مُلک، ملِک، اور مالکِ کُل
21 May 2020 2020-05-21

قارئین ، میں نے پچھلی تحریروں میں ذکر کیا تھا، علماءکرام کا اس حوالے سے میں اپنی رائے پہ حضرت علی عثمان عجویریؒ کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے ان کا نقطہ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں، ایسی شخصیت اور ایسا حضور کا غلام کہ جن کی بدولت برصغیر میں کروڑوں عوام مسلمان ہوئے،وہ کہتے ہیں، کہ ابوالحسن نوریؒ، حضرت جنیدؒ کے مرید تھے، اور حضرت سریؒ کے مریدتھے، حضرت احمد بن حوادیؒ کے بارے میں کہتے ہیں، کہ میں نے سنا کہ آپ تین روز، مسلسل رات دن ایک ہی جگہ کھڑے ہوکر آہ وبکا کررہے تھے، لوگوں نے حضرت جنیدؒ کو جاکر بتایا، کہ حضرت احمد بن حواریؒ ایک ہی جگہ پر کھڑے ہوکر آہ وبکامیں مصروف ہیں، یہ سن کر وہ آئے اور فرمایا اے ابوالحسن نوری، اگر تجھے علم ہے، کہ آہ وبکا ، شوروغل اور خروش کرنے سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے سودمند اور فائدے کا باعث ہے، تو مجھے بھی بتا، تو میں بھی تیرے والا طریقہ اختیار کروں، اور اگردل سے تو تسلیم کر، کہ محض شوروغل سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا، تو یہ سب بند کر۔

یہ سن کر حضرت نوریؒ نے شوروغل سے توبہ کی، اور کہا، کہ اے ابوالقاسم تو کتنا اچھا معلم ہے۔ آخر میں حاصل کلام یہ ہے، اور تجربات زندگانی، اور طریق بندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ جوہرمسلمان کو اپنے پلے باندھ لینا چاہیے ، واضح رہے کہ حضرت نوریؒ اپنے زمانے کا ذکر فرمارہے ہیں، آپ خود اندازہ لگا لیں کہ موجودہ دور جس میں ہم اور آپ زندگی بسر کررہے ہیں، وہ گزرے دورسے کتنا دور اور بعید ہے، وہ فرماتے ہیں، کہ ہمارے زمانے میں دوچیزیں نہایت کمیاب ہیں، ایک ”عالم“ جو اپنے علم پر کاربند ہو، دوسرا وہ عارف جو اپنی حقیقت حال کو بیان کرے، ”علم بے عمل“ نہیں ہوتا، معرفت بے حقیقت معرفت نہیں ہوتی۔ نوریؒ فرماتے ہیں، یہ دونوں چیزیں ہرزمانے میں کم دستیاب ہوتی ہیں، جوشخص بھی کسی عالم یا عارف کو تلاش کرتا ہے، تومحض اپنا وقت ضائع ہوتا ہے، اور سوائے پریشانی کے اُسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا وقت ضائع کرنے کی بجائے محض اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے ”باعمل“ ہونا چاہیے، تاکہ ساری دنیا عالم نظر آئے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے، تاکہ ساری دنیا عارف نظر آئے، عالم وعارف کم یاب ہوتے ہیں اور کم یاب اور انمول چیز مشکل سے ملتی ہے۔خاص طورپر جس چیز کا ادراک، اور پہچان مشکل ہو، اس وجود کی تلاش وقت ضائع کرنے کے سواکچھ نہیں ہوتی۔

علم اور معرفت اپنی ذات سے طلب کرنی چاہیے، ورنہ بقول شاعر نیر

ضرور اپنی عقیدت میں کمی تھی

جو ساری بندگی غارت ہوئی ہے

لہٰذا حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے فی الفور اور بغیر وقت ضائع کیے بغیر، جب ہرذی روح کو یہ بھی نہ پتہ ہو، کہ وہ اگلا سانس لے بھی سکے گا یا نہیں تو اسے فوراً باعمل ہوجانا چاہیے، ان کا فرمان ہے، کہ جولوگ ہرچیز کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں، اسے من جانب اللہ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ملِک اور مُلک کا قیام مالک سے ہوتا ہے، راحت، خوشی اور انبساط خالق کی جانب دیکھنے سے ہوتی ہے، مخلوق پر نظر کرنے سے نہیں، اشیاءکو سبب افعال سمجھنے میں مصیبت ہے، اسی لیے سید مظفر علی شاہ فرماتے ہیں، کہ

باعث رنج ہوئی، واقف آلام ہوئی

زندگی تیرے بنا مورد الزام ہوئی!

ایک سالک کے لیے اشیائے دنیا کی طرف دیکھنا شرک ہے، کیونکہ اشیاءکو فعل یا عمل کا سبب سمجھنا، اسباب میں لے ڈوبتا ہے، اور نجات صرف ومسبب آلاسباب کی طرف رجوع کرنے سے ہوتی ہے، اور پھر وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوتا ہے،

تیرگی کا چاک ہو سینہ کبھی

اے خدائے کن فکاں، ایسا بھی ہو

محمد بن واسعؓ کا فرمان ہے کہ میں نے کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی، جس میں جلوہ حق نہ ہو، یہ مقام مشاہدہ ہے، جس طرح تصویر کو دیکھ کر مصور کا خیال آتا ہے۔

اس قول کا تعلق حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ہے، کہ آفتاب ماہ تاب اورستارے کو دیکھ کر کہا کہ ” یہ رب ہے“ یہ غلبہ شوق تھا، جس کی وجہ سے ہرچیز میں محبوب، چہرہ نظرآرہا تھا۔ یہ لطائف ورموز ہیں، کہ اشیاءکو خالق کو دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ نشانات قدرت اور دلائل نظر آتے ہیں۔

قارئین ، میں نے آپ سے بات کی تھی، مالک اور ملِک کی، کیونکہ مالک کل تو شہنشاہ کل وکون ومکاں ، جسے سیاح لامکاں، یعنی اصل بانی ریاست مدینہ حضرت محمد کے سوا نہ تو عوام جانتے ہیں، اور نہ ہی حکمران مالک کل، توہماری زبان سے نکلا ہوا، ہرلفظ اور ہرعمل اپنے ملائک کے ذریعے لوح محفوظ میں محفوظ کرادیتا ہے۔

مگر وہ اوپر والا اپنے فیصلے”محفوظ“ نہیں کرتا، بلکہ ہرلمحہ اور راتدن مصروف عمل رہتا ہے کسی کی رسی دراز کردیتا ہے، اور کسی کو جوابداہی کے لیے اپنے پاس بلا لیتا ہے، مگر اس کو تو زبان ملانے کی بھی ضرورت نہیں ہے....مگر میں حیران ہوں، چاہے، کوئی کافر ہو، یا مسلمان، قادیانی ہو یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا انسان ، جان تو اس نے جان آفرین کے سامنے ایک نہ دن پیش کرنی ہی کرنی ہے، تو اس کو کروڑوں انسانوں کا بھی جواب دینا پڑے گا، اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت کرے .... آمین ۔


ای پیپر