جہانگیر ترین گروپ
21 May 2021 2021-05-21

یہ جاننے کے لئے کہ جہانگیر ترین گروپ کیا ہے، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی نظریاتی جہت اور سمت کیا ہے اور خود جہانگیر ترین کیا چاہتے ہیں فقط شوگر مافیا کے الزام سے کلین چٹ اور منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بریت ۔ وہ مال ودولت کے حوالے سے ایک قیمتی، سنہری مچھلی ہیں، اتنی فائدہ مند کہ انہیں پھانسنے کے لئے زرداری صاحب بھی جال پھینکنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ جہانگیر ترین کی بار ، بار کی جانے والی گفتگو کو سنیں، وہ عمران خان کی حکومت ختم نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا چھوٹا سا، معصوم سا، بے ضرر سا ان کہا مطالبہ واضح ہے کہ جب ادویات، پٹرول، آٹے سمیت ہر شعبے میں دیہاڑیاں لگانے والے آزاد ، معتبر اور پیارے ہیں تو ان پر سختی کیوں ہے حالانکہ وہ جناب عمران خان کو وزیراعظم بنوانے میں دوسرے بڑے محسن ہیں۔

جہانگیر ترین کے ساتھ کون ہیں، کیا یہ کوئی انقلابی اور نظریاتی ارکان اسمبلی کا گروپ ہے جو ملک میں ناقص حکمرانی، تباہ حال معیشت اور عوام کی زبوں حالی پر پریشان ہے، نہیں نہیں، ان میں دو قسم کے ارکان اسمبلی ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جسے جہانگیر ترین اپنے جہاز میں لاد،لاد کے حکومت سازی کے لئے لاتے رہے اور ظاہر ہے کہ یہ ارکان فی سبیل اللہ تو ان کے ساتھ بنی گالہ یاترا کے لئے نہیں گئے ہوں گے۔ جہانگیر ترین کو الحمدللہ پاکستان کا بل گیٹس اورپی ٹی آئی کا ملک ریاض سمجھا جا سکتا ہے۔یہ ارکان اسمبلی جانتے ہیں کہ مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ایسے میں کھاتے پیتے باعزت لوگوں کا گزارا اب محض زمیندارے یا رکن اسمبلی کی تنخواہ پر نہیں ہوسکتا لہٰذا یہ تعداد قابل فہم ہے کہ جن انتیس آزاد منتخب ہونے والے ارکان پر پنجاب حکومت کھڑی ہے ان میں سے اکیس جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں۔جب آپ آزاد ارکان کی بات کرتے ہیںتو ان کی ہمت ہے، صلاحیت ہے کہ وہ بڑی بڑی جماعتوں کو شکست دے کر منتخب ہوئے۔کیا آپ کو وہ حافظ صاحب یاد نہیں آتے جنہیں حلوے کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”حلوہ نئیں کھانا تے فیر حافظ کاہدے لئی بنے آں“۔ وہ بجا طور پر سوچتے ہیں کہ اگر انہیں اہمیت ، وقعت اور مقام نہیں ملنا تو وہ حکومت کے ساتھ کیوں آئے، محض خواری کو؟

جہانگیر ترین کے ساتھ دوسرے ارکان وہ حکومتی ارکان جو روپیہ ، پیسہ رکھنے کے باوجود قابل رحم، بے چارے اور مہاتڑ ہیں۔ یہ عشروں بلکہ صدیوں سے سیاست میں ہیں مگر مجال ہے کہ ان کی کوئی اہمیت ہو۔ انہیں ہمیشہ اپنے ڈی سی، تحصیلدار، تھانے دار اور ہسپتال کے ایم ایس پر دبدبہ رکھنے کے لئے ایک امپریشن چاہئے کہ وہ وزیراعلیٰ، وزیروں اور بیوروکریٹوں کی گڈ بکس میں ہیں ورنہ یہ حکومتی ارکان ہوکر بھی نکے نکے سرکاری اہلکاروں سے اپوزیشن والوں جیسی کرواتے رہتے ہیں۔ ان میں آپ ان کی بات بھی کرسکتے ہیں جن کے پوسٹر تک پھاڑ دئیے گئے تھے یعنی پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں کچھ نہ پا سکنے والے ہمارے پیارے راجہ ریاض جنہیں قومی اسمبلی میں جے کے گروپ کا نام نہاد قسم کا پارلیمانی لیڈر بنایا گیا ہے اور دوسرے سعید اکبر نوانی ، جو بے چارے ایک ایک سیکرٹری کے ترلے کرتے رہے کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات ہی کروا دے مگرعثمان بزدار جیسے مرنجان مرنج وزیراعلیٰ کے سامنے حاضری کا شرف بھی نہ ملے تو یہ مہاتڑ کیا کریں، کس کا در کھٹکھٹائیں، کہاں سرپھوڑیں۔ یہ لطیفہ بھی جہانگیر ترین صاحب ہی کی وجہ سے ممکن ہوا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومتی ارکان کا فارورڈ بلاک بنتے ہوئے دیکھاگیا ورنہ ایسی بدمعاشی اور بے ضمیری ہمیشہ اپوزیشن والے کرتے رہے ہیں۔ ان کی مجبوری ہے کہ یہ اپنی ناراضی دکھانے کے لئے کسی دوسری پارٹی میں بھی نہیں جا سکتے کہ اس کے بعد یہ اپنا ”سُجا ہوا پِنڈا“دکھانے کے لئے کہاں جائیں گے۔ جہانگیر ترین گروپ سے امیدیں رکھنے والوں سے کہنا ہے کہ اس گروپ کے مقابلے میں بہرحال پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، آپ اتفاق کریں یا اختلاف اس کا ایک سیاسی نظریہ ہے اور عمران خان اپنے کروڑوں ووٹروں کے لئے ایک کرشماتی لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ جناب عمران خان کو نہیں ہٹا سکتے بلکہ انہیں تو تڑی بھی نہیں لگا سکتے۔ باوثوق طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جناب جہانگیر ترین کوبوجوہ مقتدر حلقوں کی رتی برابر سپورٹ نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ دوسرے بے چارے عبدالعلیم خان ہیں۔ عبدالعلیم خان بھی جب وزیراعلیٰ بننے کے لئے متحرک ہونے لگتے ہیں تو ان کو بتا دیا جاتا ہے، سمجھا دیا جاتا ہے اور جب سے انہیں جیل یاترا کر وا کے بتایا اور سمجھایا گیا ہے وہ اب کوئی تھرل نہیں کرتے۔جہانگیر ترین گروپ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ٹارگٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جو ان کی مجبوری ہے کہ یہ گروپ شہزاد اکبر، اعظم خان اور اسد عمر وغیرہ وغیرہ کا تو نام بھی نہیں لے سکتا جن کے احکامات پر ان کے ساتھ وہی کچھ کیا جا رہا ہے جو فیصل واوڈا نے کہا کہ اس گروپ کے ارکان ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ ہوا بھی یہی کہ یہ بے چارے وزیراعلیٰ کے سیکرٹری سے ہی مان گئے۔ ویسے بھی یہ سب سیانے بیانے جانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سے زیادہ تگڑا وزیراعلیٰ کا سیکرٹری ہوتا ہے اورا س کی خوشامد، وزیراعلیٰ کی خوشامد سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ 

کیا جہانگیر ترین گروپ کوئی الگ سے پارلیمانی گروپ بنا سکتا اور اس کا پارلیمانی لیڈر مقرر کر کے اسمبلی میں علیحدہ نشستیں لے سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا ان سے ایسے خود کش حملے کے بعد کسی جنت کا وعدہ کر لیا گیا ہے کہ یہ جیسے ہی پارلیمانی لیڈر اور نشستیں الگ کریں گے ان پر ڈیفیکشن کلاز کا اطلاق ہوجائے گا۔ یہ خود نااہلی کی طرف بڑھیں گے اور حکومت کو اعتماد کا ووٹ لینے کی طرف بڑھا دیں گے جس کے بعد انہیں واپس اسی طرح آنا پڑے گا جیسے کسی بزدار کی بکریاں باڑے سے باہر چرنے کے لئے نکل جائیں اور جب گنتی کرنی ہو تو ایک چھڑی کی مدد سے انہیں واپس باڑے میں لے آیا جائے۔ یوں بھی میرا یقین ہے کہ جہانگیر ترین سیاسی باڑے کے کٹے وچھے بجٹ پر حکومت کو مناسب داموں پر بیچ دئیے جائیں گے۔ یہ سیاست نہیں بلکہ محض اپنے کھال بچانے کے ساتھ ساتھ لاغر سیاسی کٹوں، وچھوں کو فربہ کرنے کا پروگرام ہے۔ المشہور جے کے ٹی کٹا وچھا فارم سیاسی کٹے وچھے جمع اور فروخت کرنے میں انتہائی تجربہ کار اور نجی پولیٹیکل لائیو سٹاک فارمنگ میں سب سے بڑا اور معتبر نا م ہے مگر اس سے کسی سیاسی انقلا ب کی امید نہیں لگائی جا سکتی۔مجھے تو یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی میں سے ”ٹی“ نکل گیا وہ بھی غلطی پر تھے۔ یقین کیجئے اس صورتحال میں ” ٹی“ کہیں نہیں جا سکتا کہ اس کی بچت کی واحد امید ہی عمران خان ہیں۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ جس طرح عمران خان ، عثمان بزدار کے لئے شجر سایہ دار بنے ہوئے ہیں وہ انہیں بھی تحفظ دیں گے کہ ان کی خدمات عثمان بزدار سے کہیں زیادہ ہیں مگر میں اور جہانگیر ترین دونوں سمجھتے ہیں کہ بعض جگہوں پر جناب عمران خان بھی خواہش کے باوجود بے بس اور مجبور ہوجاتے ہیں۔ جہانگیر ترین کو سوچنا چاہئے کہ عمران خان انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ، عمران خان کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں شریف فیملی کے لئے سخت گیر جج ہیں تو ان کے لئے انصاف پسند وکیل، ایسے میں محض ایک مقدمے کی خاطر چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے، خاموش رہیں اور خامو ش رہ کر اپنی چینی حکومت کو بیچتے رہیں، اسی میں عقلمندی ہے۔


ای پیپر