Riaz ch, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 May 2021 (11:30) 2021-05-21

 افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے جس آگ میں جل رہا ہے اس نے پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگادیا ہے۔ افغانستان میں امن اور وہاں کے عوام کی مر ضی کے مطابق حکومت کا قیام بھی اس وقت سب سے خطرناک معاملہ بن گیا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اہم کردار ادا کررہا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس ملک میں امن اور استحکام کے اصل دشمن بھارت کوخود یہاں لے کر آئے ہیں۔ آج بھی اگر بھارت کو یہاں سے چلتا کر دیں تو ایک پر امن افغانستان سامنے آجائے گا۔ بھارت نے اس ملک میں دہشت گردی کی نرسری قائم کر رکھی ہے، جہاں سے پاکستان میں بلوچستان اور کراچی کے حالات کو خراب کرنے کے لئے دہشت گردو ں کی مدد کی جاتی ہے جس کی بھاری قیمت پاکستان کے عوام اور سکیورٹی اداروں نے ادا کی ہے۔

پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی ادارے آج بھی پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ دنیا کے اس آگ میں جلتے ملک میں امن قائم کرنے کی مثبت کوشش کررہے ہیں جس کی مثال، امریکا طالبان معاہدہ ہے جوپاکستان نے کرایا مگر اس کے باوجود پاکستان کے جذبے کی قدر نہیں کی گئی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سوچنا ہوگا کہ انہوں نے افغانستان سے روسی انخلا کے بعد اس ملک کی ترقی اور بہتری کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی، اسی لئے آج بھی کابل سے آگے نہ تو غیر ملکی اور نہ ہی ملکی سکیورٹی اداروں کا کنٹرول ہے۔ اب ایک بار پھر ا فغانستان میں امن کے قیام کے لئے پاکستان اہم کردار ادا کررہا ہے۔گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدے کے مطابق انخلا کے لیے طے کی گئی مئی کی تاریخ میں اب تاخیر ہو جائے گی۔ یہ انخلا اب  2001 میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے 20 برس مکمل ہونے پر ہو گا۔ امریکی صدر بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔توقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن ہونے والے فیصلے سے بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو اتحادیوں کو آگاہ کریں گے۔

دوسری طرف طالبان نے امریکی فوجیوں کے انخلا کی تاخیر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں افغانستان کے مستقبل سے متعلق ترکی میں ہونے والے اجلاس میں اس وقت تک شرکت نہیں کریں گے جب تک تمام غیر ملکی افواج افغانستان چھوڑ نہیں جاتیں۔قطر میں طالبان دفتر کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا ہے  ' جب تک تمام غیر ملکی افواج مکمل طور پر ہماری سرزمین سے نکل نہیں جاتیں تب تک (ہم) افعانستان سے متعلق کسی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے‘۔  گزشتہ برس فروری 2020 میں طے پانے والے معاہدے میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر طالبان اپنے وعدے پورے کرتے ہیں تو امریکہ اور اس کے تمام اتحادی فوجی 14 مہینوں میں انخلا کر جائیں گے۔ ان وعدوں میں یہ بھی شامل تھا کہ طالبان اپنے زیرِ قبضہ علاقے القاعدہ یا کسی بھی اور شدت پسند گروہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور قومی امن مذاکرات کو جاری رکھیں گے۔ اگرچہ طالبان نے تاریخی معاہدے کے تحت بین الاقوامی فوجیوں پر حملے بند کر دیے تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے افغان حکومت کے خلاف جنگ ابھی تک جاری رکھی ہوئی ہے۔

اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر یکم مئی تک تمام غیر ملکی افواج نے ملک سے انخلا نہ کیا تو امریکی اور نیٹو افواج پر حملے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔ جبکہ بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان کو خبردار کر دیا گیا ہے اگر انہوں نے انخلا کے دوران امریکی فوجیوں پر کوئی حملہ کیا تو انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک طرف تو یہ سلسلے چل رہے ہیں کہ امریکی و نیٹو افواج کو افغانستان سے کیسے اور کب نکالا جائے تو دوسری طرف تعداد کے حوالے سے نئی خبریں آرہی ہیں ۔ نیویارک ٹائمز کی اطلاع ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی کل تعداد 3500 ہے ، جو پہلے کی اطلاع سے ایک ہزار زیادہ ہے۔جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب بھی اس کے تقریباً 25 ہزار فوجی ہیں۔ ساڑھے تین ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ افغانستان میں نیٹو کے قریب 7000 فوجی بھی موجود ہیں۔اس خبر سے مذاکرات کا عمل اور بھی پیچیدہ ہوسکتا ہے۔جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے لیے ڈیڈ لائن کو اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔

بیشتر امریکی مبصرین کی رائے میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی اتنی کم تعداد کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں، مگر بعض مبصرین کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زائد تعداد امریکاکے لئے مناسب نہیں ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے تحفظات کے باوجود افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ نے کیا تھا۔

افغانستان کے تمام دھڑوں کو امن مذاکرات کامیاب بنانے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کیونکہ پائیدار امن اور فائربندی کے بغیر ترقّی اور خوشحالی ممکن نہیں ہو سکتی، مگر المیہ یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکااور طالبان کے امن مذاکرات تاحال ثمرآور ثابت نہیں ہو سکے کوئی نہ کوئی رْکاوٹ دَر آتی رہی۔


ای پیپر