ریاست مدینہ کا تصور اور بدزبانی!
21 نومبر 2019 2019-11-21

چلیں اپنے دِل پر پتھر رکھ کر ابھی اپنے محترم وزیراعظم کو ہم منافق نہیں کہتے،ابھی ہم اسی یقین میں مبتلا رہتے ہیں جس کے دِل میں کچھ اور ہو زبان پر کچھ اور ہو وہ منافق نہیں ہوتا۔”اُسے ٹائم ملنا چاہیے“....مگر کم ظرفی کے جس مقام کی جانب آہستہ آہستہ وہ بڑھتے جارہے ہیں، اُن کے قدم دِن بدن تیز ہی ہوتے جارہے ہیں، صرف قدم نہیں زبان بھی دِن بدن تیز ہوتی جارہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے بداخلاقی کی اِس آخری حد سے اُن کی واپسی اب مشکل سے ہی ہوگی۔ اُن کے برادر نسبتی اور ہمارے قلم کار بھائی حفیظ اللہ نیازی اکثر اُن کی فطرت بارے ہمیں آگاہ فرماتے تھے۔ ہم مگر یقین نہیں کرتے تھے، ہم اُن کے عشق میں اندھے ہوچکے تھے، ہم سمجھتے تھے اِس ملک میں ستر سالہ گندگی صاف کرنے والا صرف ایک ہی شخص اللہ نے پیدا کیا جس کا نام عمران خان ہے، وہ اپنی طرف سے صرف اپنے سیاسی مخالفین یعنی سابقہ چور اور ڈاکو حکمرانوں کو ختم کرنے یا اُن کی سیاست کو ختم کرنے کو ہی گندگی صاف کرنا سمجھتے ہیں۔ سو اُنہیں سوائے اِس کے اور کوئی کام ہی نہیں، اخلاقی اور معاشی لحاظ سے پاکستان مزید تباہی کی جانب گامزن ہے، ہر شعبہ مزید خرابی کی جانب بڑھ رہاہے۔ خصوصاً پنجاب میں ایک نکمے وزیراعلیٰ کی تعیناتی نے اُن کی بچی کھچی ساکھ کے ساتھ ساتھ انتظامی لحاظ سے ہر شعبے کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے، ....خان صاحب کے وزیراعظم بننے کے بعد ہمیں احساس ہوا اُن کی ساری جدوجہد صرف وزیراعظم بننے کے لیے تھی، وزیراعظم بن کر کچھ کرکے دیکھانے کی نہیں تھی، ہم نے مگر اُن کا ساتھ صرف اِس نیت ، جذبے اور اُمید کے تحت دیا تھا پاکستان مختلف اقسام کی پستیوں سے نکل کر ایسی ترقیوں کی جانب رواں دواں ہو جائے گا کہ کبھی کبھی پاکستان کے حالات اور نظام دیکھ کر دل میں پاکستان کو مستقل طورپر خیرباد کہنے کی جو خواہش پیدا ہوتی ہے اُس سے چھٹکارا مِل جائے گا، یوں محسوس ہوتا ہے اب بادل نخواستہ اِس خواہش کا ہمیں احترام کرنا ہی پڑے گا، میں سوچتا ہوں میں تو چلے جاﺅں گا۔ اپنے والدین کی قبروں کو ساتھ کیسے لے جاﺅں گا جہاں روزانہ حاضری دے کر اپنے دن کا میں آغاز کرتا ہوں ؟ کاش کوئی طریقہ مجھے بتائے اِن قبروں کو اپنے ساتھ میں کیسے لے جاﺅں؟؟؟۔ خان صاحب تو خیر سے اپنی پرانی خواہش کے مطابق وزیراعظم بن گئے، اور ہم اُلو بن گئے۔ حسن نثار صاحب نے تو عوام سے اِس کی معافی مانگ لی، میں ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچا، اِس کے باوجود کہ گندگی بڑھتی جارہی ہے۔ اِس کے باوجود کہ منافقت بڑھتی جارہی ہے، اِس کے باوجود کہ کرپشن بڑھتی جارہی ہے۔ اِس کے باوجود کہ ناانصافی بڑھتی جارہی ہے، اِس کے باوجود کہ جس انداز میں وزیراعظم عوام کی تربیت فرما رہے ہیں، بداخلاقی بھی اس سے بڑھتی جارہی ہے، .... مگر دِل کے کسی کونے میں اُمید کا اِک ننھا سا دیا اب بھی بجھ بجھااور پھڑپھڑا رہا ہے، شاید اللہ اِس شخص کو ہدایت دے اور یہ ہمارے خوابوں کو سچا کردے۔ ہماری وہ ساری تمنائیں پوری کردے جو اس ملک اور اِس کے کروڑوں عوام کی محرومیاں دُور کرنے کے لیے اپنے دِل میں سالہا سال سے ہم نے پال رکھی ہیں، .... پھر اچانک حفیظ اللہ نیازی کی آواز کانوں میں گونجتی ہے، ”فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی“ .... ہمارے پیارے خان صاحب تو اپنی عادتیں تبدیل نہیں کرسکے، فطرت کہاں سے تبدیل ہونی ہے ؟؟۔آپ نے فرمایا ” اگر کوئی مجھ سے کہے اُحد (پہاڑ) اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے میں مان لُوں گا لیکن کوئی یہ کہے کسی انسان کی فطرت تبدیل ہو گئی ہے میں نہیں مانوں گا“ ....اگلے روز ہزارہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب میں جس طرح اپنے مخصوص انداز میں اپنے سیاسی مخالفین پر وہ گرج برس رہے تھے اُن کی نقلیں اُتار رہے تھے، یہ غیر مہذب انداز کم ازکم اُس وزیراعظم کو ہرگز زیب نہیں دیتا جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرتا ہو، .... آپ سے کسی نے پوچھا ”بہترین مسلمان کون ہے؟ فرمایا ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“ ....ہمارے محترم وزیراعظم نے اپنی اصلاح نہ کی، اپنا ظرف اپنے عہدے کے مطابق نہ کیا تو دوسرے غیر مہذب سیاستدانوں کے مقابلے میں اُنہیں بہتر قرار دینے کے لیے کیا دلیل ہمارے پاس رہ جائے گی ؟ اُنہیں شاید ابھی تک یقین ہی نہیں آرہا وہ وزیراعظم بن چکے ہیں، یقین ویسے ہمیں بھی نہیں آرہا مگر حقیقت یہی ہے وہ وزیراعظم

بن چکے ہیں، بلکہ میری نظر میں تو وزیراعظم بن کر ”فارغ“ بھی ہوچکے ہیں، اُن سے دست بستہ گزارش ہے یا تو پاکستان کو ” ریاست مدینہ “ بنانے کی باتیں کرنا بند کردیں، ورنہ اپنی وہ زبان بند کرلیں جس سے دوسروں کی دِل آزاری ہوتی ہے، کیا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار اور بدزبانی کے ماہر اس شخص کو معلوم ہے ”آپ ہمیشہ اِس بات کا شدت سے اہتمام فرماتے کہ آپ کی کسی بات یا طرز عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ، آپ نے کسی شخص کی بُرائی کا ذکر کرنا ہوتا کبھی اُس کا نام نہ لیتے، ہمیشہ یہی فرماتے ”ذرا دیکھیں لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے، وہ یہ کرتے ہیں، یا وہ یہ کہتے ہیں “ ....ایک موقع پر اُم المومنین حضرت زینبؓ نے حضرت صفیہ ؓ کو ”یہودیہ“ کہہ دیا، آپ کو اِس سے سخت صدمہ ہوا، کئی یوم تک حضرت زینبؓ سے کلام نہ فرمایا ،....ایک مجلس میں ایک شخص حضرت ابوبکرؓ کو اُن کی موجودگی میں بُرا بھلا کہہ رہا تھا، حضرت ابوبکرؓ جواباً خاموش تھے، جب وہ شخص حدسے بڑھا تو حضرت ابوبکرؓ نے اُسے جواب دیا، یہ دیکھ کر آپ مجلس سے اُٹھ گئے، حضرت ابوبکرؓ نے وجہ پوچھی ، آپ نے فرمایا ”پہلے تمہاری طرف سے ایک فرشتہ مامور تھا، تم نے جواب دیا تو وہ چلا گیا اُس کی جگہ اب شیطان نے لے لی ہے، اور میں کسی ایسی مجلس میں نہیں ٹھہر سکتا جہاں شیطان ہو“ ....تو ریاست مدینہ کی بات کرنے والے، اور آپ کو بجاطورپر بہترین رہنما سمجھنے والے حکمران کی خدمت میں عرض ہے ”یا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرنا بند کردو یا اُن اصولوں کو اپنا لو جن سے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے تصور میں کچھ سچائی دیکھائی دے۔ ورنہ آہستہ آہستہ لوگ آپ کو منافق قرار دینے لگیں گے جو کسی حدتک درست ہوگا“ ....وہ اپنی ہر تقریر سے پہلے باآواز بلند ایک آیت سورة فاتحہ کی پڑھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے ” ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ” ....یہ آیت جب وہ پڑھتے ہیں ہمیں اچھا لگتا ہے، مگر اِس سے جُڑی ہوئی ایک آیت پڑھنے کی انہیں زیادہ ضرورت ہے جس کا ترجمہ ہے ”ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا“ .... اور سیدھی راہ یہ نہیں وہ ہروقت اپنے سیاسی مخالفین پر لعن طعن کرتے رہیں۔ سچی اور سیدھی راہ یہ ہے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے جو دعوے وہ کرتے ہیں اُن پر کچھ عمل کرنا بھی اب شروع کریں جس کا آغاز اپنے کچھ بدنام مشیروں اور وزیروں کو فارغ کرکے بھی وہ کرسکتے ہیں۔ وہ جب غیر ضروری طورپر بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے وہ بھی اُن ہی میں سے ایک ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے!!


ای پیپر