21 نومبر 2020 (12:17) 2020-11-21

دنیا کے دیگر بہت سے مہذب ملکوں کی طرح امریکہ کی عدالتوں میں بھی جیوری سسٹم رائج ہے۔ جیوری بنیادی طور پر عدالتی نظام میں عوام کا ایک کردار ہے۔ جیوری کا انتخاب تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے ۔ پہلے مرحلے پر شہر کے معزز لوگوں کی ایک لسٹ مرتب کی جاتی ہے جس میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں لسٹ میں شامل افراد کو سمن جاری کئے جاتے ہیں اور انہیں عدالت میں طلب کیا جاتا ہے پھر باقاعدہ سماعت شروع ہونے سے پہلے لسٹ میں شامل لوگوں کو منتخب کرنا تیسرا مرحلہ ہوتا ہے جس میں لسٹ میں شامل ہر فرد سے جج اور وکلا کی طرف سے سوال کئے جاتے ہیں جو عام طور پر مقدمے کی نوعیت کے حوالے سے اس کے خیالات جاننے کیلئے ہوتے ہیںکہ آیا یہ فرد اس معاملے میں متوازن خیالات کا حامل ہے۔ اگر استغا ثہ اور مدعی کے وکیل دونوں رضا مند ہوں تو پھر اس شخص کو جیوری میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

آج آپ سے ایک ایسی فلم کی کہانی شیئر کرنے کا دل کر رہا ہے جس میں یہ دکھایا گیا کہ امریکہ جیسے ملک میں عدالتی فیصلوں کو کیسے بدلا جاتا ہے اور اس کیلئے کیا طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ اس فلم کا نام ہے " Runaway Jury" اور یہ امریکہ کے مشہور زمانہ ناول نگار جان گریشم کے ناول پر فلمائی گئی ہے۔ جان گریشم امریکہ کے امیر ترین ناول نگاروں میں سے ایک ہیں جن کی خاصیت یہ ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں پیش آنے والے جرائم پر مبنی واقعات کو لے کر انہیں ناول کی شکل میں پیش کر دیتے ہیں۔ 

یہ فلم بھی جان گریشم کے مطابق حقیقی کرداروں اور واقعات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔ اس فلم کی کہانی کی بنیاد اسی جیوری اور اس کے کرداروں پر ہے۔ امریکی قانون کے مطابق 

اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے ہر امریکی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے لائسنس شدہ اسلحہ خرید سکتا ہے۔ سیلسٹے نامی ایک خاتون امریکہ کی بڑی اسلحہ ساز کمپنی وکز برگ فائر آرمز پر ایک مقدمہ درج کراتی ہے کہ اس کی طرف سے بنایا گیا اسلحہ غلط ہاتھوں میں گیا جس کی وجہ سے اس کے بچے کی سالگرہ کے دن اس کے شوہر کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کی گئی جس میں متعدد لوگ بے گناہ مارے گئے۔

امریکی اسلحہ سازکمپنی کا مالک ایک ایجنسی کے تجربہ کار ایگزیکٹو کو 20 ملین ڈالر میں کنٹریکٹ دیتا ہے کہ اس نے جیوری کے 12 لوگوں کو خریدنا ہے تاکہ فیصلہ اس کے حق میں آسکے جبکہ دوسری طرف مرکزی کردار نکولس ایسٹر اور مارلی بھی میدان میں آ جاتے ہیں جو کہ استغاثہ  اور مدعی دونوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیوری ان کے ہاتھوں میں ہے اور اگر وہ اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں تو دس ملین ڈالر کی رقم ادا کی جائے۔  نکولس ایسٹر کا کردار جان کیوسک جبکہ مارلی کا کردار ریچل وائس نے بہت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ جین ہیک مین جس نے ایجنسی کے ایگزیکٹو کا کردار ادا کیا ہے ۔ بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں اور جاسوسی آلات کیساتھ عدالت کے قریب ہی ایک سیٹ اپ لگا لیتا ہے اور پھر جیوری کے لوگوں کی کمزوریاں ڈھونڈنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس کو لانے والوں سمیت اس کا ماننا ہے کہ ’’ہر کسی کا ایک راز ہوتا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ آپ اسے ڈھونڈ لیں ‘‘۔ 

امریکہ میں شاید اندر کھاتے ججوں کو خریدا جاتا ہو لیکن وہاں پر پاکستان کی طرح براہ راست رشوت ایک مشکل کام ہے ۔ اسی لئے کیس کو اپنی مرضی کے فیصلے کی طرف موڑنے کیلئے واحد حل صرف جیوری کو خریدنا نہیں بلکہ بلیک میل کرنا رہ جاتا ہے۔جین ہیک مین کو ہائر کرنے والوں کا بھی یہی ہے ماننا ہے کہ ’’ہمارے پاس طاقت ہے اس لئے ہمیں سب معلوم ہے ہماری سوچ ہی بہتر ہے اور اگر کوئی ہماری سوچ پر عمل نہیں کرتا تو پھر ہم ہر طریقے  سے انہیں اپنی مرضی پر چلائیں گے ۔کیونکہ عام آدمی کو نہیں معلوم کہ اس کی بہتری کس چیز میں ہے‘‘۔ اسلحہ ساز کمپنی کے مالک کا خیال ہے کہ ملک کا قانون جائے بھاڑ میں یہ  ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا اسلحہ خرید سکے اور اس کے غلط استعمال کو روکنا انتظامیہ کا کام ہے ۔

اب فلم کے ہیرو اور ولن کے درمیان مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ولن کوشش کرتا ہے کہ اپنے جاسوسی طریقے سے جیوری کے ممبران کو خرید لے ٗ بلیک میل کر لے جبکہ نکولس ایسٹر اور مارلی بڑی خوبصورتی سے جیوری کے ممبران کو پوری کہانی میں جین ہیک مین کے حربوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مدعی اور استغاثہ دونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ جیوری ان کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار جین ہیک مین ان کے سامنے ہار مانتے ہوئے انہیں 15 ملین ڈالر ٹرانسفر کر دیتا ہے۔ولن یہ سمجھتا ہے کہ نکولس اور مارلی پیسے وصول کرنے کے بعد جیوری ممبران کو اسلحہ فیکٹری کے مالک کے حق میں کر دیں گے لیکن حیران کن طور پرفیصلہ اسلحہ ساز فیکٹری کے مالک کیخلاف ہی آتا ہے اور اسے 110 ملین ڈالر کا جرمانہ ہو جاتا ہے۔ 

آخری سین بہت شاندار تھا ۔جیک ہیک مین کو جب سمجھ آتی ہے کہ کہانی ختم ہو چکی ہے تو ہارا ہوا ٗ مایوس  قریبی بار میں جاکر بیٹھ جاتا ہے ۔نکولس اور مارلی وہاں آتے ہیں اس کو رشوت کے طور پر بھیجے جا نے والے 15 ملین کی رسید دکھا کر کہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائے ۔ہارا ہوا جیک متجسس لہجے میں ہیرو سے پوچھتا ہے :تم نے انہیں(جیوری کو) کیسے بدلا ؟ میں نے سنا ہے 


ای پیپر