،مختصر ترین عرصہ میں کروڑوں، اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کے مالک بن جانے والے افراد اور طبقات کے چہروں پر پڑے سیاسی وقار ، سماجی وجاہت اور معاشی ہیبت کے نقاب سرکائے جاسکتے ہیں۔

یہ امر بہر طور خوش آئند ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے قبضہ گروپ کے خلاف موثر ، ٹھوس اور نتائج خیز کارروائی کے لئے پہل قدمی کاعندیہ ظاہر کیا ہے ۔یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے صوبائی دارلحکومت اور پورے صوبے میں کھربوں روپے مالیت کی 2500کنال اراضی پر قبضوں اور غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیق کے لئے ایک الگ تحقیقاتی کمیشن اور ٹاسک فورس قائم کی جا رہی ہے ۔ یہ کمیشن جب تک رپورٹ مرتب نہیں کرتا وفاق اور کسی صوبے کے شہر میں کوئی نئی الاٹمنٹ نہ کی جائینہیں ہو سکے گی۔ضلعی ناظم نے اس ضمن میں تمام مجاز افسران کو سختی سے پابند کر دیا جائے ہے۔ یہ اطلاع بھی عوامی حلقوں کے لئے حوصلہ افزا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور میں چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام اضلاع کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر زریونیو اور ڈسٹرکٹ آفیسرز ریونیو کے لئے جاری کردہ ہدایت میں کہا تھا کہ’’ 1973ء سے اب تک تمام سابقہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز اور موجودہ ایگزیکٹو اور ڈسٹرکٹ آفیسر کی طرف سے کی جانے والی تمام الاٹنمنٹس کی تفصیلات مذکورہ انکوائری کمشن کو فراہم کی جائیں‘‘ ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی تمام اضلاع کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر زریونیو اور ڈسٹرکٹ آفیسرز ریونیو کے لئے نیا لیکن ماضی سے کڑا ہدایت نامہ جاری کریں تاکہ قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں تیز رفتادی اور سرعت بہ روۂ کار لائی جا سکے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حقائق منظر عام پر آتے ہی لینڈ مافیا کے قبضہ سے جائیدادوں اور اراضی کے وا گزاری کے عمل کو فی الفور اور ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔یہ عمل شفافیت کا مظہرہونا چاہیے ۔سرکاری اور متروکہ وقف املاک کی زمینیں اور جائیدادیں جائز حقداروں کو دستاویزی شواہد کی روشنی میں الاٹ کر نے کے عمل کو افسر شاہی کے روایتی سرخ فیتے کی نذرہونے سے بچانے کے لئے بھی محفوظ تدابیر اور اقدامات کا روڈ میپ وضع کیا جانا ازبس ضروری ہے ۔ عوامی حلقے اس ضمن میں نظام عدل کے قیام کے ذمہ داران سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ حکم امتناعی حاصل کرنے کی قانونی چھوٹ اور اجازت سے کسی طالع آزما کو تادیر ناجائز فائدہ اٹھانے کی مہلت نہیں دیں گے۔ حصول انصاف میں تاخیر کوبھی نا انصافی ہی سے عبارت کیا جاتاہے۔ یہ ایک ناخوشگوار سچ ہے کہ طاقت ور ، متمول اور بارسوخ افراد و طبقات ’’سٹے آرڈر‘‘ کی قانونی سہولت کوحصول عدل کے راستے کا ایک پہاڑ بنا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں نا ہمواریوں، نا انصافیوں ، بے ضابطگیوں ، بے قاعدگیوں اوربدعنوانیوں کے نظام کی بساط اس وقت تک لپیٹی نہیں جا سکتی،جب تک عوام اور ریاست کے وسیع تر مفا د میں نظام عدل کے اسقام دور کرنے کے لئے جامع اور مربوط آئینی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ سرکاری اراضی واملاک پر ناجائز قبضے کی روایت کو صر ف افراد نے ہی نہیں بلکہ اداروں نے بھی آگے بڑھایا ہے۔ عوامی حلقوں کے لئے یہ امر موجب طمانیت ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے دو ٹوک الفاظ میں انتباہ کر دیا ہے کہ ’’ قبضوں اور غیر قانونی الاٹمنٹ کے عمل میں خواہ کوئی بھی ملوث ہو ، قابل معافی نہیں ہو گا اور قومی املاک لوٹنے والے کسی معافی اور رُو رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے‘‘۔


ای پیپر