بھارتی ارا دو ں سے خبر دار رہنے کی ضر ور ت
21 May 2020 (22:01) 2020-05-21

بھارت کی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں جس طرح کے ظلم ڈھا رہی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ستر سال کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ تاہم پچھلے برس سے یہ جارحیت اور یہ مظالم کئی قدم آگے بڑھے ہیں اور اس نے نئے روپ اختیار کیے ہیں۔یہ آ ج سے محض دو تین روز قبل ہی کی تو با ت ہے کہ مقبو ضہ وادی کے دارلخلا فہ سری نگر میں تحریکِ حر یت جمو ں کشمیر کے چئیر مین اشرف صحر ائی کے بیٹے جنید صحر ائی اپنے سا تھی سمیت شہید ہو گئے ۔ وہ حز ب المجاہد ین کے کما نڈ ر تھے۔ بھا رتی فو ج سرینگر کے علا قے نوا کدا ل میں گلیو ں سمیت تما م دا خلی اور خا ر جی علا قے سیل کر کے مسلما نو ں کے خو ن کی ہولی کھیلنا چاہ رہی تھی کہ اسے حز ب المجا ہد ین کی جا نب سے شدید مز احمت کا سا منا کر نا پڑا ۔ فا ئر نگ کے نتیجے میں چا ر بھا رتی فو جی بھی ز خمی ہو گئے۔ بھا رتی فو جیو ں نے جنو نی وحشت کا مظا ہر ہ کر تے ہو ئے وہا ں کے رہا ئشیو ں کے پا نچ گھر مکمل طور پر تبا ہ کر دیئے اور دس کو شد ید نقصا ن پہنچایا۔ اس پر وطنِ عز یز کی وز ا رتِ خا رجہ ے متنبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف کسی جھوٹی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ وز ا رتِ خا رجہ اس سے قبل بھی متعدد بار بھارت کے ایسے گھٹیا ارادوں کا پرد ہ چاک کر چکے ہیں، تاہم مقبوضہ کشمیر میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران حالات جس تشویش سے دو چار ہیں، جس طرح قابض فورسز کی جانب سے آئے روز کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریوں اور شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، اس جارحیت کو چھپانے کے لیے بھارت جو حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا خطرہ اس میں سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ بھارت کے ارادوں پر گہری نظر رکھنا اور اس سلسلے میں ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کی کولڈ سٹارٹ کی اعلانیہ پالیسی کے بعد دفاع وطن کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ پورا اعتماد ہے کہ حکومت پاکستان اور دفاعی اداروں کو چوکس پا کر بھارت کو اس قسم کے اقدام کی تو جرأت نہیں ہوگی، پھر بھی سرحدوں پر مضبوط دفاع اور بھارتی ارادوں پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر اورلائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحانہ اقدامات کے بھرپور جواب دینے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ہماری حکمت عملی اور بیانیہ روایتی سفارتی رکھ رکھائو کی بجائے جارحانہ قوت سے بھر پور ہونا چاہیے تاکہ دشمن پر واضح ہوسکے کہ ہم کسی بھی نوعیت کی جارحیت یا ایڈونچر کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری تیاریوں میں ہیں۔ یہ بھا رتی مظا لم ہی کا نتیجہ ہے کہ کشمیری عوام نہ صرف بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے

والے انسانی المیوں کا سامنا کرر ہے ہیں بلکہ اب تو انہیں اپنی دھرتی پر اپنے وجود کی فکر بھی مزید گہری ہوگئی ہے۔ چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہ سیاستدان بھی فکری طور پر حریت پسندوں کے قریب آگئے ہیں جو اب تک بھارتی ہاں میں ہاں ملانے کی وجہ سے کشمیری عوام میں بدنام تھے۔ کشمیری رہنمائوں کا یہ طبقہ جو اَب تک نئی دہلی کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک فکری الحاق رکھتا تھا، بھارت کی کشمیر میں اس نئی در اندازی کے بعد اس کے ہوش بھی ٹھکانے آگئے ہیں۔ گزشتہ برس لوگوں نے ان میں سے اکثر کے وہ بیانات بھی دیکھے کہ ان کے اجداد نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض ہونے کا موقع دے کر بہت بڑی غلطی کی۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی بے چینی کے لیے بھارت کے گزشتہ برس کے اس اقدام نے عمل انگیز کا کام کیا، اب مظلوم کشمیری، جن میں وہ بھی شامل ہیں جو اَب تک حریت پسندی سے دور تھے، نہ صرف بھارت کے ظلم و جبر کو سہتے ہیں بلکہ مستقبل کی فکر انہیں مزید عدم تحفظ کا احساس بھی دلاتی ہے۔ کیونکہ نئی ترامیم کے بعد بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کو اسی طرح ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے جس طرح صیہونیوں نے فلسطین پر اپنا تسلط قائم کیا۔ مقبوضہ فلسطین کے حالات و واقعات مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے ممکنہ مستقل کی جھلک دکھلاتے ہیں۔ اس صورتحال میں جب بھارت نہ صرف کشمیری عوام پر انسانی المیے کو مسلط کر رہا ہے بلکہ ان کی ریاست کا مستقبل بھی تاریکیوں میں گم ہونے کے اندیشے پید اہوچکے ہیں، مظلوم کشمیریوں کی جانب سے رد عمل فطری ہے۔ دنیا کا کوئی فورم اس رد عمل کو دہشت پسندی قرار دینے کا اصولی طور پر رودار نہیں، یہ مظلوم عوام کی جانب سے ظالم کے ہاتھ روکنے کی فطری کوشش ہے جو سراسر ذاتی دفاع پر مبنی ہے، حملہ ہرگز نہیں۔ مگر بھارت کی فطرت ہے کہ وہ پہلے اس قسم کے حالات پیدا کرتا ہے جہاں رد عمل کا امکان بڑھ جائے، پھر وہ اس ردعمل کو اپنی بے گناہی کے جواز کے طورپر دنیا کے مختلف فورمز پر لیے پھرتا ہے، اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور خوب پراپیگنڈہ کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کا اس محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور یہ مقابلہ صرف دفاعی حربوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کام میں جارحانہ سفارت کاری کو بھی برتا جائے۔ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جان و مال، عزت اور حقوق پر بھارت کے ہر حملے کو عالمی سطح پر اس حد تک اجاگر کیا جانا چاہیے کہ بھارت کو منہ چھپانے اور ’دراندازی‘ کا نام نہاد ڈھونگ رچانے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ کام وزارتِ خارجہ کے ساتھ وزارتِ اطلاعات اور ملک کی جامعات اور علم و تحقیق کے مراکز کو مل کر انجام دینا چاہیے۔ جدید دور میں اطلاعات کے پھیلائو کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان مواقع کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہیے۔ مظلوم کشمیری محاصرے میں ہیں، مگر ہم تو آزاد ہیں۔ان کے ذرائع نشر و اشاعت پر بھارتی پابندی عائد ہیں، ہمارے پاس تو یہ مواقع موجود ہیں۔ چنانچہ لازمی ہے کہ ان مواقع کا موثر استعمال کیا جائے۔ دنیا اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے دوچار ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھیں بند اور سماعتیں بے بہرہ ہوچکی ہیں۔ اس دوران جب قابض فورسز کے ہاتھوں مظلوم کشمیریوں کی زندگی کا کوئی دن محفوظ نہیں اور ان مظالم کی پردہ پوشی کے لیے بھارت طرح طرح کا واویلا کر رہا ہے، پاکستان کی حکومت کو کشمیری بہن بھائیوں پر بھارتی مظالم کو دنیا پر آشکار کرنا چاہیے۔ عوا م کو یہ یقین دلایا جائے کہ حکو متِ وقت رکھتی ہے اور درپیش خطرات کی جانب وقتاً فوقتاً دنیا کی توجہ بھی دلاتے رہتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس عزم کی باز مقبو ضہ وا دی کے مظلو م مسلما نوں تک بھی پہنچتی رہنی چا ہیے۔ انہیں یہ احسا س دلا یا جائے روئے زمین پہ وہ مکمل تنہا نہیں ہیں۔


ای پیپر