فو ری اور تو ا نا اقدا ما ت کی ضر و رت
21 نومبر 2019 2019-11-21

ایک معاشی مبصر کے مطابق معاشی امور کی بہتری اور درپیش بحران کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ عوام پر ٹیکسز کا بوجھ بڑھا دیا جائے۔ اگر اقتصادی معاملات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے صرف ٹیکس بڑھائو سکیم پر انحصار کیا جائے گا تو اس سے اقتصادی ترقی کو زک پہنچ سکتی ہے اور اور عوام کو معاشی ریلیف سے جو طاقت اور ا ٓسودگی ملتی ہے اس سے وہ محروم ہوجائے گا۔ ملکی اقتصادی اور معاشی صورتحال مذکورہ افکار و خیالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ یہا ں یہ بیا ن کر نے کی ضر ور ت یو ں پیش ا ٓ ئی کہ ا ٓ ج سے چا ر روز پہلے گو رنر سٹیٹ بینک ر ضا با قر نے تا جر اور صنت کار حضر ا ت سے کر ا چی چیمبر ا ٓ ف کا مر س میں خطا ب کے دو را ن شر ح سود میں کمی کو ا فرا طِ زر میں کمی سے مشر و ط کر تے ہو ئے کہا کہ پا کستا ن میں بنیادی شرح سود کو دیگر ملکوں کے افراط زر کی شرح اور اپنی تاریخ سے موازنہ کیا جائے۔ جن ملکوں میں شرح سود کم ہے وہاں افراط زر کی شرح بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت پالیسی ریٹ سوا 13 فیصد ہے اور افراط زر کی شرح 11 سے 12 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مانیٹری پالیسی کے فیصلے ا ٓزادانہ طریقے سے ہوتے ہیں جو بنیادی شرح سود کا تعین کرتی ہے۔ اگر سود کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے تو اس کمیٹی کی افادیت ختم ہوجائے گی۔ ملک میں افراطِ زر کی شرح میں کمی ہوگی تو بنیادی شرح سود بھی کم ہوگی۔ سٹیٹ بینک ترکی اور دیگر ملکوں کی ایران سے بینکاری کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران سے بینکاری کرنے کے لیے ایسا طریقہ اپنائیں گے جس سے بینکوں پر اثرات نہ پڑیں۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے زیادہ تر بینک نجی شعبے میں ہیں۔ تجارت و صنعت کی ترقی سے ملکی معیشت کی بھی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ایکسچینج ریٹ اب بہتر ہورہا ہے۔ 4 ماہ قبل تک سٹیٹ بینک کے اقدامات کو ماہرین معیشت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ معیشت کی شرح اور جی ڈی پی نمو میں ہونے والی کمی سے اتفاق کرتے ہیں۔ کاروبار بڑھے گا تو معیشت بحال ہوگی۔

بلاشبہ جو انداز نظر گورنر سٹیٹ بینک کا ہے اس کا ملکی معیشت کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ٹھوس زمینی حقائق کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی، اعداد و شمار اور نظریاتی حوالہ سے باتیں صائب ہیں مگر سوال مائیکرواکنامک اور مائیکرو اکنامک میکنزم اور مارکیٹ عوام کی عوامی ریلیف سے پیوستگی ہے۔ کاروبار بڑھنے اور معیشت کی بحالی کی نوید اچھی تسلی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ عوام تک معیشت کی بحالی اور اس کے استحکام کی خبریں حقیقی معاشی ثمرات کی شکل میں عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔ حکومت اور اس کے معاشی ماہرین کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ معیشت کی بحالی کا دستاویزی ثبوت شہریوں کے معاشی زندگی میں مثبت تبدیلیوں میں منعکس ہو۔ عام ا ٓدمی کو ٹماٹر مارکیٹ میں 17 روپے فی کلو دستیاب ہو تاکہ مشیر خزانہ کی بات سچ ثابت ہو۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ ایرانی ٹماٹر کوئٹہ مارکیٹ میں اترا ہے اور کراچی کی منڈیوں تک ا ٓتے ا ٓتے دونوں جگہ اس کی قیمت 1400 روپے فی کلو ہوگئی۔ مارکیٹ مافیائوں نے کام دکھادیا۔ اگلے روز کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر 300 روپے فی کلو بک رہا تھا۔ ادرک کے دام 600 روپے کلو تک جا پہنچے ہیں جبکہ حکومت کو صائب مشورہ دیا جاچکا ہے کہ وہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا زریں موقع نہ گنوائے۔ معاشی شعبے پر توجہ دے، ایکسپلور کرے کہ کیسے ذخیرہ اندوز اور منافع خور مافیائیں عوام کا خون چوس رہی ہیں اور پرائس کنٹرولنگ اتھارٹیز کو ملک بھر میں اپنے فرائض دن دہی سے ادا کرنا ہوں گے۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ خدشہ بلاجواز نہیں کہ ا ٓڑھتیوں اور مڈل مینوں کو کھلی چھوٹ ملتی رہی تو ملک کساد بازاری کی نذر ہوسکتا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کا استدلال معقول اور درست ہے کہ سٹیٹ بینک کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کو سہولیت دینا چاہتا ہے۔ کاروباری حالات میں بہتری ا ٓگئی ہے۔ زراعت کے لیے کولڈ اسٹوریج، ورکنگ کیپٹیل اور متبادل توانائی دی گئی ہے۔ معیشت میں جی ڈی پی ترقی گزشتہ سال سے کم ہوگئی ہے۔ ایکسپورٹ میں حجم کے لحاظ سے اضافہ ہورہا ہے۔ کاروباری برادری اصلاحات کے عمل کو اعتماد دے۔ ملک میں غیر ملکی سرمایہ ا ٓرہا ہے۔ سٹیٹ بینک کے پاس غیر قرضہ جات زرمبادلہ میں اضافہ ہورہا ہے۔ کاروبار میں ا ٓسانی کے ایشوزکو ا ٓہستہ ا ٓہستہ کم کررہے ہیں۔ فی الوقت ا ٓئی ایم ایف کا پہلا جائزہ مکمل ہوا ہے۔ پہلے فارن ایکسچینج نکل رہا تھا لیکن اب فارن ایکسچینج کی ا ٓمد شروع ہوگئی ہے۔ ملکی درآمدات کم ہورہی ہے، برآمدات بڑھنا شروع ہوئی ہے۔ ایکسچینج ریٹ مستحکم ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ اب فی انوائس ہزار ڈالرفارن ایکسچینج بیرون ملک لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی تناظر میں مشیر خزانہ کا بیان دل خوش کن ہے کہ معیشت مستحکم ہورہی ہے۔ دسمبر 2020ء تک گردشی قرضہ ختم ہوجائے گا۔ اینکر پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات بڑھانے کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی۔ محصولات میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا کہ ا ٓئل، گیس بلاکس کے لیے ایکسپلوریشن لائسنس پر دستخط ہوگئے۔ ایکسپلوریشن ایکٹیوٹی سے دور دراز علاقے معاشی ترقی سے مستفید ہوں گے۔ ادھر چیئرمین ایف بی ا ٓر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ا ٓئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف کم کرنے کا مطالبہ نہیں مانا۔ وزیراعظم کی قائم کردہ انداد (سمگلنگ) کی قائمہ کمیٹی کی ہدایت کی روشنی میں شبیر زیدی نے کہا کہ سم گلڈ اشیا کے ساتھ ضبط گاڑی مالکان کے خلاف علیحدہ کارروائی ہوگی۔ چیئرمین کے مطابق چھوٹی گاڑیوں، ٹرک اور ٹرالر مالکان کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس سلسلہ میں دستاویزات کی تصدیق ہوگی اور ضبط شدہ گاڑیوں کی فارنسک لیب سے کرائی جانے کی جانچ پڑتال ہوگی۔ میڈیا کے مطابق کابینہ میں رد و بدل کے نتیجہ میں اسد عمر دوبارہ کابینہ میں شامل ہورہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کو منصوبہ بندی کا قلمدان جبکہ خسرو بختیار کو وزارت پٹرولیم دی جارہی ہے۔ معاشی ماہرین نے اس پیش رفت کو صائب قرار دیا ہے۔ ادھر سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور کاروباری حجم 29 ماہ کی بلند ترین سطح پر ا ٓگیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث سٹاک ایکسچینج پر ملکی اقتصادی افق پر مثبت اطلاعات، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور اس کی قدر میں بتدریج کمی سے ڈالر کی رسد بڑھنے سے زبردست تیزی کا رجحان غالب رہا۔

ضرورت فو ری اور تو ا نا ‘ اقدامات کی ہے۔ حکومت معیشت اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کو ترجیح دے۔ حکمران عوامی اضطراب کی خاموش لہرسے ا ٓشنا رہیں، اسے نظر انداز نہ کریں۔ خلق خدا غربت کی چکی میں پس رہی ہے اور جب لوگ دو وقت کی روٹی کو اقتصادیات کے پیچیدہ مسائل پر فوقیت دینے لگیں تو معاشی مسیحائوں کی ا ٓنکھیں کھل جانی چاہئیں۔


ای پیپر