متحدہ عرب امارات نے مسلمان ممالک پر ویزا کیوں بند کیا؟
21 نومبر 2020 2020-11-21

 متحدہ عرب امارات نے کئی مسلمان ممالک کے شہریوں کے اپنی ریاستوں میں داخل ہونے پر پابندی لگادی ہے۔بظاہر یہ پابندی کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسوں کو بنیاد بنا کر لگائی گئی ہے۔جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں پاکستان، ایران، عراق، ترکی، افغانستان، شام، یمن، صومالیہ، لیبیا اور کینیا سمیت بارہ ملک شامل ہیں۔ ان بارہ ممالک میں بیشتر عالم اسلام کے اہم ترین ممالک ہیں جنہیں ویزے سے محروم کیا گیا۔اس سے پہلے ہائی رسک قرار دیتے ہوئے جولائی میں ایمریٹس ائیرلائنز اور اگست میں کویت ایوی ایشن نے پاکستان کے لیے پروازیں معطل کر دی تھیں۔کورنا وائرس کہاں زیادہ ہے؟ اب سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان سمیت جن مسلمان ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے وہاں کورونا کے مریض امریکا یا بھارت سے زیادہ ہیں؟جواب اس کا ہر گز نہیں ان ممالک میں بھارت اور یورپ سے کہیں کم کیسز سامنے آئے ہیں اور اموات بھی کم رہی ہیں۔کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکا ایک کروڑ 21 لاکھ متاثرین کے ساتھ پہلے نمبر پر، بھارت 90 لاکھ سے زائد مریضوں کو لے کر دوسرے اور برازیل تقریبا ً61 ہزار مریضوں کے ساتھ تیسرے نمبر ہے۔اگر کورونا کی وجہ سے مسلمان ممالک پر پابندی لگائی گئی تو پھر امریکا، بھارت، برازیل اور یورپ پر کیوں نہیں لگائی؟پاکستان کا دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 28 واں نمبر ہے۔مانا دوسری لہر شدت سے اٹھ رہی ہے لیکن پھر بھی اللہ کا کرم ہے معاملات بے قابو نہیں قابو میں ہیں۔بھارت میں دیوالی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور دبئی میں بھی بھرپور دیوالی منائی گئی۔

پابندی والے ممالک میں کورونا کی صورت حال پابندی کی زد میں آنے والے دیگر ممالک میں کورونا کی صورت حال کچھ اس طرح ہے۔ایران کا 14واں، عراق کا 20وں، ترکی 25، یمن 159، صومالیہ 148،شام 129، افغانستان 87، لیبیا 71 اور کینیا 74ویں نمبر ہے۔متحدہ عرب امارات کی نئی محبت اسرائیل کا تو سوا تین لاکھ سے زائد مریضوں کے ساتھ 30واں نمبر ہے۔اسرائیل کے وفود مسلسل متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں لیکن ان پر کسی قسم کی پابندی نہیں۔

حالات نے کروٹ کہاں سے لی؟

اگست 2020 سے عرب ممالک کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل سے تعلقات استوار ہوئے۔زمینی حقائق کے مطابق جس طرح پاکستان، ایران، ترکی اور دیگر مسلمان ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سے بیشتر اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔اسی طرح سعودی عرب کے بھی تعلقات ان میں سے بعض ممالک سے اتار چڑھاو¿ کا شکار رہے ہیں۔

باالخصوص ترکی اور ایران کے ساتھ نظریاتی اور خطے میں اثرو رسوخ کی لڑائی انتہا پر ہے۔یہاں لگتا یہی ہے کہ بظاہر کوڈ 19 کی دوسرے لہر کو جواز بناتے ہوئے پہلے مرحلے میں ان ممالک پر عارضی طور پر ویزا بند کیا ہے۔پاکستان کی بھی سی پیک اور چین سے تعلقات کی وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پرانی دوستی نہیں رہی۔خطے کی بدلتی صورت حال اور عرب اسرائیل محبت میں بات صرف ویزا ہی تک نہیں محدود نہیں رہے گی معاملہ اور آگے جائے گا۔

اسرائیل کو خطرہ کن سے ہے؟

اسرائیلی شہریوں کی آمد دبئی میں بڑھنے جارہی ہے اور انہیں اسلام کی طرف راغب افراد سے زیادہ خطرہ رہتا ہے گو کہ دین محمدی کے پیروکار قتل و غارت گری پر یقین نہیں رکھتے۔اسرائیلیوں کو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والوں سے کوئی خطرہ نہیں، دراصل انہیں باعمل افراد سے خطرہ لگا رہتا ہے۔پاکستان واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس صورت حال میں لگ یہی رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والے پاکستانیوں پر زمین مزید تنگ کر دی جائے گی۔پہلے ہی وہاں پاکستانیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا رہتا ہے محض ناموں کی بنیاد پر بھی متعدد لوگ واپس بھیجے جا چکے ہیں۔اب روزگار میں بھی پاکستانیوں پر بھارت کے شہریوں کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔امتیازی سلوک کی ایک مثال یہ بھی ہے جن بھارتی شہریوں کا پانچ سالہ امریکی ویزا لگا ہوا ہے انہیں ائیرپورٹ پر ہی ویزا مل جاتا ہے لیکن پاکستان کو یہ سروس میسر نہیں۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات سات ریاستوں پر مشمل ایک یونین ہے اس میں ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، فجیرہ، راس الخیمہ اور ام القین شامل ہیں۔خلیج ممالک میں یو اے ای انتہائی آزاد ریاست تصور کی جاتی ہے جو خطے میں سیاحت اور بزنس کا حب بن چکا ہے۔ابوظہبی کے صدر شیخ خلیفہ بن زید بہت زیادہ مغرب نواز ہیں اور انہوں نے یورپ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ 

یو اے ای سے پہلے ان ممالک کا 1950 تک ماہی گیری پر انحصار تھا لیکن 1962 میں تیل نکلنے کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ دسمبر 1971 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد شیخ زید بن سلطان النہیان نے اپنیسربراہی میں متحدہ عرب امارات کی بنیاد ڈالی۔


ای پیپر