بھارت مقبوضہ کشمیرمیں مزاحمت کا ہر نشان مٹانا چاہتا ہے ، سردار مسعود خان
21 May 2020 (18:37) 2020-05-21

مظفرآباد: صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں نازی طرز کے قوانین نافذ کر کے علاقے کو ہندو اکثریتی علاقہ بنانے کے لئے مزاحمت کا ہر نشان مٹانا چاہتا ہے۔ جنید صحرائی، طارق احمد اور بارہ سالہ یاسم اعجاز کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ نواکدل کے دو نوجوانوں کو شہید کرنے کے لئے سترہ رہائشی مکانات کو بارود سے جلا کر خاک کے ڈھیر میں تبدیل کرنا مودی کی سفاکی، گھمنڈ اور غرور کی ایک جھلک ہے جسے خاک میں ملانے کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ورنہ وہ یہی عمل آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھی دھرائے گا۔

جمعرات کے روز ایوان صدر مظفرآباد سے جاری ہونے والے ایک خصوصی بیان میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی قابض افواج کی طرف سے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور ان کی جائیداد کو تباہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بزدل فوج پاکستان کی فوج کے ساتھ لڑنے کی ہمت نہ پا کر کمزور اورنہتے شہریوں کے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کے ساتھ بد سلوکی کرتی ہے اور نوجوان جب بھارتی قابض فوج کے مظالم اور بدسلوکی پر مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں مجاہد اور علیحدگی پسند قرار دے کر یا تو شہید کر دیا جاتا ہے یا گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت جب یہ دیکھتی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام پانچ اگست 2019کے اقدامات، ہندو توا نظریہ، بھارت کے غیر قانونی جارحیت اور دوبارہ قبضہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ اس کا انتقام صرف کشمیر کے انسانوں سے ہی نہیں بلکہ پتھروں اور درختوں سے بھی لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کرونا وائرس کی وباء کی آڑ میں کشمیریوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لیکن بھارت کے ظلم کا کوئی بھی حربہ کشمیریوں کے پائے استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں لا سکتا ہے کیونکہ کشمیری عوام نے یہ تہیہ کر رکھا ہے وہ آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہونگے اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ نئے ڈومیسائل قوانین کا مقصد بھارتی ہندئووں کو کشمیر کا شہری بنا کر مقبوضہ ریاست کے اسلامی تشخص کو ختم کرنا اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نسل کشی اور قوانین میں تبدیلی لاکر غیر ریاستی ہندوئوں کو کشمیر کا شہری بنا کر کشمیریوں کی جدوجہد کو ختم کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے کشمیر کیاندر ظلم و بربریت اور کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی کوششوں کا سخت نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


ای پیپر