”کرتار پور اور ماسٹر تارا سنگھ“
21 نومبر 2019 2019-11-21

اسلامی مملکت خداداد پاکستان کے (معاذاللہ) ریاست مدینہ کے نام پہ مسلط کردہ حکمران عمران احمد خان نیازی کہتے ہیں کہ سکھوں کے لیے کرتارپورہ کا مقام ایسا ہے، جیسے مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ کا مقام ہے؟

اللہ معاف کرے، ایسا بیان دینے والوں کو، کیونکہ حرمین شریفین ، مکے میں کعبة اللہ، اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، اور مدینہ منورہ، محبوب خدا، انسان کامل واکمل جناب خاتم الاولین وآخرین کی آرام گاہ اور مرقد مبارک ہے، جہاں روزانہ ہزاروں ملائکہ فرشتے درود وسلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور روزانہ آئے ہوئے پچاس ہزار فرشتوں کو قیامت تک دوبارہ آنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔

اب کرتار پور کا موازنہ مرجع خالق کے ساتھ کرنا، اور جوڑنا حدادب سے زیادہ نہیں؟ روزانہ پانچ ہزار سکھوں کو بابا گورونانک کی سمادھی کا درشن کرنے، اور لنگر سے لطف اندوز ہونے کے لیے، سکھوں کو لنگر انداز ہو جانے کی اجازت دینا کس کے سر پہ احسان ہے؟ نوجوت سنگھ سدھو، کو بہتر سال بعد پتہ چلا کہ بابا گورونانک کا کرتارپور جہاں انہوں نے اپنی آخری عمر کے کئی سال وہاں گزارے، تقسیم برصغیر کے وقت سکھوں کے رہنما ، جیسے ہندوﺅں کے لیڈر، مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہروتھے، مسلمانوں کے قائداعظم محمد علی جناح تھے، اسی طرح سکھوں کے ماسٹر تاراسنگھ تھے، کیا سکھوں کے اتنے بڑے لیڈر کو یہ پتہ نہیں تھا، کہ ہمیں بھی اپنی بقیہ زندگی وہیں گزارنی چاہیے جہاں سکھ مذہب کے بانی، اور پیشوا بابا گورونانک نے بتائی تھی، جبکہ شایدحکمران پاکستان کی بھی یہ خواہش ہو، جیسی دنیا کے اربوں مسلمانوں میں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، کہ ان کی زندگی کے بقیہ اور حیات عارضی کی دائمی شام، حضور پر نور کے قدموں میں جنت البقیع میں ہوجائے، کیونکہ اہل بیت بھی وہیں مدفون ہیں، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پیارے نبی بھی وہیں آرام فرما ہیں۔ جن کے بارے میں امام احمد رضا خان بریلوی نے دنیا کے خوبصورت ترین ہستی کے بارے میں خوب صورت ترین اشعار کہہ کر اپنے آپ کو امر کرلیا ہے اور ان کا یہ درود سلام قیامت تک اسی طرح خصوصاً جمعے کے دن ہرمسجد میں امسال سابقہ کی طرح پڑھتے رہ جائیں گے ۔

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی

دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی

جس کوشایاں ہے عرش خدا پر جلوس

ہے وہ سلطان والا ہمارا نبی

جس کے تلوﺅں کا دھون ہے آب حیات

ہے وہ جان مسیحا ہمارا نبی

کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے

سب سے اعلیٰ و اولیٰ ہمارا نبی

ہمارے حضور پُر نور کے بارے میں دنیا بھر کے دانشوروں اور رہنماﺅں نے دل کھول کر داد دی ہے، وہاں ہندوﺅں اور سکھوں نے بھی رسول پاک کو انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر ورہنما مانا ہے، کہ اُن کے پیروکاروں کی تعداد دنیا کے تمام براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے، ہندو پنڈت شیونرائن کہتے ہیں کہ وَحشی جنگجوعربوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے اور زبردست قوم کی شکل میں کھڑا کردینے کے لیے ایک عظیم انسان کا ظہور ہوا، اندھی تقلید کے کالے پردے توڑ کر اُس نے تمام قوموں کے دلوں پر واحد خدا کی حکومت قائم کی، وہ انسانی لعل کون تھا، وہ محمد تھے۔ اسی طرح پنڈت سوامی نرج نرائن سوامی کا کہنا ہے، کہ پیغمبر اسلام نے ایک جنگ بھی جارحانہ نہیں کی، بلکہ ہردفعہ مدافعانہ لڑائی لڑنے پر آپ کو مجبور کیا گیا۔

لالہ مہرچند نے بھی کہا، کہ ہرچند کہ بانی اسلام کی ذات والا صفات سراپا رحم وشفقت تھی، اور اگر بانی اسلام کے بس میں ہوتا، توسرزمین عرب میں خون کا ایک قطرہ بھی گرنے نہ پاتا، غرض جو لڑائیاں ہوئیں، نہایت مجبوری کی حالت میں ہوئیں۔ اسی طرح موتی لعل مارتھر نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے تو توحید کی ایسی تعلیم دی، جس سے ہرقسم کے باطل کی بنیادیں ہل گئیں، برہنمو سماخ کے شری شردھے پرکاش کا کہنا ہے کہ جس طرح دنیا میں بزرگ اپنے جلال اور بزرگی کا ایک مستحکم ستون قائم کر گئے ہیں اسی طرح محمد بھی اپنی فضیلت کا ایسا جھنڈا کھڑا کر گئے ہیں، کہ جو ہمیشہ کے لیے ان کی یادگار ہے، یہی اسلام کا پرچم، جس کے نیچے کروڑہا دنیا کے لوگ پناہ گزین ہیں، اور ان پہ جان دینے کے لیے مستعد کھڑے ہیں یہ ان کی فضیلت کا بڑا اعلیٰ شان نشان ہے۔

بلبل ہند، سروجنی نائیڈو کہتی ہیں، کہ نبی عربی اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں کہ جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا، انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی ہے، جسے تمام کرہ¿ ارض پر پھیلنا تھا، جس میں سوائے عدل واحسان کے اور کسی قانون کو رائج نہیں ہونا تھا، ان کی تعلیمات تمام انسانوں کی مساوات ، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی۔ ہندوﺅں یعنی بھارت کے عظیم لیڈر گاندھی جی، رسول پاک کے بارے میں کہتے ہیں، کہ مجھے قرآن کو الہامی کتاب تسلیم کرنے میں ذرہ بھر تامل نہیں ، رابندر ناتھ ٹیگور، ڈاکٹر جے کارام برہما، سوامی لکشمن رائے کا کہنا ہے کہ ہمیں حضورکا اعتراف کرتے ہی بنتی ہے، کہ عالم شباب میں آپ کی یہ حالت تھی کہ تازہ شادی کے بعد کئی کئی دن گھر سے باہر رہ کر تزکیہ نفس اور ریاض کشی میں مشغول رہتے تھے، حضرت عائشہ ؓ کے سوا جتنی خواتین آپ کے عقد میں آئیں، سب کی سب بیوہ تھیں، ان حالات پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے، کہ وہ شادیاں اسلام کی خاطر تھیں ، نکاح کی خاطر نہ تھیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کی ادائیگی کی خاطر تھیں۔

لکشمن رائے کہتے ہیں، کہ غیرمسلموں نے قسم کھالی ہے، اور برا ہو ان منصفوں کا کہ جنہوں نے قسم کھالی ہے، کہ قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے، اور آنکھوں پر تعصب کے پتھر رکھ کر ہرواقعے کو اپنی ناسمجھی اور تعصب کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے، آنکھیں چکا چوند ہوجاتی ہیں، اور ان کے گستاخ، اور کج رقم قلموں کو اعتراف کرتے ہی بنتی ہے، کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر نے جس شان استغناسے دولت، عزت، شہرت ، اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصول پر قربان کیا، وہ ہرکس و ناکس کا کام نہیں، قارئین کرتارپور راہداری کھولنے پہ اگلے کالم پہ ان شاءاللہ لکھوں گا فی الحال سید مظفر شاہ کے اشعار پہ توجہ دیں کہ سوچیں ساکت

ہونٹ مقفل!

اور آنکھیں ہیں پتھرائی

لوگ کہیں گے اب

میرے گھر میں

آزادی کی رُت آئی


ای پیپر