امریکہ ، کرد، ترکی اور دابق
21 نومبر 2019 2019-11-21

کئی سال پیشتر ہی اقوام متحدہ کی چھتری کو استعمال کر کے مغربی ممالک ایک خصوصی معاہدہ کے تحت عراقی تیل کے17فیصد حقوق کردوں کو دلوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔حیرت انگیز طور پر کردستانی تیل کی خریداری کا پہلا گاہک نسل پرست صہیونی ریاست ’’ اسرائیل ‘‘ تھی جو آج تک وہاں سے تیل درآمد کر رہی ہے۔ تب معروف ترکی صحافی اور تجزیہ نگار محمد علی گلر نے روسی نیوز ایجنسی ’’ Sputnik‘‘ انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکہ گریٹر کردستان کے منصوبے پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ اور شام میں کرد ملیشیا کو داعش کے خلاف استعمال کرنے کا مقصد یہی تھا کہ انہیں مستحکم کرکے ایک کرد ریاست قائم کی جائے۔ جس کے لیے امریکہ نہ صرف ملٹری ٹریننگ بلکہ بھاری پیمانے پر اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنی سلامتی کی بقاء کی خاطر جب ترکی شمالی شام پر حملہ آور ہواتو امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے علاوہ کسی نے بھی ترکی کے اس حق دفاع پر اعتراض نہیں کیا ۔

دامے درمے قدمے سخنے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اہم کھلاڑی روس بھی مسلم دشمنی میں کسی سے پیچھے نہیںرہا ۔ حیرت انگیز طور پر اسی روس نے دو سال قبل خود مختار آزاد کردستان کے حمایت یافتہ مسلح انتہا پسند کرد گروپ ’’ حمایتہ الشعب یونٹس‘‘ کے ساتھ فوجی معاہدہ کر کے ترکی کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بھی بجا دی تھیں ۔ جس پر ترکی نے سخت تشویش کا اظہار بھی کیا تھا ۔اس وقت اس مسلح تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد 60ہزار

ہے جن میں خواتین کے یونٹ بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اس علیحدگی پسند کرد تنظیم کو امریکہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہی تلخ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہی ترکی نے دو سال قبل ہی شام میں داخلے کو ناگزیر قرار دے دیا تھا۔ دراصل عالمی اسٹیبلشمنٹ انتہائی عیاری سے امریکہ کی اہم اتحادی، شامی کردوں پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک فورسز ( SDF ) اور علیحدگی پسند کردوں کو انتہائی عیاری سے بہ یک وقت استعمال کر رہی ہے۔ ترکی کے انہی حملوں کے دوران امریکی ایما پر کردوں نے ترکی سے نمٹنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ حکومت بشار الاسد سے معاہدہ کر لیا ہے ۔ ایسی مصدقہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ اس خطے میں مز یدامریکی فورسز کی تعیناتی کے لیے کچھ خفیہ ہاتھ پینٹا گان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں ۔ غوروفکر کا مقام ہے کہ ان تمام علیحدگی پسند کردوں کو امریکہ اور روس نے شام میں welcomeکہا پھرانہی کو داعش کے خلاف لڑایا اور اب ان کو ترکی کے خلاف کھل کر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہی خدشات کی بناء پر راقم نے نومبر 2017کو صاف لفطوں میں کہہ دیا تھا کہ صہیونی لابی کردوں سے وہی کام لے گی جو اس سے پہلے دہشت گرد گروہ داعش سے لے چکی ہے یعنی کرد ہی مسقتبل کے داعش ثابت ہوں گے۔

جس سے سارا منظر نامہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ کون کیا شطرنج کی چال چل رہا ہے۔ راقم کی رائے میں کروسیڈ کا یہ آخری راؤنڈ بھی ہو سکتا ہے

جس کے بعد مسلمانوں کو ہڑپ کرنے کے انتظار میں بیٹھی صلیبی و صہیونی افواج فوراََ حرکت میں آکر مسلمانوںکے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے روحانی مراکز پر قبضہ کرنے کی خونریزجسارت کریں گئیں۔ جس کے لیے سعودی عرب کو پہلے ہی فتنہ انگیز حوثیوں کے ذریعے گھیرے میں لیا جا چکا ہے۔درحقیقت خطے میں اس تمام گھناؤنے کھیل کا بڑا مقصد دجالی سلطنت کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔ قارئین کے لیے ایک اور بات واضح کرتا جاؤں جب بین الاقوامی دجالی منصوبے کے تحت شام میں مختلف ملکوں کو مداخلت کرنے اور ٹھکانے بنانے کا موقع ملا تو حیرت انگیز طور پر امریکی صہیونیوں نے اپنے زیادہ تر ہوائی اور عسکری اڈے آخر ترکی کی سرحد پر ہی کیوں بنائے ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا آج تک مسلم دنیا کے دینی ،سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا اور یہی امت کا المیہ ہے ۔ تو دوسری جانب روس نے انتہائی چالاکی سے اقوام متحدہ کی چھتری کی آڑ میں شام کے اس علاقے میں ترکی کے ساتھ مل کر مشترکہ گشت کا معاہدہ کر لیا ہے یعنی اب اس علاقے میں امریکہ کے ساتھ ساتھ روسی افواج بھی ڈیرہ ڈالیں گی۔زمینی حقائق سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بچھائی گئی اس خوفناک سازش کے تحت عراق کے ساتھ ساتھ شام کی تقسیم اور ترکی کو مکمل طور پر گھیرنے کا دجالی منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکاہے ، کیونکہ یہی سے اعماق یا دابق نامی علاقہ شروع ہوتا ہے ۔ جہاں اسلام اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان آخری معرکہ لڑا جانا ہے۔ شاہد انہی خدشات کی بناء پر عالمی عسکری تجزیہ نگار اس اندیشے کا اظہار کر رہے ہیںکہ شمالی شام میں ایک محدود عالمی جنگ ہو سکتی ہے۔ مستقبل کے انہی خطرات کو بھانپتے ہوئے طیب اردگان صاف کہہ چکے ہیں کہ ان کاروائیوں کا بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ اس سرحدی علاقے کو ایک محفوظ زون بنانا چاہتے ہیں جو کرد ملیشیا سے پاک ہو اور یہی بات عالمی اسٹیبلشمنٹ کو ہضم نہیں ہور ہی۔ بہرحال ایک بات understood ہے کہ آنے والا وقت ان کے زوال اور اسلام کے غلبے کا وقت ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ پوری امت اسلامیہ کے حکمران، فوجی قائدین، خاص کر دینی طبقہ بھی اس سارے کے سارے scenarioکو سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں؟


ای پیپر