ہنگامی مالی معاونت کو مستقل معاشی بہتری کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے
21 May 2020 (22:00) 2020-05-21

کسی ملک کی معیشت کے چلنے کے لئے کاروبارِ زندگی چلنا ضروری ہے یعنی یہ کہ لوگ پیداواری عمل میں شامل ہوں، سب سے پہلے غذائی اشیاء کی پیداوار جاری رہے اور پھر ان کی ترسیل و خریدو فروخت میں رکاوٹ نہ ہو۔ اس کے بعد صنعتی شعبے کا درجہ آتا ہے جہاں صنعتوں اور کارخانوں میں دیگر ضروریاتِ زندگی تیار کی جاتی ہیں اور پھر سروسز سیکٹر یا خدمات کا شعبہ ہے جس میں تعلیمی ادارے، صحت کے شعبے، بجلی و پانی کی فراہمی، نکاسی آب کا مسئلہ اور ٹرانسپورٹ یا نقل و حمل کے شعبے شامل ہیں۔ کورونا کے باعث گزشتہ دو ماہ سے ملکی معیشت پر منفی اثرات کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث سب سے پہلے تو دنیا بھر میں سپلائی چین یعنی اشیاء کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس وباء کے پھیلنے سے صرف اشیائے ضروریہ کی ہی خرید و فروخت ہوتی ہے اور ان کی بھی ترسیل کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ بیشتر کاروبار بند ہیں یہی سب سے بڑا منفی اثر ہے اور اس کے باعث منڈی میں طلب بہت ہی کم ہو جاتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سست روی ختم نہیں ہو سکتی، چنانچہ خسارے بڑھیں گے اور اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ رہے گی۔ معاشی نقصانات کی وجہ سے پاکستان کی جی ڈی پی میں 1.6 فیصد کمی سے اس سال منفی 1.57 جی ڈی پی گروتھ متوقع ہے۔ کمزور معیشت کے حامل ممالک کو موجودہ صورتحال میں پے در پے جھٹکے لگنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہو گی بلکہ ان میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ اسی لئے پاکستان جیسے ممالک کو ایسے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں جیسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ دو ماہ میں شرح سود میں 5.25 فیصد کمی کر کے کئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور سسٹم میں زر نقد بڑھانے کے لئے شرح سود میں گزشتہ دو ماہ کے عرصہ میں چار بار کمی کی ہے اس طرح شرح سود 525 بیسس پوائنٹس کی کمی سے 13.25 سے 8 فیصد پر آ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی میں کمی کی وجہ سے شرح سود میں کمی کی گئی۔ شرح سود کی تبدیلی قرضوں کے حصول پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک شرح سود میں اتار چڑھاؤ لا کر زر کی لیکویڈٹی کو کنٹرول کرتا ہے۔ بینکوں کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پڑے اپنے ڈیپازٹس پر منافع ملتا ہے اور جب اسٹیٹ بینک شرح سود گھٹا دیتا ہے تو بینک اپنی رقم اسٹیٹ بینک کے پاس رکھنے کی بجائے لوگوں کو قرضہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں اسٹیٹ بینک کے پاس اپنے ڈیپازٹس رکھنے کی نسبت کاروباری اداروں کو قرض دینے میں زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے لئے بینک قرض خواہ صارفین اور کمپنیوں کو کم شرح سود کی پیشکش کرتے ہیں۔ صارفین بھی کم شرح سود دیکھ کر زیادہ سے زیادہ قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو زیادہ سے زیادہ منافع آرہا ہوتا ہے جس کا اثر براہِ راست

ملکی معیشت پر پڑتا ہے، کاروبار وسیع ہوتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اس کا فائدہ مالیاتی اداروں، درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو بھی ہوتا ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ بھاری شرح سود کی وجہ سے نجی شعبہ تعطل اور معیشت کا پہیہ سست رفتاری کا شکار ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ شرح سود کی کمی کا مقصد کاروباری حلقوں اور عوام کے لئے سرمائے کے حصول کو آسان بنانا ہے تا کہ کرونا وباء کے اثرات کم کرتے ہوئے معاشی نمو فروغ پائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں شرح سود افراطِ زر سے کم ہے، اس اعتبار سے پاکستان حقیقی شرح سود کے لحاظ سے صفر شرح کے حامل ملکوں میں شامل ہے اسی لئے مالیاتی ماہرین موجودہ صورتحال میں شرح سود 8 فیصد پر آنے کو حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔ پاکستانی معیشت کو بڑا ریلیف عالمی مالیاتی اداروں سے بھی مل گیا ہے، آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب نے پاکستان کے لئے قرضوں کی ادائیگی مٔوخر کرتے ہوئے 12 ارب ڈالر کی وصولی سال کے لئے روک دی ہے اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1.4 بلین ڈالر کا نیا قرضہ بھی مہیا کیا ہے۔ شرح سود میں کمی کے ساتھ معیشت کی بحالی کے حوالے سے حکومت کا دوسرا بڑا اقدام چھوٹی و درمیانی صنعتوں، نیشنل ہاؤسنگ کے لئے ٹیکسوں میں چھوٹ، زرعی شعبے کے لئے مراعات کے اعلان سمیت کئی دوسرے اقدامات ہیں جن سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔ صنعتی پہیہ چلانے کے لئے حکومتی اقدامات، عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ملنے والی رعایت کے ساتھ مل کر معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں مگر اس کے لئے ایسے اقدامات ضروری ہوں گے کہ کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سرمائے کی پیدائش اور گردش کا عمل جمود سے نکل کر سرگرمی کی طرف مائل ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت کے وژن کے مطابق احتیاطی تدابیر بروئے کار لاتے ہوئے تعمیرات کے شعبے سے متعلق صنعتوں کو متحرک کرنے کی کاوشیں عوام کو آسانی فراہم کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے میں معاون ہوں گی۔ ان اقدامات سے قومی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی دیکھنے میں آئی اور روپے کی قدر میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان تمام اقدامات کا فائدہ یقیناًصارفین اور چھوٹے کاروباری افراد کو ہو گا۔ ایسے فیصلوں سے ہی کاروبار میں بہتری آئے گی، بے روزگاری اور غربت کی شرح میں بھی کمی واقع ہو گی۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، رواں سال جنوری میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 14 فیصد تھی جو فروری میں کم ہو کر 12.4 فیصد، مارچ میں 10.2 فیصد اور اپریل کے اختتام پر 8.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے جون کے شروع تک مہنگائی میں مزید کمی ہو گی۔ ماہرین کے خیال میں مہنگائی میں اس تیزی سے کمی کی ایک وجہ کورونا سے مختلف اشیاء کی طلب میں کمی بھی ہے۔کورونا کے باعث عالمی معیشت میں گراوٹ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ان حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا خود کو معاشی انہدام سے بچا لینا ہی اصل کامیابی ہو گی اور بڑی حوصلہ افزا بات سامنے آئی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کے خاتمے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا کام شروع ہو چکا ہے اب حالات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔

ان حالات میں حکومت کو بلا شبہ عوام کے لئے ہر سہولت کا اہتمام کرنا چاہئے تاہم معیشت کے کمزور شعبوں پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے اسے توانا بنانے کی ہر ممکن سعی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمیں متحد ہو کر کوششیں کرنی چاہئیں تا کہ معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہو سکے۔ اب اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ وقتی اسباب کے تحت معیشت میں رونما ہونے والی اس بہتری کو پائیدار بنایا جائے۔ ہنگامی مالی معاونت اور سہولتوں کو مستقل معاشی بہتری کا ذریعہ بنانے کے لئے کھلے ذہن اور نئی سوچ کے ساتھ حکمتِ عملی مرتب کی جائے اور اس مقصد کی خاطر وسیع تر مشاورت کا راستہ اپنانے میں کسی تذبذب کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔


ای پیپر