Successful, officer, today, Iftikhar Hussain Shah, bureaucracy
21 نومبر 2020 (13:09) 2020-11-21

سرکاری افسری کے بھی کئی ادوار ہیں اور ہر دُو ر کا اپنا ایک مخصوص کلچر ہوتا ہے۔ایک دوروہ بھی تھا جب کوئی افسر ریاست کے مفاد کے بجائے کسی حکمران وقت کے مفاد کو ترجیح دیتا تھا تو افسران کی واضح تعداد اُس سے ترکِ تعلق کر لیتی تھی ،حتیٰ کہ اُس کے اپنے Batch matesاُس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتے تھے۔بلکہ کہتے تھے کہ فلاں نے تو اپنے پورے Batch کو دھبہ لگا دیا ہے۔وقت گزرتا چلا جاتا ہے اور اِس کا بے رحم پہیہ چلتے چلتے حالات،کلچر اور اقدار کو بالکل ہی تبدیل کر کے رکھ د یتا ہے۔جو بات کِسی زمانے میں باعث شرمندگی سمجھی جاتی تھی آج یہی بات باعثِ تفاخر ہے۔

وقت نے کِیا کیا حسیں ستم

تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم

مجھے پچھلے دور کے ایک آفیسر یاد آ رہے ہیں۔محکمہ فوڈ حکومتِ پنجاب کے سیکرٹری تھے۔ایک سیاسی پارٹی کی حکمرانی کا دور تھا۔حکمران جماعت کے ایک لیڈر کا بہت قریبی رشتہ دار محکمہ فوڈ میں انسپکٹر تھا۔وہ سرکاری رقوم کے غبن کے سلسلے میں معطل تھا اور کئی انکوائریاں بھُگت رہا تھا۔محکمہ فوڈ کے وزیر حکمران سیاسی پارٹی میں سے تھے۔انہوں نے ا حکا ما ت جاری کیے کہ اُس انسپکٹر کو بحال کر دیا جائے ، اُس کے خلاف جاری تمام انکوائریز کو ختم کر دیا جائے کیونکہ وہ سیاسی مخاصمت کی وجہ سے شروع کی گئی تھیں اور ایسا کرنے کے بعد اُن کے احکا ما ت کی بجا آور ی کی اطلاع انہیں پہنچائی جائے۔میں محکمہ فوڈ میں کام نہیںکرتا تھا۔لیکن اُسی بلڈنگ میں بالکل ساتھ کے ڈیپارٹمنٹ میں بطورڈپٹی سیکرٹری فرائض سر انجام دے رہا تھا۔اُن سیکرٹری صاحب کے مہربان رویے کی وجہ سے میں کبھی کبھی اُن کے دفتر میں جایا کرتا تھا۔کئی سرکاری معاملات میں ایک دوسرے سے مشاورت بھی ہو جاتی تھی ۔میں اُن کے دفتر میں گیا تو انہوں نے ایک Note for Minister میری طرف بڑھا دیا ۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اِس کیس کو بغور دیکھا گیا ہے۔انسپکٹر موصوف کے خلاف بہت Serious الزامات ہیں ۔چونکہ سرکاری رقم Involve ہے اِس لیے یہ انکوا ئریز ختم نہیں کی جا سکتیں ۔ منسٹر صاحب نے اُسی نوٹ پر لکھ کر بھیجا ۔لیکن پھر بھی میرے احکاما ت کی بجا آوری کی جائے۔سیکرٹری صاحب نے اُسی کے نیچے ایک لائن لکھی ۔ احکا ما ت غیر قانونی ہیں اِس لیے اُن کی بجا آوری ممکن نہیں ہے اور اِسی کو محکمہ کی طرف سے فائنل سمجھا جائے۔اگلے دن میں اُن کے دفتر گیا تو وہ اپنی میز کی درازیں صاف کر رہے تھے ۔پتہ چلا کہ انہیں 

پنجاب سے سرنڈر کر کے وفاقی حکومت رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔اُ ن کے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی او ر وہ اسلام آباد تشریف لے گئے۔وقت نے نئی کروٹ لی اور ایک اور دور کی شروعات ہوئی۔ افسران نے حکمرانوں کی خوشنودی کو ہی ہر چیز پر ترجیح دینا شروع کر دیا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ افسران حکمرانوں کے سیاسی مفادات کی نگہبانی کو بھی اپنا فرض ِاولین سمجھنے لگے ، اور یہی افسران آج کے دور کے کامیاب ترین افسر سمجھے جانے لگے۔جونیئر ہونے کے باوجود بہت سینئر اور اہم پوسٹوں پر اُنہیں تعینات کیا جانے لگا۔ حکمرانوں کے ا حکا ما ت کی بجا آوری ہی انہیں سب چیزوں پر مقدم۔یہ قانونی اور غیر قانونی کے چکر میں نہیں پڑتے بلکہ کسی بھی غیر قانونی کام کو قانونی بنانے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں۔اِسی مہارت کے بل بوتے پریہ حکمرانوں کے بہت نزدیک ہو جاتے ہیں،اور یہی نزدیکی ذاتی تعلقات کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔پھر یہ درمیان میں پڑنے والے سینئر افسران کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ سینئر افسران خود اِن سے مرعوب ہو کراِن سے پیار و محبت جتاتے رہتے ہیں۔چونکہ یہ افسران حکمرانوں کے مفادات کے لیے دن رات کام کرتے ہیںاِس لیے وہ بھی اِن کی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور یوں وہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہیں۔ایسے افسران بہت تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں۔ یہ حکمران جماعت کے صرف اُن لیڈران کو لفٹ کراتے ہیں جن کا اُنہیں پتہ ہوتا ہے کہ بڑے حکمرانوں کے ساتھ اُن کے قربت کے مراسم ہیں۔ جونہی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گھر میں اُن لیڈران کی اہمیت کم ہو گئی ہے یہ اُسی لمحے آنکھیں بدل لیتے ہیں ۔یہ افسران اپنے جیسے دیگر افسران کا ایک گروپ بنا لیتے ہیں جو ایک دوسرے کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں اور حکمرانوں کے اردگرد اپنا ایک نیٹNetبنا لیتے ہیں۔ہر طرف سے سب اچھا کی آواز گونجتی رہتی ہے۔ انہیں چونکہ صرف اپنے مفادات ہی عزیز ہوتے ہیں اِس لیے یہ کسی سے مخلص نہیں ہوتے۔مجھے ایسے ہی ایک افسر کا واقعہ یاد آ رہا ہے جس نے اپنے دفتر میں حکمران سیاسی پارٹی کے سربراہ کی فریم شدہ فوٹو لگائی ہوئی تھی۔اُس سیاسی پارٹی کی حکومت چلی گئی تو اُس افسر کے دفتر سے وہ فوٹو گول ہو گئی۔حالات تبدیل ہوئے اور اُسی سیاسی جماعت کی حکومت لوٹ آئی ۔اُس سیاسی پارٹی کے لیڈران کے نوٹس میں یہ بات آچکی تھی۔ایک لیڈر نے اُس افسر سے ملاقات میں اُس فوٹو کے گم ہو جانے کے متعلق پوچھ لیا تو ذہین اور حاضر دماغ افسر نے فوراََ کہا کہ سر دفتر میں ہر ایرے غیرے کی نظر اُس فوٹو پر پڑتی تھی۔میں نے اُس فوٹو کو اپنے بیڈ روم میں لگا دیا تھا۔ایسے افسران کا کام صرف حکمرانوں کے احکامات کی بجا آوری ہی ہوتا ہے۔اُن کے علاوہ وہ کسی کو قابل ا لتفا ت نہیں سمجھتے۔عوام کا مفاد یا اُن سے متعلق مسائل کا حل اُن کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ویسے بھی وہ اپنے اقتدار کے نشے میں یوں ڈوبے ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس اِن کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔لیکن وہ اتنے دور اندیش ہوتے ہیں کہ وہ ایسی سیاسی پارٹی، جس کے حکومت میں آنے کے چانسز ہوتے ہیں، کے لیڈران کے ساتھ بھی اندر خانے میں تعلقات رکھتے ہیں اور اُن کے کام کرتے رہتے ہیں۔حکومتیں تبدیل بھی ہو جائیں تو انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ہر طاقتورکی قربت حاصل کرنے کا خاص مِلکہ حاصل ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی قربت ہی اُن کا ٹارگٹ ہوتی ہے 


ای پیپر