یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(سترہویں قسط )
21 May 2020 2020-05-21

وزیراعظم سے حالیہ ملاقات میں کوروناوائرس پر ہونے والی گفتگو کے حوالے سے گزشتہ میں، میں یہ عرض کررہا تھا، میں نے انہیں یہ مشورہ دیا پاکستان میں حکومت کی جانب سے لوگوں کے لیے، خصوصاً صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے پیدا کیے جانے والے مختلف مسائل کے باعث اس بار آپ نے وزیراعظم کو رونا ریلیف فنڈ میں چندہ دینے کی جواپیل کی ہے اسے شاید پذیرائی نہ مل سکے، کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ دوبرسوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے لوگ بے پناہ مالی مشکلات کا شکار ہیں، چوبیس پچیس لاکھ سے زائد لوگ اب تک بے روزگار ہوچکے ہیں،.... جہاں تک اوورسیز پاکستانیوں کا تعلق ہے کورونا وائرس کی وجہ سے وہ خود بے پناہ مسائل کا شکار ہیں، مالی مسائل بھی ان میں شامل ہیں، اوپر سے مشکل کی اس گھڑی میں وہ اپنی پاکستانی حکومت خصوصاً اپنی وزارت خارجہ سے جس اخلاقی مدد کی توقع کررہے تھے وہ پوری نہیں ہوسکی، مختلف ممالک میں موجود اکثر پاکستانی سفارتخانوں سے اپنے اپنے ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، انہیں کوئی مدد فراہم کرنا تو دورکی بات ہے کسی معاملے میں انہیں رہنمائی بھی فراہم نہیں کی، ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کے فی الحال تقریباً فارغ ہونے پر اتنے خوش ہیں وہ سمجھتے ہیں اب بطور وزیر خارجہ کوئی کارکردگی وہ نہیں بھی دکھائیں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اُن کے راستے میں حائل ہردیوار گرچکی ہے ، جس وقت اُنہیں ذراسا بھی یہ اندازہ ہوجائے وزیراعظم کسی معاملے میں ان سے ناراض ہیں، یا اُن کی وزارت کی کارکردگی سے ناخوش ہیں وہ فوراً یہ کرتے ہیں توپوں کا رُخ اپنی سابقہ پارٹیوںکے سربراہان کی طرف کردیتے ہیں، ان کے اس عمل سے وزیراعظم تو پتہ نہیں اُن سے خوش ہوتے ہیں یا نہیں، البتہ اُن کی اپنی توپوں میں کیڑے ضرورپڑ جاتے ہیں، اچھا بھلا اُن کا امیج بنا ہوا تھا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں اُنہوں نے بطور وزیر خارجہ استعفیٰ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر دیا تھا، اس حوالے سے وہ پوری دنیاسے خراج تحسین وصول کرچکے تھے، اور خود کو پاکستان کا سب سے بڑا ”محب وطن“ بھی ظاہر کرچکے تھے، اب اس حوالے سے جو باتیں سامنے آرہی ہیں ان کی یہ سابقہ حیثیت اچھی خاصی مشکوک ہوگئی ہے ، مختلف حوالوں سے ”انکشافات“ ہورہے ہیں ان کے استعفیٰ کی ”اصل کہانی“ کیا تھی؟ ، ہماری اُن سے بس اتنی گزارش ہے اپنی ”سابقہ پارٹیوں“ پر تنقید کرنے میں ہاتھ ذرا ہولا رکھا کریں، ممکن ہے کل کلاں اُنہیں اپنی کسی ”سابقہ جماعت “میں واپس جانا پڑ جائے، ایسی صورت میں اُنہیں شرمندگی ذرا کم ہوگی، بہرحال میں کورونا کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کے سفارتخانوں کی کارکردگی بارے بات کررہا تھا، صرف جاپان، سپین اور پرتگال کے سفارتخانوں کے حوالے سے میں نے سنا وہ پاکستانیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، اور مختلف حوالوں سے اُن کی مشکلات کم کرنے کی کوششوں میں ہیں، امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے ، اس کے باوجود کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسعد مجید خان وزارت خارجہ کے ایک قابل افسر ہیں، پر افسوس قابلیت دکھانے کا جب اصل وقت آیا ان سے وابستہ اُمیدیں ”فارغ“ ہوگئیں، میں سوشل میڈیا پر امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی کورونا کے حوالے سے روزانہ چیخ وپکار سنتا ہوں یوں محسوس ہوتا ہے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانہ شاید بند کردیا گیا ہے ؟ یا پھر امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر بغیر کسی وجہ کے یا کسی متوقع خوف کے تحت شاید قبل ازوقت ”قرنطینہ“ میں چلے گئے ہیں، دوسری جانب مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں سپین بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے کی کارکردگی بارے سنتا ہوں کہ ان دنوں یہ قونصل خانہ چوبیس گھنٹے کھلارہتا ہے اور بارسلونا میں مقیم پاکستانیوں سے مسلسل رابطے میں ہے ، .... وزیراعظم کو میں نے اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا، میں نے اُن سے گزارش کی وہ دنیا بھر میں قائم شدہ پاکستانی سفارتخانوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے یہ خاص طورپر یہ خط لکھیں کہ وہ ان دنوں پاکستانیوں سے اپنا رابطہ بڑھا دیں، اور ایسا طریقہ اختیار کریں اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے سفارتخانے یا سفیر سے رابطہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو، میری اس بات کو وزیراعظم نے اپنے سامنے رکھی ڈائری میں نوٹ کرلیا، میں نے ازرہ مذاق ان سے کہا ”کام تو یہ آپ کے وزیرخارجہ کا ہے مگر آپ کا وزیر خارجہ جس طرح کچھ کام وزیراعظم کے کرنے والے کرلیتا ہے ، تو کوئی حرج نہیں آپ بھی ایک کام وزیرخارجہ کے کرنے والا کرلیں“ .... اس کے علاوہ وزیراعظم سے میں نے گزارش کی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً اٹلی، جرمنی اور سپین میں مقیم کچھ پاکستانی مختلف بیماریوں یا حادثات کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں، ان کے عزیزواقارب ان کی میتیں پاکستان میں لاکر دفنانا چاہتے ہیں، جو ان کا حق ہے ، مگر کورونا کی وجہ سے فلائٹ آپریشن بند ہونے پر وہ یہ نہیں کرپارہے ، بے شمار پاکستانیوں کی ڈیڈ باڈیز ”ڈیڈ ہاﺅسز“ میں پڑی ہیں، لوگ منتظر ہیں کب فلائٹیں شروع ہوں اور وہ اپنے پیاروں کی میتیں پاکستان لاکر دفنا سکیں، آپ کو چاہیے اس ضمن میں کچھ خصوصی فلائٹیں کا بندوبست کریں جن کے ذریعے یہ میتیں پاکستان لائی جاسکیں۔ انہوں نے میری یہ تجویز بھی ڈائری میں نوٹ کرلی، فرمایا وہ آج ہی اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور شخصیات کو ہدایت جاری کریں گے ان ممالک کی حکومتوں کی مشاورت سے اس عمل کو جلداز جلد مکمل کیا جائے ، .... وزیراعظم کی خدمت میں، میں نے عرض کیا اوورسیز پاکستانیوں نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کی دل کھول کرمدد کی ہے ، خصوصاً شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر میں، اور اب اسے چلانے اور کامیاب کرنے میں اوورسیز پاکستانیوں نے جو یادگار کردار ادا کیا، اُس پر اُن کا حق بنتا ہے پہلی بار کرورنا کی صورت میں وہ شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں تو آپ اُن سے چندہ وغیرہ مانگنے کے بجائے ان کی مدد کریں۔ (جاری ہے )


ای پیپر