دُکھ درد کے فیصلے نہیں کیے گئے
21 اکتوبر 2018 2018-10-21

ایسا لگتا ہے کہ مالیاتی ایمر جنسی کا نفاذ ہو چکا ہے کہ غیر ترقیاتی یا غیر ضروری ترقیاتی منصوبے بند کیے جا رہے ہیں طے شدہ اداروں اور شعبوں کے لیے مختص بجٹ بھی مختصر۔۔۔ کرنے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔۔۔ دوسری طرف اشیائے ضروریہ و غیر ضروریہ کی قیمتوں میں دھڑا دھڑ اضافہ کیا جا رہا ہے۔۔۔ مقصد اس کا ایک ہی ہے کہ ملکی خزانے کو کسی طرح بھرا جائے۔ قرض لینے کی بھی راہ اختیار کی جا رہی ہے۔۔۔ دوست ممالک سے بھی بات ہو رہی ہے۔ مگر وہ اپنا دامن بچاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟

احتساب عدالتیں اور نیب بھی سر گرم عمل ہیں آئے روز بد عنوان عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ نیب گرفتاریاں بھی کر رہا ہے اور پوچھ گچھ بھی۔۔۔ مگر نتائج مطلوبہ بر آمد نہیں ہو رہے۔۔۔ یعنی رقوم کی بر آمدگی نہیں ہو رہی اور جو ہو رہی ہے وہ ملکی معیشت چلانے کے لیے ناکافی ہے!حزب اختلاف ہماری مگر رولا ڈال رہی ہے کہ اسے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ایوانوں کے اندر باہر احتجاج کر رہی ہے آئندہ کا بھی ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے بلکہ وہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کا بھی عندیہ دے رہی ہے۔ جس سے صورت حال کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ پھر وہ اس بات پر بضد ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے وزیر اعظم عمران خان منتخب نہیں ہوئے چُنے گئے ہیں لہٰذا وہ انہیں تسلیم نہیں کرتی۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کا اس حوالے سے موقف ذرا سخت ہے اور پی پی پی کا نرم ۔۔۔ نیب سے متعلق ان دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے ڈکٹیشن لے رہا ہے۔حکومت اس کی تردید کرتی ہے اور یہ بڑی حد تک درست ہے کیونکہ وہ خود کہہ رہی ہے کہ نیب کے اختیارات پر مشترکہ و متفقہ طور سے نظر ثانی ہونی چاہیے کیونکہ وہ کہیں کہیں اپنی ’’ من مرضی‘‘ بھی کرتا ہوا نظر آ تا ہے لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں اس کی حدود کا تعین کرنے میں ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہونے جا رہی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے قومی دولت ہتھیائی ہے تو اسے کیوں نہ قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس سے سوال جواب ہوں۔۔۔؟بہر حال حزب اختلاف چونکہ طویل عرصے تک اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہے (اس کا ایک حصہ تو اب بھی سندھ میں با اختیار ہے) لہٰذا وہ پابندیوں اور مخصوص کمروں سے سخت تنگ آ گئی ہے اسے تو پورا یقین تھا کہ بُرے دن کبھی نہیں آئیں گے کیونکہ اس نے بادشاہت کا سا انداز و طرز عمل اپنا رکھا تھا نیچے سے اوپر تک سویلین اداروں میں اس کے بہی خواہ اس کے محافظ بنے ہوئے تھے مگر منظر بدل گیا اب جب نئی حکومت آئی ہے تو انہیں ’’ مجبوراً‘‘ اس کے احکامات ماننا پڑ رہے ہیں بصورت دیگر وہ فارغ ہو سکتے ہیں اگر چہ رخ پھرنے کی ایک کوشش انہوں نے کی ہے مگر انہیں اس میں واضح کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ لہٰذا حالات سرکاری مشینری کے کچھ تبدیل ہونے لگے ہیں ہونے بھی چاہئیں کیونکہ ملک کے معاملات کو دیکھنا اس کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے جسے اس نے ہر صورت پورا کرنا ہے۔ پسند نا پسند کو درمیان میں لانا قطعی جائز نہیں ۔۔۔ حکمران آتے رہتے ہیں جاتے رہتے ہیں مگر ریاستی ادارے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور مصروف عمل رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں لہٰذا انہیں عوامی و قومی جزبے کے تحت اب بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔۔۔ ملک پہلے ہی گھمبیر مسائل سے دو چار ہے خزانہ خالی ہونے سے وہ خاصا مضطرب ہے اسی لیے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے کے جھکڑ چل رہے ہیں مگر عوام بے چارے کیا کریں ان کے آمدنی کے ذرائع وہی ہیں جو پہلے تھے اور وہ اس قابل نہیں کہ اس گرانی کا مقابلہ کر سکیں۔۔۔ لہٰذا وہ انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں ان کے بچے تعلیم و صحت پر اٹھنے والے اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔ ان دونوں شعبوں کی مد میں بھی مختص رقوم میں سے کٹوتیاں کر لی گئی ہیں۔۔۔؟اس حکمت عملی ‘ جو حکومت نے اختیار کی ہے اس سے لوگوں میں غصہ و نفرت جنم لینے لگے ہیں اب تو پی ٹی آئی کے کارکنوں میں بھی سرگوشیاں ہو رہی ہیں کہ انہیں تو پوری امید تھی کہ عمران خان کی حکومت آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی اور خوشحالی کے چراغ جل اٹھیں گے مگر وہ سب الٹ ہو گیا۔۔۔ بھوک بیماری اور جہالت میں کوئی کمی نہیں آئی؟ان کا کہنا بجا مگر انہیں شاید یہ ادراک نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پچھلے قرضوں کی ادائیگی بھی کرنی ہے اور خزانے کو بھرنے کا انتظام بھی کرنا ہے۔۔۔ جو آسان نہیں بے حد مشکل ہے مگر عمران خان اور ان کے رفتا نے عوام کو کچھ ایسے باغ بھی دکھا رکھے تھے جو کبھی خزاں لی لپیٹ میں نہیں آتے ان میں ہریالی ختم نہیں ہوتی اور ڈالیاں پھلوں کے بوجھ سے جھکی رہتی ہیں۔۔۔ اگر وہ یہ بتاتے کہ انہیں اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہو گا ۔۔۔ عالمی مالیاتی اداروں کے آگے بھی جھکنا ہو گا اور معیشت آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی تو آج انہیں شرمندگی نہ اٹھانا پڑتی عوام سوچتے اور انتظار کرتے کہ وہ ایک دو برس کے بعد ہی خوشحال ہوں گے مگر رات دن ایک ہی شور مچا ہوا تھا کہ ’’ تبدیلی آ گئی ہے یارو‘‘ اس کا مطلب حالات بہتر ہو گئے ہیں جن کا ابھی تک ٹھیک ہونے کا کوئی امکان نہیں اور یہ جو احتساب کی بات کی جا رہی ہے کہ اس کے عمل کے نتیجے میں قومی خزانے میں روپوں کا سیلاب آ جائے گا اور لوگوں کے لیے سہولتوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے محض خوش فہمی ہے ابھی تک جو چند ارب اس میں واپس آئے ہیں ان سے چیزیں سستی نہیں ہو سکتیں مگر یہ اچھی بات ہے وگرنہ یہاں تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا جس کے بس میں جو تھا اس نے خوب لوٹا اذیت ناک پہلو مگر اس کا یہ ہے کہ لوٹی دولت اگر باہر نہ بھجوائی جاتی یہاں ہوتی تو لازمی کسی نہ کسی شکل میں معیشت کے پہیے کو رواں رکھتی خیر اب چند لوگ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں تو انہیں بڑا عجیب لگ رہا ہے کہ وہ ادھر کیسے ؟ کیونکہ وہ پوتر ہیں انہوں نے ایک دھیلے کی بھی بد عنوانی نہیں کی ‘ ایسا ہی ہو گا مگر ثابت کرنے میں کیا حرج ہے؟سوال تو یہ بھی ہے کہ پھر کس نے ملکی دولت ہتھیائی مگر ابھی تک رضاکارانہ طور سے کوئی سامنے نہیں آیا جبکہ ایسا کسی ایک نے یا بہت سوں نے کیا تو ہے کہ عوامی دولت کو اپنا بنایا اور اپنے عزیز و اقارب میں اعلیٰ مقام پایا؟

بہر کیف حزب اختلاف کے کچھ لوگ آج کل عوام کے دُکھ میں پگھلے جا رہے ہیں کہتے ہیں ، گیس، بجلی اور پٹرول مہنگا کر کے لوگوں کو زندہ در گور کیا جا رہا ہے وہ کیسے جیئیں گے کیسے ان کے بچوں کو سکون و آرام میسر آئے گا ۔۔۔؟ ہنسی آتی ہے ان سب پر کہ انہوں نے اب تک عوام کے جسموں پر کیا کیا زخم لگائے اور کیا کیا انہیں دھوکے دیے اب کہتے ہیں ان کے ساتھ حکومت زیادتی کر رہی ہے معذرت کے ساتھ عوام کے لیے اگر کچھ بچایا ہوتا ان کے لیے مخلصانہ غور و فکر کیا ہوتا اور مستقبل روشن کرنے کے منصوبے بنائے ہوتے تو آج انہیں یہ نہ کہنا پڑتا پھر کسی کا احتساب بھی نہ ہوتا اور احتجاج کی بھی نوبت نہ آتی۔۔۔؟


ای پیپر