کچھ ہم سے سُنا ہوتا!
21 نومبر 2020 2020-11-21

وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضے کی جوداستان سنائی، گزشتہ کالم میں اُس کے کچھ حقائق سے پردہ اُٹھانے کی میں نے کوشش کی تھی، میری معلومات کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے پلاٹ پر قبضہ ختم کروانے کے احکامات ملنے کے بعد قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قبضہ ختم کروانے کا حل یہ ڈھونڈا گیا اُس وقت کے رجسٹرار کوآپریٹو عثمان معظم نے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد ایک بیلف مقرر کیا، پولیس نے اس بیلف کی مددکی اور پلاٹ واگزار کروالیا، وزیراعظم کے بہنوئی احد برکی کا تعلق تبلیغی جماعت سے سُنا ہے مالی لحاظ سے وہ اچھے خاصے مضبوط ہیں، زرعی زمینوں کے مالک بھی ہیں، مگر موٹرسائیکل پر سفرکرتے ہیں ، بلکہ کئی دوسرے شہروں میں بھی موٹرسائیکل پر ہی جاتے ہیں، پی آئی اے سوسائٹی میں جس پلاٹ کی ملکیت کے وہ دعویدار ہیں اُس کے بالکل ساتھ ایک اور پلاٹ ہے جس کی ملکیت کے دعویداراُن کے دوست یوسف خان تھے، احد برکی اپنے پلاٹ پر ہونے والے قبضے کے حوالے سے خود تو مختلف دفاتر میں نہیں جاتے تھے، یا بہت کم جاتے تھے، یہ ذمہ داری اُنہوں نے اپنے دوست یوسف خان پر ہی ڈال رکھی تھی، مبینہ اطلاعات یہ ہیں یوسف خان کئی پولیس افسروں کو یہ تاثردیتے تھے وہ بھی وزیراعظم کے قریبی عزیز ہیں، کچھ پولیس افسران تو اُ سے ہی احد برکی سمجھنے لگے تھے، یوسف خان نے وزیراعظم کے ساتھ ”خودساختہ رشتہ داری“ کی بنیاد پر افسروں سے جائز ناجائز کام نکلوانے شروع کردیئے، حتیٰ کہ کچھ افسروں کو اُن کی اچھی پوسٹنگ کروانے کے جھانسے بھی دیئے، پولیس افسران کو یہ اطلاعات بھی ملیں پی آئی اے سوسائٹی میں جن اور لوگوں کے پلاٹوں پر قبضہ تھا اور اُن کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت تھے یوسف خان نے اُن میں سے اکثرکے ساتھ رابطہ کیا ان سے کچھ معاملات طے کرکے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم کے حکم پر قبضہ ختم کروا کر پلاٹ اُن کے حوالے کردیئے جائیں گے، اِس حوالے سے عدالتی احکامات کو بھی اہمیت نہیں دی جائے گی“ ....وہ اُن لوگوں کو یہ تاثر دیتے رہے اِس حوالے سے اعلیٰ پولیس افسروں سے اُن کے معاملات طے ہوچکے ہیں،.... مبینہ قبضہ گروپ نے جب یہ محسوس کیا یوسف خان اُن کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے اُس نے ایک اُجرتی قاتل کے ذریعے اُ سے قتل کروادیا، ابتدائی طورپر یوسف خان کے قتل کی جو فوٹیج سامنے آئی اُس وقت کے ایس پی صدر سید غضنفر علی شاہ اور دیگر پولیس افسران کا خیال تھا یہ ”ڈکیتی مرڈر“ہے، یہ حقیقت اُن پر کچھ دیر بعد کھلی یہ قتل پی آئی اے سوسائٹی کے مبینہ قبضہ گروپ کی ایماءپر ہوا ہے، بہرحال پولیس نے فوری طورپر اُس اُجرتی قاتل کو گرفتار کرلیا، ....اب وزیراعظم کے بہنوئی جس پلاٹ کی ملکیت کے دعویدار ہیں اُ سے خالی کروانے سے لے کر یوسف خان کے قاتل پکڑنے تک موجودہ سی سی پی او لاہور محمدعمر شیخ کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا، حیرت اِس بات پر ہے وزیراعظم نے کِن سُنی سنائی باتوں پر اندھا دھند یقین کرکے اِس کا کریڈٹ اپنے ٹی وی انٹرویو میں سی سی پی او لاہور کو دے دیا؟ یہ کام تو اُن محنتی اور دیانت دار پولیس افسروں نے کیا تھا جنہیں ناجائز طورپر اِس کیس میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، اُن بے چاروں کا قصور صرف یہ تھا وزیراعظم کے احکامات کی تعمیل میں اپنے اُس روایتی کردار سے وہ ہٹ گئے تھے کہ عام لوگوں کی زمینوں وجائیدادوں کے جو کیسز عدالتوں میں زیرسماعت یا زیرالتوا ہوتے ہیں اُن میں مداخلت سے وہ گریز کرتے ہیں، اِس حوالے سے عام لوگوں کو وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں ”آپ کا کیس چونکہ عدالت میں ہے اس لیے ہم اس میں مداخلت نہیں کرسکتے“....وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر مبینہ قبضے کے حوالے سے بھی اُنہیں اپنی اِسی ”روایتی پالیسی“ سے کام لینا چاہیے تھا، ہونا اُن کے ساتھ پھر بھی یہی تھا جو، اب ہوا، مگر اِس سے اُن کی شخصیت سے یہ تاثر تو کم ازکم جُڑا رہتا چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور اُنہیں کوئی حکم کیوں نہ دے وہ کسی غلط کام کا تصورتک نہیں کرتے،.... اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے وزیراعظم کے بہنوئی احدبرکی اِس کے باوجود خوش کیوں نہیں ہوئے کہ پولیس نے اُن کے متنازعہ پلاٹ کو واگزار کروانے کے لیے اپنی روایت سے ہٹ کر کام کیا ؟،....یہ داستان بھی سُن لیں، اصل میں وہ یہ چاہتے تھے پولیس اُن کے متنازعہ پلاٹ سے قبضہ ختم کروا کر قبضہ اُن کے حوالے کردے، یہ اِس لیے ناممکن تھا مذکورہ بالا پلاٹ کا کیس عدالت میں زیرسماعت تھا، جب تک اِس کا فیصلہ نہ آتا پولیس کسی صورت میں بھی قبضہ احد برکی کے حوالے نہیں کرسکتی تھی، احد برکی مزید کارروائی کے لیے اُس وقت کے آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر سے ملے، وہاں اُنہوں نے اپنے دوست یوسف خان کے قتل کا ذکر بھی کیا، سُنا ہے اِس دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، بجائے اِس کے آئی جی شعیب دستگیر یوسف خان کے قتل پر اظہار افسوس کرتے اور فرماتے اِس قتل کے تفتیشی معاملات میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی، اُنہوں نے یوسف خان کی خرابیاں بیان کرنی شروع کردیں کہ ”مقتول تو خود فراڈیا تھا، لوگوں سے پیسے لے کر اُن کے غلط کام کرواتا تھا وغیرہ وغیرہ .... وزیراعظم کے بہنوئی آئی جی کی یہ باتیں سُن کر انتہائی غصے میں وہاں سے اُٹھ کرچلے گئے، اُن کا خیال تھا آئی جی کے کان اُس وقت کے سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے بھرے ہیں، ظاہر ہے اُس کے بعد اُنہوں نے اپنے سالے وزیراعظم کے کان بھرے ہوں گے، اُس کے بعد پولیس افسروں سے جو انتقامی کارروائی ہوئی اُس کی تفصیل وزیراعظم نے خود ہی اپنے انٹرویو میں بتادی، ....یہ ہے وہ ”اصل کہانی “ جو شاید وزیراعظم کو بھی معلوم نہ ہو، .... سو ہماری ایک بار پھر دست بستہ اُن سے گزارش ہے کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ایک تو وہ اپنے منصب کا خیال رکھا کریں، دوسرے حقائق ضرور معلوم کرلیا کریں، .... کاش وہ ڈاکٹر شعیب دستگیر کو اِس لیے ہٹاتے وہ ایک منافقانہ کردار کے مالک تھے، انتہائی مردم بیزارتھے، اپنے عرصہ تعیناتی میں شاید ہی کسی عام یا مستحق آدمی کو کوئی ریلیف اُنہوں نے دیا ہو، وہ سارا وقت میٹنگ پر میٹنگ مارنے میں ضائع کردیتے تھے، ایسی میٹنگیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ ہوتا نہ محکمے کو ہوتا، اپنی نااہلی کا یہ سلسلہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک جاری رکھتے کسی نے اُنہیں پوچھا تک نہیں تھا، اُن کی بدقسمتی وہ وزیراعظم کے بہنوئی کو ناراض کربیٹھے، اور خود تو اتنا نہیں ڈوبے جتنا اپنی ٹیم کو ڈبو دیا، وزیراعظم جب اُنہیں لے کر آئے تھے تب ایک تقریب میں اُنہوں نے فرمایا تھا ” ہم اب پنجاب میں بڑا زبردست آئی جی لے کرآئے ہیں، اُنہوں نے آتے ہی سارے بدمعاش پکڑ لیے ہیں“....وزیراعظم کو شاید معلوم نہیں بدمعاش پکڑنا آئی جی کا نہیں ”ایس ایچ او“ کا کام ہوتا ہے، ممکن ہے وزیراعظم نے آئی جی کو ہی ”ایس ایچ او“ سمجھ کر یہ کام اُن کے ذمے لگایا ہو.... تب بھی وزیراعظم کو غلط اطلاع دی گئی تھی کہ ”آئی جی نے سارے بدمعاش پکڑ لئے ہیں“....بس یہ ہوا تھا کچھ بدمعاش چند دنوں کے لیے روپوش ہوگئے تھے کیونکہ اُن بدمعاشوں نے عدالتوں سے قبل ازوقت ضمانتیں کروالی تھیں، .... پولیس سے بدمعاش پکڑے ہی نہیں جاسکتے کیونکہ بدمعاشوں نے خود پولیس کو پکڑا ہوتا ہے، ایک سکھ سپاہی نے اپنے تھانے کے ایس ایچ او کو فون کیا ”سر میں نے ایک بڑا بدمعاش پکڑ لیا ہے“.... ایس ایچ او بولا ” ویل ڈن اب اِ سے پکڑ کر میرے پاس لے کر آﺅ“....سِکھ سپاہی بولا ” سرجی میں اِ سے کیسے لے کرآﺅں یہ تو مجھے چھوڑ ہی نہیں رہا۔ 


ای پیپر