تنقید نہیں تحسین مقصود ہے لیکن…!
21 May 2020 (21:59) 2020-05-21

بزرگِ عزیز مکرمی و محترمی جناب پروفیسر عطاء الرحمٰن کی تحروں اور کالموں کے تناظر میں کچھ اہم ملکی واقعات اور معاملات و مسائل کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ اسی کو مکمل کرتے ہیں۔ ایک اور موضوع جس پر اکثر ایک ہی پہلو سے گفتگو کی جاتی ہے یا لکھا جاتا ہے وہ جہادِ افغانستان کا موضوع ہے۔ بڑی آسانی سے ہمارے پرجوش اینکرز اور تجزیہ نگار اور قلم کار کہہ دیتے ہے کہ امریکہ کی ایما پر لڑی جانے والی اس جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ ضیاء الحق نے اپنے اقتدارکو مستحکم کرنے کے لیے خواہ مخواہ اس میں ٹانگ اُڑائی اور پاکستان کو کلاشنکوف کلچر نصیب ہوا۔ یہ کسی حد تک درست ہے لیکن اس سے بڑھ کر درست حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے کیمونسٹ نظریات کے حامل حکمرانوں جو پاکستان دشمنی میں بھی کم نہیں تھے اور جن میں سردار داؤد (جو اپنے محسن افغانستان کے حقیقی حکمران ظاہر شاہ کو معزول کرکے اقتدار کا مالک بنا تھا) کا نام سرفہرست ہے اور بعد میں نور محمد تراکئی اور کچھ دوسرے حکمران بھی اس میں شامل ہوئے کے خلاف افغانستان کے اسلام پسند نوجوان رہنمائوں جن میں گلبدین حکمتیار، احمد شاہ مسعود اور استاد پروفیسر برُہان الدین ربانی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں نے تحریک مزاحمت جس کوپاکستان میں بھٹو حکومت کی پوری حمایت حاصل تھی 1975ء میں شروع اور منظم کرنی شروع کردی تھی۔ پشاور میں ان نوجوان راہنمائوں کی فوجی اور سیاسی تربیت کے لیے باقاعدہ کیمپ قائم ہوئے جن کی دیکھ بھال بھٹو کے انتہائی معتبر ساتھی جنرل نصیر اللہ بابر کے ذمہ تھی۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے بہت سارے نوجوان اس تحریک میں جوش و خروش سے حصہ لینے کے لیے سرگرم تھے۔ اس طرح یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ افغانیوں کی تحریک مزاحمت ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ خیر اس سے ہٹ کر ہم افغانستان پر روسی فوجوں کے قبضے کی طرف آتے ہیں۔ دسمبر 1979ء میں سینکڑوں ٹینکوں اور دوسرے جدید اور تباہ کن ہتھیاروں کی معیت میں ہزاروں یا لاکھوں کی تعداد میں روسی فوجیں دریائے آمو کے پُل کو پار کرکے افغانستان میں داخل ہوئیں اور کابل سے آگے بڑھ کر مشرق میں جلال آباد اورطورخم تک اور جنوب میں قندھار اور سپن بولدک تک آن پہنچیں تو اس بات کا قوی خطرہ تھا کہ وہ گرم پانیوں تک پہنچنے کے اپنے دیرینہ اور پسندیدہ منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستان کی سرحدوں کو پامال ہی نہیں کر سکتیں بلکہ بلوچستان کو روندتے ہوئے بحیریہ عرب تک رسائی بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ سوویت یونین جس کی تاریخ وسط ایشیاء کی وسیع و عریض مسلم ریاستوں پر غاصبانہ قبضے اور مشرقی یورپ کے ممالک ہنگری، پولینڈ، اور چیکو سلواکیہ کے خلاف فوج کشی سے عبارت تھی اس سے کسی بھی اقدام کی توقع کی جاسکتی تھی۔ ایسے میں پاکستان کے فوجی حکمران نے روسیوں کے خلاف افغانیوں کی تحریکِ مزاحمت ، عرفِ عام میں جسے جہادِ افغانستان کہا جا تا ہے کی پُشت پناہی کرنے اور روسیوں کے راستے میں سد سکندری بننے کا فیصلہ کیا تو اس سے بڑھ کر پاکستان کے حق میں جانے والا اور کیا فیصلہ ہو سکتا تھا۔ پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی تھی کہ یہ جہادِ افغانستان کی برکات ہی تھیں کہ امریکیوں کے دباؤ کے باوجود پاکستان اس کی آڑ میں اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوا۔

کارگل کی معرکہ آرائی ایک اور ایسا واقعہ یا ایشو ہے جس کے بارے میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے مابین نقطہ نظر میں اختلاف کو پیش کرنے کے لیے حقائق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کارگل میں مسلح مداخلت کا منصوبہ عرصے سے پاکستان کی فوج کی اعلیٰ کمان کے زیرِ غور چلا آرہا تھا۔ اس پر کئی بار پہلے بھی عمل در آمد کی کوشش کی گئی لیکن کسی نہ کسی وجہ سے عمل نہ کیا جا سکا۔ جنرل پرویز مشرف آرمی چیف بنے تو انہوں نے اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹنٹ جنرل عزیز اور کچھ دوسرے اعلیٰ فوجی افسروں کی مشاورت سے اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو 5فروری 1999ء کو کشمیر میں اگلے مورچوں تک لے جایا گیااور کارگل پر چڑھائی کے بارے میں کچھ معلومات مہیا کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے

اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اُس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری شجاعت حسین کے مطابق بعد میں بھی کئی اجلاس ہوئے جن میں فوج کے جرنیلوں نے وزیرِ اعظم اور سویلین قیادت کو اس منصوبے کے مختلف پہلوں سے کچھ لگی لپٹی رکھ کر آگاہ کرنے کی کوشش کی ۔ اس طرح کارگل کی معرکہ آر ائی شروع ہو گئی۔ مئی 1999ء میں پاکستان نے جب اگلے مورچوں پر بھارت کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا تو بھارت نے واویلہ مچانا شروع کیا اور عالمی برادری کو پاکستان کی فوجی مداخلت سے آگاہ کیا اور اس بات کے ثبوت مہیا کئے کہ کارگل کے اگلے مورچوں میں مجاہدین کے ساتھ پاکستان کی باقاعدہ فوج کے مسلح دستے بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری نے بھارت کے اس مؤقف کو تسلیم کر تے ہوئے پاکستان کو جارح اور درانداز قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی ۔ اس طرح پاکستان کے لیے انتہائی نازک اور مشکل صورتِ حال ہی پیدا نہ ہوگئی بلکہ پاکستان کی سویلین قیادت اور اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان ایک طرح کے اختلافات اور سردمہری کی کیفیت نے بھی جنم لیا۔ اب مسئلہ پاکستان کے فوجی دستوں کی کارگل کے اگلے مورچوں سے محفوظ انخلاء کا تھا اس کے لیے وزیرِ اعظم میاں محمد نوازشریف کو امریکی صدر بل کلنٹن سے مدد لینی پڑی۔ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف امریکہ گئے اور 4 جولائی1999ء کو صدر کلنٹن کی معاونت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی منظوری سے معاہدہ طے پایا ۔ یہ ایک طرح کی پاکستان کی ہزیمت اور ناکامی کا ثبوت تھا۔فوج کی کمان وزیر اعظم محمد نواز شریف کی کمزوری کا دبے لفظوں میں اظہار کرنے لگی جبکہ سویلین قیادت کا موقف جو بڑی حد تک صحیح تھا یہ تھا کہ صدر کلٹن کی مدد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات طے نہ پاتے تو دونوں کے درمیان جنگ شروع ہو سکتی تھی اور بھارت کو عالمی برادری کی پوری حمایت حاصل ہوتی۔اس سیاق و سباق میں وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ وزیرِ اعظم میاں محمد نوازشریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی دورہ سری لنکا سے واپسی کے دوران جب اُن کا جہاز ابھی فضا ء میں موجود تھا ان کی برطرفی کا حکم جاری کیا جسے فوج کی اعلیٰ قیادت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔فوجی دستوں نے وزیر اعظم ہائوس پر قبضہ کرکے میاں محمد نواز شریف اور ان کے بیٹے حسین شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو حراست میں لے لیا۔ اس طرح جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ جما لیا ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اور جنرل پرویز مشرف کا دس سال تک اقتدار قائم رہا اور پاکستان کو جس طرح کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے یہ واقعات اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں ، ان کا تذکرہ صحیح تناظر میں ہو تو یقینا ہمیں انہیں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ لیکن انہیں مخصوص نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر اگر پیش کیا جائے گا تو پھر کسی (اپنے ممدوح ) کی بے جا حمایت اور دوسرے کے بے جا مخالفت کی صورت حال سامنے آئی گی جس سے مقبولیت میں فرق آنا ضروری ہے۔ ان دنوں ایک اور معاملہ ایسا ہے جس کو ذاتی پسند و ناپسند یا مخصوص فکر و سوچ یا فریقین میں سے کسی ایک کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کی تناظر میں زیر بحث لایا جا رہا ہے یہ مسلم لیگ ن کے بیانیے کا معاملہ ہے کہ کیا مسلم لیگ کا بیانیہ وہی ہے جو میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحب زاردی محترمہ مریم نواز کا ہے یا میاں شہباز شریف کا بیانیہ ان سے کچھ ہٹ کر ہے۔ کچھ حلقے میاں محمد شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو کی بناء پر انہیں تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اور انہیں مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے کے درپے ہیں۔ شہباز شریف کو بے شک تنقید کا نشانہ بنالیا جائے لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ شہباز شریف کو مائنس کرکے محض میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف کے بیانیے پر چل کر مسلم لیگ ن اپنے مقام اور مرتبے کو کسی صورت میں قائمنہیں رکھ سکتی۔


ای پیپر