Beasts, country, honor, innocent girls, unsafe
21 نومبر 2020 (12:38) 2020-11-21

ایک طرف جہاں پوری دنیا کرونا وائرس سمیت معیشت کے بحران میں مبتلا ہے وہیں ہمارے ملک میں روز ایک عجیب و غریب سانحہ رونما ہوجاتا ہے جو اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ ہم درندوں کے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں آپ کی معصوم بچیاں کسی طور بھی محفوظ نہیں رہیں۔ موٹر وے واقعے کے بعد کشمور واقعے نے تو روح کوزخمی کردیا ہے جس وقت چارسال کی بچی اپنی خون آلودٹانگیں دکھاکرکہہ رہی تھی

 یہ انکل نے کیا کیا؟

ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت کے لباس پر تو کبھی اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں مگر جب وہی بیٹی زندہ جلائی جائے تیزاب ڈال دیا جائے موٹر وے پر بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بنادیاجائے یا پھر چار سالہ بچی کو بھی بری طرح ہوس کا نشانہ بنایا جائے تو ہمارے علماء  اور حکام کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ ایوانوں میں بھی کوئی لرزش طاری نہیں ہوتی۔ ہر اندوہناک سانحے کے بعد مزید گہری خاموشی طاری ہوجاتی ہے کیا ہر کوئی اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ ہرگھر میں ایسا واقعہ ہو (اللہ نہ کرے) ۔

عورت کوسب سے زیادہ عزت اسلام نے دی اور سب سے زیادہ رسوا کفار نے کیا ۔مگر ہم اسلام کے قوانین کو دقیانوسی سمجھتے ہوئے مغرب کو اپنا ہمدرد سمجھتے رہے اور رفتہ رفتہ عورت کو گھر کی زینت سے شمع محفل بنا دیا۔ آپ کا کوئی اشتہار عورت کے جسم کی نمائش کے بغیر مکمل نہیں ہوتا آپ کے بچے بچے کے ہاتھ میں ہر وقت ابلیس کا ہتھیار ہے جس میں بے حیائی کے تمام فتنے بغیر کسی رکاوٹ کے بچوں اور بڑوں  کی پہنچ میں ہوتے ہیں۔ ہم کسی موقع پر بھی اپنی نسل کی اسلامی اقدار کے مطابق تربیت نہیں کرتے۔ نماز قرآن سیرت سے دوری کا یہ نتیجہ نکلا کہ بچوں کے ہیرو بھی وہی ہیں جو بے حیائی کے علمبردار ہیں۔ ان کو آج تک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، امہات المومنین 

اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بزرگان دین سے متعارف نہیں کرایا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روز نئے نئے فتنے پیدا ہورہے ہیں جس معاشرے میں لوگ چور، شرابی اور زانی میں اپنا آئیڈیل ڈھونڈتے ہوں وہاں روز دیہاڑے سڑکوں پر ننھی کلیوں کا مسلا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ 

کشمور واقعے کا سب سے حوصلہ افزا پہلو اس بہادر پولیس افسر کا کردار تھا جس نے نہایت بہادری کا مظاہرہ کیا۔ کمسن بچی علیشا اور اس کی والدہ تبسم کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم رفیق ملک نے تبسم کو اس شرط پہ چھوڑا تھا کہ وہ اسے کوئی لڑکی لاکر دیگی پھر اسے وہ بچی واپس کریگا۔ جب تبسم تھانے میں تھی تو لڑکی کا مسئلہ کھڑا ہوا کہ اب لڑکی کہاں سے آئے کہ جوابدار کو جھانسہ دیکر گرفتار کیا جائے۔ اس موقع پر کشمور پولیس کا فرض شناس اے ایس آئی محمد بخش برڑو جاکر گھر سے اپنی بیٹی لے آیا اور بولا کہ میری بیٹی اس کام کیلئے حاضر ہے۔ پھر جوابدار کو اس قوم کی غیرت مند بیٹی سے بات کرائی گئی اسے لے جاکر وحشی جوابدار کو گرفتار کیا گیا۔ اس گھٹن آلود ماحول میں ایسے آفیسرز دیکھیں تولگتا ہے جیسے اس معاشرے میں شاید کہیں کوئی امید کی کرن باقی ہے اب بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ 

کشمور سانحہ کے ہیرو پولیس افسر محمد بخش برڑو اور ان کی صاحبزادی کی اعزاز میں تقریب کا اہتمام اور شاندار استقبال حوصلہ افزا ہے جبکہ گورنر سندھ نے بچی کی والدہ کو پانچ لاکھ روپے اور بچی کو تاحیات اسکالر شپ دینے کا اعلان کیا۔

 اُن کا کہنا تھا کہ وزارت بحری امور بچی کو تاحیات اسکالر شپ دے گی جبکہ والدہ کو میری ٹائم میں ملازمت بھی دی جائے گی۔ 

معاشرے کے باشعور طبقات کو اس وقت ان مسائل پر ایک ہونا ہوگا جبکہ حکومت اور قانون ساز اداروں کو خود پر کھویا اعتماد بحال کرنا ہوگا کیونکہ مجرم کو موقع پر ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ٹھکانے لگا دیناعدل کے نظام پر عدم اعتمادی کا اظہارہے۔

یاد رکھیں اللہ نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ بے حیائی کے کاموں سے بچو خواہ کھلے ہوں یا چھپے !

اور پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا کہ جب تم حیا نہ کرو تو جو جی چاہے کرو۔

کشمور سانحہ ہماری اخلاقی پستی کی شرمناک داستان ہے اور پولیس آفیسر کا کردار ہمارے لیے امید کا ایک چراغ ہے۔ ہوس کا پجاری بھی کسی ماں نے ہی جنا ہے اور غیرت مند پولیس افسر بھی۔ 

فرق صرف تربیت کا ہے۔ 

یقینا دونوں کا یہ کردار ان کی گھریلو تربیت اور صحبت سے پیدا ہوا ہے۔ 

ہم سب بھی اپنے اپنے بچوں کے کردار کے امین ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم کن لوگوں میں شامل ہیں ہم اپنے بچوں کی تربیت کس نہج پر کر رہے ہیں۔ کیا صرف بیٹی کو ہی سر ڈھانپنے کی تربیت دینی ہے یا بیٹے کو بھی سکھانا ہے کہ عورت کی عزت کرنا کتناضروری ہے؟

اگر بیٹی کو نوکری پر بھیجتے ہوئے بتانا ہے کہ اپنا راستہ خراب نہ کرے تو بیٹے کو بھی سکھانا ہے کہ حوا کی بیٹی اگر ضرورت کے تحت باہر نکل ہی آئی ہے تو اس کی بہنوں سی تعظیم کرنی ہے۔ 

ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم و تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ میڈیا کے ذریعے اخلاقی تعلیمات پر زور دیا جائے۔ اسلامی تعلیم اور تربیت کے ذریعے ہم ناصرف بچوں کی اچھی تربیت کرسکتے ہیں بلکہ سانحات کی بہتر انداز میں روک تھام کر سکتے ہیں۔اس موقع پرحکومت، علماء کرام، والدین، اساتذہ، اور میڈیا کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں کے خلاف اعلان جہاد کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرتی برائیوں  کے خلاف اپنی مدد آپ کے تحت مہم چلائی جائے اور اپنے اپنے گھر سے آغاز کیا 


ای پیپر