وزیر اعظم اور اعلیٰ عدلیہ کے حوصلہ افزاء عزائم
21 نومبر 2019 2019-11-21

چیف جسٹس پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے وسائل کی فراہمی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر ہم نے امیر غریب سب کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ کم وسائل کے باوجود عدلیہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور پارلیمان سے کسی قانون میں ترمیم کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور نہ ہی عدلیہ کے لئے کوئی اضافی بجٹ مانگا ہے۔

معاشرے کے معرضِ وجود میں آنے اور معاشرے کی تشکیل کے بنیادی اغراض و مقاصد میں افرادِ معاشرہ کو انصاف کی فراہمی سرِ فہرست تسلیم کرتے ہوئے اسے اولین اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ کسی ایک فرد ، گروہ یا طبقے کا مسئلہ یا فائدہ نہیں بلکہ حکومت کی نیک نامی، عدلیہ کی شہرت اور اس پر عوام کے اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند، مطمئن اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کا بھی اس سے گہرا تعلق ہے۔ آج کی عدلیہ مثبت اور تعمیری بنیادوں پر متحرک ہوئی ہے اور عوام میں اس کے فیصلوں کو نہایت پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا اور سراہا جا رہا ہے۔ اپنے مسائل کے حوالے سے بھی عدلیہ کے متعلق ان کی توقعات میں خوشگوار اور امیدپرور اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور عوام یہ توقعات رکھتے ہیں کہ عدلیہ کا یہ کردار محض چند اہم شخصیات کے متعلق فیصلوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام آدمی کی مشکلات کا ازالہ اور اسے انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ حصول انصاف کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ججوں اور ماتحت عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے بینچوں کی کمی بھی ہے جس کے نتیجے میں عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے اور بروقت انصاف کی فراہمی ممکن نظر نہیں آتی۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کرپشن اور بد عنوانی کو جنم دیتی ہے جو حکومت اور عدالتوں کے لئے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ جب انصاف کی صاف و شفاف اور بلا تاخیر فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا تو وہ خاموش اکثریت بھی اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے پوری طرح متحرک ہو گی جو اس وقت مایوسی کا شکار ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا حل اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک قانون کی حکمرانی صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو پاتی اور قانون کی حکمرانی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک عدلیہ کی سب سے آخری سیڑھی سے لے کر پہلی سیڑھی تک تطہیر نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے عدالتی نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ بعض کیس نسل در نسل چلتے رہتے ہیں اور ان کے فیصلے نہیں ہو پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فریقین اور وکلاء اپنے اپنے مفادات کے لئے مبینہ طور پر رشوت دے کر اپنی مرضی کی تاریخیں لے لیتے ہیں۔ غریب آدمی تو ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا، اس کے لئے وکیل کی فیس ادا کرنا بہت دور کی بات ہے جب کہ امراء اپنے وکیلوں کو لاکھوں، کروڑوں روپے فیس ادا کر کے کئے گئے جرائم کے فیصلے اپنے حق میں کروا کر سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہزاروں بے گناہ اور چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث افراد جیلوں میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔

محترم چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ عدلیہ نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ لوگوں کو جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لئے پوری طرح سرگرمِ عمل ہیں۔ لیکن اصل اور بنیادی مسئلہ ماتحت عدلیہ کی اصلاح، اسے کرپشن سے پاک کرنے اور اس یعنی نچلی سطح پر عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقو ں کا تاثر یہ ہے کہ اس سطح پر ابھی بہتری کی مزید گنجائش ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عشروں پر محیط ایک نظام میں ہمہ نوع کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ چشمِ زدن میں ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے بلا شبہ کچھ وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ حکومت کا تعاون ناگزیر ہے بالخصوص پولیس کی طرف سے مقدمات کے اندراج اور تفتیش کے بعد مقدمات کو عدالتوں میں لے جانے اور ان کی پیروی تک کے عمل کے حوالے سے ایک مثبت اور تعمیری کردار کی ضرورت ہے اور اولین اہمیت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی ہے۔

معاشرے کی اصلاح، تعمیر و ترقی اور عوام کو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے کے لئے حکومت، عدلیہ اور انتظامیہ کو مل کر ایک شعوری مہم کا آغاز کرنا ہو گا اس لئے کہ افرادِ معاشرہ کی بھاری اکثریت اپنے حقوق و فرائض کے متعلق صحت مند شعور سے محروم ہے البتہ ایک طبقہ صرف اپنے حقوق پر زور دیتا ہے جب کہ فرائض سے آگاہی اور بجا آوری کے بغیر معاشرے سے ظلم و زیادتی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حقوق و قوانین اور فرائض کے متعلق عوام میں صحت مند شعور کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے حقوق کی پامالی اور نا انصافی پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تامل و تاخیر کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔ ایسے معاشرے میں کوئی دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا اور ریاست کے تینوں ستون یعنی عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان تعاون کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

اس پس منظر میں چیف جسٹس پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان نے بڑے حوصلہ افزاء عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہم عوامی مسائل، توقعات ، زمینی حقائق، وسیع تر قومی و ملکی مفاد اور عدلیہ کے احترام و تقدس کے حوالے سے اپنے اس مٔوقف کا اعادہ کرنا چاہیں گے کہ حکومت ، عدلیہ اور وکلاء برادری کو اپنی زیادہ توجہ ماتحت عدالتوں کے معاملات کی اصلاح پر دینی چاہئے اس لئے کہ عوام کی اکثریت کو مقدمات کے پیشِ نظر ان عدالتوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے۔ عدالتوں کا سب سے اہم کردار محروم طبقات کے لئے امید پیدا کرنا ہوتا ہے۔ عدالتی نظام شفاف ہونے کی صورت میں ہر فرد با اعتماد ہوتا ہے۔ کسی شخص کا واسطہ خواہ عمر بھر عدالتوں سے نہ پڑے مگر اسے یقین ہونا چاہئے کہ کسی نے اس سے زیادتی کی تو عدالتیں فوری ریلیف دیں گی۔ عدالتی نظام کی یہی ساکھ معاشرے کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔


ای پیپر